قومی اسمبلی کا اجلاس کل طلب، بجٹ جمعہ کو پیش کیا جائے گا

قومی اسمبلی کا اجلاس کل طلب، بجٹ جمعہ کو پیش کیا جائے گا
قومی اسمبلی کا اجلاس کل طلب، بجٹ جمعہ کو پیش کیا جائے گا

  


اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) صدر مملکت ممنون حسین نے کل قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرلیا ہے، اجلاس سہ پہر 3بجے طلب کیا گیا ہے۔

ہائی کورٹ تلور کے شکار کی اجاز ت دینے پر حکومت سے جواب طلب

تفصیلات کے مطابق قومی صدر مملکت نے قومی اسمبلی کا اجلاس کل طلب کر لیا ہے جبکہ اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2017-2018کا بجٹ جمعہ کو پیش کیا جائے گا۔دوسری طرف ایوان بالا سینیٹ کا اجلاس بھی کل شام 6بجے ہوگا۔

بلوچستان کی ترقی سے پڑوسی ممالک اور بعض سیاست دان پریشان ہیں، چین پاکستان کے لئے ہیرو سے ولن نہیں بلکہ سپر ہیرو بنے گا: احسن اقبال

واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں بجٹ کی منظوری دی گئی تھی اور وزیراعظم کو ملک کے اقتصادی مقاصد اور ترقیاتی بجٹ پر بریفنگ دی گئی تھی۔ وزیراعظم نے مجموعی طور پر 2113ارب کے ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی تھی۔ جبکہ اگلے مالی سال میں جی ڈی پی کے گروتھ ریٹ کی شرح 6فیصد رکھی گئی ہے۔

وہ وقت جب زرداری کے والد نے آئی جی سندھ شعیب سڈل کو کہا کہ اس شخص کو ایس ایچ او لگادیں، آئی جی نے ایسا جواب دیا کہ سن کر آپ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوجائیں گے

نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق آیندہ مالی سال میں بجلی کے203منصوبوں پر385ارب روپے خرچ کرنےکاتخمینہ لگایا گیا ہے جس کے تحت سرکاری وسائل سے60ارب روپے باقی واپڈا اور پیپکو خرچ کریں گے۔بجٹ دستاویزات کے مطابق دیامیر بھاشا ڈیم کیلیے 29ارب روپے ،داسوہائیڈرو پاورپروجیکٹ کیلیے53ارب77کروڑ ، نیلم جہلم ہائیڈروپاورپروجیکٹ کیلیے19ارب57کروڑروپے، تربیلاڈیم توسیعی منصوبے کے لئے16ارب39کروڑروپے، جامشورو کول پاور پروجیکٹ کیلیے 16ارب23کروڑ روپے ، بلوکی ایل این جی پاور پلانٹ کیلیے 39ارب25کروڑ روپے ، بہادرشاہ پاور ایل این جی پاور پلانٹ کے لئے 37ارب 18کروڑ روپے ، تھرکول پاور پروجیکٹ کے لیے 10ارب روپے، نیلم جہلم پاورپروجیکٹ سے بجلی کی ترسیل کیلئے 5.2ارب روپے جبکہ بن قاسم کراچی سے بجلی کے ترسیلی نظام کے لئے 8ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

ٹرمپ کی اہلیہ کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش، میلانیا نے بے اعتنائی سے جھٹک دیا

کابینہ کی اقتصادی کمیٹی برائے اقتصادیات ایکنیک نے ملک میں اگلے مالی سال کے لیے 2.113کھرب کے ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی تھی۔ جس میں سے 1.001کھرب روپے وفاقی حکومت کے ترقیاتی کاموں کےلیے مختص کیے گئے ہیں جبکہ باقی رقم صوبائی حکومتوں کے لیے مختص کی گئی ہیں۔

مزید : بزنس