تبدیل ہوتی دنیا اور دست و گریباں پاکستان

تبدیل ہوتی دنیا اور دست و گریباں پاکستان
تبدیل ہوتی دنیا اور دست و گریباں پاکستان

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پاکستان اس وقت جن حالات سے گزر رہا ہے اور جس افراتفری، متضاد بیانیے، اداروں کے بیچ مخاصمت، سیاسی جماعتوں میں کھینچاتانی، ملکی سرحدوں پر بد امنی اور اقتصادی حالت مخدوش ہونے کے باوجود ہمارے بڑے اپنی اپنی ضدوں اور اناوں پر ڈٹے ہوئے ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کرنے میں مصروف ہیں۔ ایسے میں مجھ ایسے بے بس شہری مخمصے کا شکار ہو کر سوچ رہے ہیں کہ کیا ہماری بھی کو سنے گا؟ کبھی اس ملک میں ہماری رائے کو بھی کوئی اہمیت ملے گی؟ ہم کس کا ساتھ دیں؟

پاکستان میں ووٹر کا ذہن کون بناتا ہے۔ پھر ووٹر کی حیثیت ہی کیا ہے، کبھی آپ نے خود ووٹر، سپورٹر حتیٰ کہ اپنے عوامی نمائندوں تک کو کوئی اہمیت دی ہے؟ دیں گے بھی کیوں کر، آپ تو جانتے ہیں کہ اقتدار کی ڈوریاں کہاں سے ہلتی اور ملتی ہیں۔

آپ کو تو یہ بھی پتا ہے کہ ووٹ، لغاریوں، مزاریوں، کھوسووں، مانیکوں، ساہیوں، جتوئیووں، کھروں، سرداروں، چٹھوں اور مختلف برادریوں کے ہیں۔

اسی لئے تو آپ نے بھی 2013ء کے الیکشن میں امیدواروں کے چناؤ کے وقت ان کی بس ایک ہی خوبی کو مد نظر رکھا کہ ان کے پلڑے میں ووٹ اور نوٹ کتنے ہیں، اس سے کیا غرض کہ وہ کل تک ایک آمر کی جھولی میں بیٹھ کر آپ پر لعن طعن کر رہے تھے یا اس سے پہلے آپ کی حریف جماعت پیپلزپارٹی کے اقتدار کے نشے لے رہے تھے۔ ورنہ آپ جاوید ہاشمی ، الٰہی بخش سومرو اور پیر صابر شاہ کو نظر انداز کر کے، دانیال عزیز، لیاقت جتوئی اور پرویز مشرف کے منہ بولے بھائی امیرمقام کو اتنا اعلیٰ مقام دیتے؟دوسری طرف ہماری ایک اور بہت بڑی سیاسی قوت دھرنوں اور احتجاج کی چیمپیئن جماعت جس کی طرف اقتدار خود پیش قدمی کر رہا ہے اس کے قائد بھی انہی الیکٹ ایبل کو اپنے گرد جمع کرنے میں اور اقتدار کے بیل کی ڈوری والوں کا منظور نظر بننے میں مصروف ہیں۔

وہی جعفر لغاری جو کبھی ضیاء الحق کے منظور نظر تھے، پھر پیپلزپارٹی کے ایم این اے تھے، پھر ن لیگ کے اقتدار سے محظوظ ہوتے رہے پھر قاف لیگ کی ٹکٹ سے جیتے اور اب ن لیگ کی حکومت کے مزے لوٹنے سے ابھی فراغت نہیں ملی تھی کہ پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے۔

اب ووٹر کس جماعت کو ووٹ دے گا؟ ووٹر کو تو ہر جماعت کے پلیٹ فارم سے ووٹ تو جعفر لغاری ہی کو دینا ہے تو پھر ووٹر اور ووٹ کی عزت کیا؟ افضل ساہی بھی ابھی کل ہی پی ٹی آئی میں شامل ہوا ہے۔ اور تو اور ماروی میمن صاحبہ حکومتی عہدہ ہوتے ہوئے بھی میاں نواز شریف سے فاصلہ قائم کر رہی ہیں۔

