نیب میں ’’ ری اوپن‘‘ کیسوں کا کیا بنا؟

نیب میں ’’ ری اوپن‘‘ کیسوں کا کیا بنا؟
نیب میں ’’ ری اوپن‘‘ کیسوں کا کیا بنا؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف آج کل چاروں طرف سے حملوں کی زد میں ہیں۔ کبھی پانامہ کے نام پر ،کبھی جے آئی ٹی کی شکل میں ، کبھی نیب کیسز کے طور پر،کبھی ڈان لیکس کے چکر میں اور کبھی ناجائز اثاثہ جات کے نام پر انہیں انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

کبھی ملک کے سابق وزیر اعظم پر دشمن ملک کو غیر قانونی طور پر رقوم بھیجنے کا الزام عائد کیا جاتا ہے اور کبھی اداروں کو ذاتی مفادات کے لئے استعمال کرنے کا مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے، غرضیکہ میاں نواز شریف کو ہر طرف سے گھیرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، توپوں کا رخ صرف ایک شخص کی طرف ہے اور ا س پر اتنے بھیانک الزامات عائد کرکے انہیں زچ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جیسے خرابی میں سب کچھ اسی کا کیا دھرا ہے ۔نیب ہی کو لے لیجیے اس نے تو نواز شریف اور ان کے اہل خانہ پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی ہے، شاید ہی کوئی مقدمہ باقی بچا ہو جو شریف خاندان کے خلاف شروع نہ کیا جا چکا ہو۔

ماضی کے کئی سابق حکمران اور ممتاز سیاسی رہنما اس امر کا برملا اعتراف کر چکے ہیں کہ نیب کو سیاسی مخالفین کو نیچا دکھانے کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ سیاسی وفاداریاں تبدیل کروانے کی غرض سے بھی نیب کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔

سابق صدر جنرل پرویز مشرف کا این آر او جب 2009ء میں سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دیا تھا، تب بھی نیب نے سینکڑوں کیسز ری اوپن کئے تھے جو تاحال ویسے کے ویسے ہی پڑے ہیں اور ان کیسز پر آج تک کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔

آج بھی نیب کے حوالے سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ نیب کو محض شریف خاندان کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، خود نواز شریف کئی بار اس امر کا اظہار کر چکے ہیں کہ احتساب صرف میرا اور میرے خاندان کا ہو رہا ہے، یہ احتساب نہیں، بلکہ انتقام ہے۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اب ہر ایک کے احتساب کا وقت آ گیا ہے اور سب کو حساب دینا پڑے گا۔ انتقامی جیلسی کا یہ تاثر ابھر کا سامنے آ رہا ہے، لیکن آخر کوئی وجہ تو ہے کہ احتساب کا نشانہ میاں نواز شریف اور ان کے اقرباء ہی ہیں۔

آج کل یہ بات زبان زد عام ہے کہ ادار وں کا احترام کرنا چاہئے اور ہر ایک کو اپنی حدود میں رہ کر اپنا کام کرنا چاہئے لیکن یہ پالیسی سب کے لئے یکساں ہی ہونی چاہئے۔

مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں شہباز شریف بھی اس بات پر کئی بار اظہار خیال کر چکے ہیں کہ نیب کا سورج صرف پنجاب میں ہی طلوع ہو رہا ہے اور پوری آب و تاب سے چمک رہا ہے، لیکن دوسرے صوبوں میں یہ سورج کہیں دکھائی نہیں دیتا۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ نیب ہو یا کوئی اور ادارہ انصاف اور احتساب بلا امتیاز ہونا چاہئے۔ ہمارا مشورہ ہے کہ احتساب کے عمل کو شفاف بنانے اور منفی تاثر کو ختم کرنے کے لئے احتساب کی تلوار کو سب کے لئے یکساں طور پر بے رحمانہ ہونا چاہئے۔

ویسے تو قومی احتساب بیورو کے سربراہ جسٹس (ر) جاوید اقبال نے بھی واضح کیا ہے کہ نیب کی کوئی امتیازی پالیسی نہیں، ہم تو کرپشن کے خاتمے کے لئے بلا امتیاز جدوجہد کر رہے ہیں، لیکن شاید ان کا یہ پیغام نچلی سطح تک نہیں پہنچ رہا اور نوبت یہاں تک آن چکی ہے کہ نیب کیسز کا شکنجہ سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کے لئے کسا جا رہا ہے۔

حال ہی میں جو دو تین سیاسی رہنما مسلم لیگ (ن) چھوڑ کر کسی دوسری سیاسی جماعت میں شامل ہوئے یا سیاست کو خیبر باد کہہ گئے، ان کی باتوں سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ وہ کسی قسم کے دباؤ کے زیر اثر تھے ۔۔۔ نیب ہو یا اس جیسا کوئی اور ادارہ، جسے قومی نوعیت کے اہم معاملات کی تحقیقات و تفتیش کی ذمہ داری سونپی گئی ہو، اسے سیاست ، مخالفت یا انتقام سے ہر صورت بالا تر ہو کر اپنے فرائض انجام دینے چاہئیں۔

ماضی میں اس قسم کی جو مثالیں سامنے آتی رہی ہیں۔ اُنہیں دوہرایا جانا کسی طور پر بھی مناسب نہیں۔ ہمیں تاریخ سے سبق حاصل کرنا چاہئے اور سیاسی انتقامی کارروائیوں کی بجائے افہام و تفہیم اور رواداری کے معاملات کو فروغ دینا چاہئے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ احتساب کے معاملات میں تفریق کو ختم کر کے یکسانیت کو اپنائیں تاکہ کسی کو بھی شکوے شکایت کا موقع نہ مل سکے۔

مزید : رائے /کالم