ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی جارحیت

ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی جارحیت
ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی جارحیت

  



ایک طرف تو بھارت دنیا بھر میں جمہوریت کا دعوے دار بنتا ہے دوسری طرف جمہوری اصولوں اور عوام کے بنیادی حقوق کو پامال کرنے میں اس کا کوئی ثانی نہیں۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی تو عشروں سے جاری ہی ہے، لیکن وقتاً فوقتاً بھارت کی جانب سے ورکنگ باؤنڈی اور لائن آف کنٹرول کی بھی صریح خلاف ورزی کی جاتی ہے، جس میں اب تک سینکڑوں بے گناہ شہری شہید اور زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ ان کی املاک کی تباہی کا سلسلہ بھی جاری ہے، گزشتہ دنوں ایک مرتبہ پھر بھارتی سیکیورٹی فورسز نے جمعتہ المبارک کی سحری کے وقت سیالکوٹ ورکنگ باؤنڈری کے ہرپال، چپراڑ، چاروا، ظفروال اور شکر گڑھ سیکٹرز کے درجنوں دیہات پر فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ شروع کردیا، جس سے ہرپال سیکٹر کے گاؤں اکھنور میں ایک ہی خاندان کے چار افراد اور بچوں سمیت چھ افراد شہید اور بائیس زخمی ہو گئے۔بھارتی سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ او ر گولہ باری سے درجنوں سرحدی دیہات کے مکان تباہ ہوگئے، جبکہ کثیر تعداد میں پالتو جانور ہلاک اور زخمی ہوئے۔

بھارتی سیکیورٹی فورسز کی گولہ باری کے باعث سرحدی دیہات کے شہری محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہورہے ہیں ۔ پاکستان کی طرف سے چناب رینجرز نے بھرپور جوابی کارروائی کرکے دشمن کی متعددچوکیوں کو نقصان پہنچایااور انہیں آگ لگ گئی۔

قائم مقام سیکرٹری خارجہ نے بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریا کو دفتر خارجہ طلب کرکے بھارتی افواج کی طرف سے ورکنگ باؤنڈری کے پکلیان، چپراڑ، ہرپال، چاروا اور شکرگڑھ سیکٹرز پر بلا اشتعال جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی پر شدید احتجاج کیا گیا۔

اس سے قبل بھی بھارتی افواج کی طرف سے ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر مسلسل شہری آبادی کو بھاری اسلحہ سے نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

بھارتی فوج رواں سال ایک ہزارپچاس سے زائد مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کر چکی، جس کے نتیجے میں 28شہری شہید جبکہ 117زخمی ہوئے۔ پاکستان بھارت پر زور دیتا چلا آ رہا ہے کہ بھارت دو ہزار تین کے جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کرے اور اس واقعہ اور ایسے ہی دوسرے واقعات کی تحقیقات کروائے، بھارتی افواج کو ہدایت کرے کہ وہ جنگ بندی معاہدے کی مکمل پاسداری کریں۔

نیز بھارت اقوام متحدہ کے ملٹری ابزرور گروپ برائے انڈیا و پاکستان کو سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت دیئے گئے، مینڈیٹ کے مطابق کام کرنے دے۔

دراصل بھارت اور اسرائیل مل کر پاکستان میں بدامنی پھیلا رہے ہیں اور پاکستانی شہریوں پر بھارت کی وحشیانہ فائرنگ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔بھارت کسی بھول میں نہ رہے پاکستان بھی ایٹمی طاقت ہے بھارت جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

پچھلے کئی ماہ سے بھارت نے کنٹرول لائن پر غیر اعلانیہ جنگ شروع کر رکھی ہے اور پاکستان کی سول آبادی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے فائرنگ سے جانور بھی محفوظ نہیں ہیں،لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔

ایک طرف تو اس نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم کا بازار گرم کر رکھا ہے اور آزادی کے حق میں نعرے لگانے والوں کو بھارتی فوج جعلی مقابلوں میں شہید کر رہی ہے۔

دوسری طرف کلبھوشن کی شکل میں پاکستان کے اندر جاسوس چھوڑ رکھے ہیں، جو معصوم شہریوں کو بلاوجہ قتل کر رہے ہیں۔ عالمی برادری کو بھارت کی اس کھلم کھلا دہشت گردی کا نوٹس لینا چاہئے۔ مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ اقوام متحدہ کا کردار بھی سوالیہ نشان بنتا جا رہا ہے، وہ کشمیریوں سے کئے گئے وعدے پورے نہیں کر رہا، اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اگر بھارت نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو خطہ جنگ کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔

بھارت کی اشتعال انگیزی اسرائیلی اور امریکی اشاروں پر ہے، جو کسی صورت بھی پاکستان میں امن برداشت نہیں کرسکتے۔ بھارت اس وقت پاکستان دشمن قوتوں کے آلہ کار کے طور پر پاکستان پر حارحیت مسلط کررہا ہے۔ کنٹرول لائن پر بھارتی جارحیت کھلا اعلان جنگ ہے، جس کا عالمی برادری اور اقوام متحدہ نے نوٹس نہ لیا تو خود ان کی ساکھ پر سوال اور انگلیاں اٹھنا شروع ہو جائیں گی،بہت ہوچکا۔

اب عالمی ادارے تماشائی کا کردارختم کریں ورنہ دو ایٹمی قوتوں کے درمیان جنگ سے دنیا بھر کا امن تباہ و برباد ہو سکتا ہے،جہاں تک پاکستانی قوم کی بات ہے تو وہ بھارت اور دیگر ملک دشمنوں کے مقابلے میں متحد ہے اور کسی بھی جارحیت کا مردانہ وار مقابلہ کرنے کو تیار ہے۔ بھارت دراصل اپنی اسی ناکامی پر سیخ پا ہے، اسی طرح کشمیر میں جو آزادی کی تحریک تیزی سے پھیل رہی ہے، اس نے بھی بھارت کو پریشان کیا ہوا ہے۔

اسی پریشانی اور بدحواسی کے عالم میں وہ کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر فائرنگ کرنے لگتا ہے اور الٹا پاکستان پر جھوٹے الزامات بھی لگاتا ہے۔ بھارت کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کا یہ ڈھونگ اب مزید نہیں چل سکتا، وہ دنیا کی آنکھوں میں اب اور جھول نہیں دھونک سکتا۔

مزید : رائے /کالم