تیسری بڑی یا موجودہ پارلیمان کے حساب سے دوسری بڑی سیاسی جماعت جس کا سلوگن ہی اسٹیبلشمنٹ کے سامنے ڈٹ جانا تھا، جو پاکستان کی نظریاتی پارٹی سمجھی جاتی رہی ہے یعنی پیپلزپارٹی، اس کے قائد نے بھی اب ہوش کے ناخن لے لئے ہیں اور ان کے دماغ میں بھی یہ بات آگئی ہے کہ اقتدار کے منہ زور گھوڑے کی لگام جن کے ہاتھ میں ہے ان سے ہاتھ ملانے میں کوئی حرج نہیں، اب ہم نے ہی کیوں ساری حیاتی جیلوں اور جلا وطنی میں گزارنی ہے۔ وہ بھی اپنا حصہ وصول کر رہے ہیں۔

یہ تو تھا احوال ہماری سیاسی اور جمہوری جماعتوں کا۔

پچھلے کچھ عرصے سے ہماری اعلی عدلیہ بھی اپنی طاقت کے مظاہر دکھانے میں مصروف ہے اور از خود نوٹس کا خوف اور دباو ڈالے ہوئے ہے ہمارا میڈیا بھی کسی سے پیچھے نہیں ہے اور اپنی ریٹنگ کی دوڑ میں سر پٹ ہے۔

اب ان موجودہ حالات و واقعات میں پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ دنیا میں بہت سی نئی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، امریکی صدر ٹرمپ پوری دنیا کی رائے کو نظر انداز کر کے اپنے آمرانہ رویئے سے دنیا کے امن کو خطرے سے دوچار کیے ہوئے ہیں جس کی حالیہ مثالیں ’’یورپ کی مخالفت کے باوجود ایران سے جوہری توانائی کے معاہدے سے انحراف، شام کی مخدوش صورت حال اور فلسطینیوں کی تڑپتی لاشوں کے اوپر سے گزر کر مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی سفارت خانے کی منتقلی‘‘ سب سامنے ہیں۔

ادھر شمالی اور جنوبی کوریا میں اچانک دوستی وغیرہ وغیرہ۔ان حالات میں ہمارے بڑوں کو سر جوڑ کر نہیں بیٹھنا چاہیے؟کیا وطن عزیز میں کوئی ایک بھی ایسا راہنما نہیں ہے جو حالات کی نزاکت کا ادراک رکھتا ہو اور ملکی قیادت کو ایک میز پر آمنے سامنے بٹھا کر ملکی مفاد میں فیصلے کروا سکے؟ قوموں کی تعمیر کرنے والے راہنما قدم گنتے ہیں نہ مالیات کے میزان کو مد نظر رکھتے ہیں، کیا ہمارے ملک میں کوئی ایسا تھنک ٹینک بھی نہیں ہے؟ متنازعہ انٹرویو کرنے والے اور تنازعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے والے میڈیا پرسنز میں کوئی ایک بھی نہیں جو جلتی پر تیل ڈالنے کی بجائے ٹھنڈا پانی ڈالنے کا کردار ادا کر سکے؟ افسوس صد افسوس کہ ہمارے بڑے اپنے اپنے مفادات میں گھر کر اتنے چھوٹے ہو گئے ہیں کہ اپنے اوپر منڈلاتے خطرات کو بھی دیکھنے سے عاری ہیں یا پھر انتقام کی آگ نے ان کو اندھا کر رکھا ہے۔ یہ ملک ہم سب کا ہے اور یہ ملک ہے تو ہم بھی ہیں تو پھر کیوں ہم اپنے مسائل کا ادراک نہیں کرتے اور ملک میں اتفاق رائے کی فضا ہموار نہیں کرتے؟

مزید : رائے /کالم