حیران ہیں حکومت ادارے کیسے چلا رہی ہے ،انشورنس ٹربیونلز کو فعال کرنے کا حکم دیتے ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے ریمارکس

حیران ہیں حکومت ادارے کیسے چلا رہی ہے ،انشورنس ٹربیونلز کو فعال کرنے کا حکم ...
حیران ہیں حکومت ادارے کیسے چلا رہی ہے ،انشورنس ٹربیونلز کو فعال کرنے کا حکم دیتے ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے ریمارکس

  


لاہور(نامہ نگارخصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے3ماہ میں پنجاب بھر میں انشورنس ٹربیونلز مکمل فعال کرنے کا حکم دیتے ہوئے قرار دیا کہ لگتاہے کہ حکومتیں 17برسوں سے سوئی ہوئی ہیں، ہر کیس دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے ، پتہ نہیں حکومت کیسے اداروں کو چلا رہی ہے۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ 3ماہ میں پنجاب بھر میں انشورنس ٹربیونلز فعال کئے جائیں، اگر عدالتی حکم پر عمل نہ کیا گیا تو وزارت قانون کے متعلقہ افسر توہین عدالت کی کارروائی کیلئے تیار رہیں۔

ٹرمپ کی اہلیہ کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش، میلانیا نے بے اعتنائی سے جھٹک دیا

چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے پنجاب میں انشورنس ٹربیونلز کو فعال کرنے کے لئے دائر درخواست پر سماعت کی، درخواست گزاروں کی طرف سے بتایا گیا کہ وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ انشورنس آرڈیننس کے تحت ہر صوبے کے ہیڈکوارٹرز میں انشورنس ٹربیونلز کو فعال کرے لیکن 17برس گزرنے کے باوجود یہ ٹربیونلز فعال نہیں کئے گئے، وزارت قانون کی طرف سے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل حنا حفیظ اللہ خان نے موقف اختیار کیا کہ انشورنس ٹربیونلز کو فعال کرنے کیلئے چار ماہ کا وقت دیا جائے، عدالت نے دلائل سننے کے بعد حکم دیا کہ 3ماہ میں پنجاب بھر میں انشورنس ٹربیونلز فعال کئے جائیں، اگر عدالتی حکم پر عمل نہ کیا گیا تو وزارت قانون کے متعلقہ افسر توہین عدالت کی کارروائی کیلئے تیار رہیں، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ حکومت 17برس سے سوئی ہوئی ہے، کسی کو فکر نہیں کہ انشورنس ٹربیونلز بنانے ہیں، ہر کیس دیکھ کر حیرانگی ہوتی ہے کہ پتہ نہیں حکومت کیسے اداروں کو چلا رہی ہے، عدالت کو بتایا گیا کہ پنجاب کے ہر ہیڈکوارٹر میں ایک ایڈیشنل سیشن جج کو بطور انشورنس ٹربیونل کام کرنے کی اضافی ذمہ داری سونپی گئی ہے جس پر عدالت نے حکم دیا کہ صوبے کے جن ہیڈکوارٹرز میں عارضی انشورنس ٹربیونلز کام کررہے ہیں وہ مستقل ٹربیونلز کی تعیناتی تک کام کرتے رہیں گے، عدالت نے مزید سماعت 22اگست تک ملتوی کر دی۔

مزید : لاہور