قمر زمان قائرہ کیا واقعی ہی تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں ؟ آخر کارخود میدان میں آ گئے ، وہ اعلان کر دیا جس کا دونوں جماعتیں بے صبری سے انتظار کر رہی تھیں

قمر زمان قائرہ کیا واقعی ہی تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں ؟ آخر ...
قمر زمان قائرہ کیا واقعی ہی تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں ؟ آخر کارخود میدان میں آ گئے ، وہ اعلان کر دیا جس کا دونوں جماعتیں بے صبری سے انتظار کر رہی تھیں

  

لاہور (ڈیلی پاکستا ن آن لائن)پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما قمرزمان کائرہ نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کے حوالے سے چلنے والی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہاہے کہ میں سیاست چھوڑ سکتا ہوں لیکن پیپلز پارٹی نہیں چھوڑ سکتا، احتساب عدالت میں میاں نواز شریف کے بیان کی کوئی حیثیت نہیں ہے کہ یہ سب باتیں وہ سپریم کورٹ ، جے آئی ٹی میں بار بار کرچکے ہیں اس لئے اس بیان کی کو ئی قانونی اہمیت نہیں ہے۔

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ میڈیا میں خبریں چل رہی تھیں کہ قمر الزمان کائرہ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں شامل ہونے والے سابق ارکان قومی اسمبلی اور مرکزی وزیر نذر گوندل سے ملاقاتیں ہوئی ہیں جو ان کی طرح پیپلز پارٹی کے متحرک رکن تھے۔ پیپلز پارٹی کے ان رہنماﺅں کا شکوہ ہے کہ انہیں پارٹی میں وہ عزت اور اہمیت نہیں دی جاتی جس کے وہ مستحق ہیں۔ قمرالزمان کائرہ نے مبینہ طور پر اپنے علاقے کے دیگر ایم پی ایز اور متحرک ورکروں سے بھی مشورہ کیا ہے جنہوں نے انہیں پی ٹی آئی میں شامل ہونے کا کہا ہے مگر اس حوالے سے ان کے حلقے میں تحریک انصاف کے سابق اور بنیادی ارکان ان کی پی ٹی آئی میں شمولیت کی سخت مخالفت کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں ان تمام خبروں کی تردید کر دی ہے۔

دنیا نیوز کے پروگرام ”آن دی پوائنٹ“میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے کہا تھا کہ ان کے پاس ہر چیز کا ریکارڈ اور منی ٹریل موجود ہے اور وہ اس کو پیش کریں گے۔ اب نواز شریف عوام کے سامنے ایک ایسا بیانیہ کھڑا کر نے کی کوشش کر ہے ہیں کہ عوام کو لگے کہ عدالت ان کے ساتھ زیادتی کر رہی ہے ، وہ قانون کی عدالت میں مقدمہ نہیں لڑ رہے بلکہ عوامی عدالت میں لڑ رہے ہیں اس لئے ان کا بیان کو ئی حیثیت نہیںرکھتا۔ان کے جلسوں میں لو گ آتے نہیں بلکہ لائے جاتے ہیں۔تحریک انصاف میں شمولیت کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ میں سیاست چھوڑ سکتا ہوں لیکن پیپلز پارٹی نہیں چھوڑ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جماعتوں کو چھوڑ کر جانا نہیں چاہئے بلکہ اپنی جماعت میں رہ کر اس کی کمی یا کوتاہی دور کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ان کو پیپلز پارٹی چھوڑ کر جانے سے متعلق سوچتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /علاقائی /اسلام آباد /پنجاب /لاہور /اہم خبریں /قومی