مہنگائی سے کاروباری سرگرمیاں ماند ،شہری وبڈو شاپنگ تک محدود ،تاجر جرسر پکڑ کر بیٹھ گئے

مہنگائی سے کاروباری سرگرمیاں ماند ،شہری وبڈو شاپنگ تک محدود ،تاجر جرسر پکڑ ...

  

لاہور(دیبا مرزا سے،تصاویر ذیشان منیر) ماہ رمضان المبارک کے دوسرا عشرہ آدھا مکمل ہونے کے باوجود صوبائی دارالحکومت کے بازاروں کی رونقیں بحال نہیں ہو سکیں ابھی تک بھی عوام الناس کی جانب سے باقاعدہ عید خریداری شروع نہیں ہو سکی ہے دکانداوں کی جانب سے اس کی ایک بڑی وجہ ملک بھر میں مہنگائی کی لہر اور آئے روز ڈالر کی قیمتوں میں بہت بڑا اضافہ بتایا جارہا ہے ۔ان دکا ن والوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کی قوت خرید ختم ہو رہی ہے پہلے تو کوئی گاہک بازاروں کا رخ ہی نہیں کرتے اگر کوئی کر بھی لے تو وہ بھی مہنگائی کا رونا رو کر اور قیمتوں کی معلومات حاصل کرکے واپس چلے جاتا ہے ۔تفصیلات کے مطابق روز نامہ پاکستان نے شہر لاہور کے مشہور بازار اچھرہ بازار کا دورہ کیا تو بیشتر دوکاندار خریدار نہ ہونے کی وجہ سے اپنی اپنی دکانوں پر فارغ بیٹھے ہوئے دکھائی دیے ۔اس موقع پر جب ان سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ ہمارا کاروبار تقریبا ختم ہو کرہی رہ گیا ہے ماہ رمضان کا آدھا مہینہ گزر گیا ہے لیکن گاہک بازاروں کا رخ نہیں کر رہے، حکومت کو چاہئے کہ وہ ڈالر کی قیمتوں کو کنٹرول کرے اور ماضی کی حکومتوں کی طرح اس کی قیمت کو 100 روپے سے بھی کم قیمت پر لائے ایسا کرنے سے ہمارا کاروبار شروع ہو جائے گا ہمارے ملک میں ہر چیز ڈالر کی قیمت کے ارد گرد گھومتی ہے اس کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا بہت ضروری ہے ۔خریداری کے لئے نظر آنے والی خواتین کا کہنا تھا کہ ہر چیز کی قیمتیں آسمانوں کو چھو رہی ہیں اتنے پیسے نہیں ہیں کہ بچوں کی خواہشات کو پورا کر سکیں ہونا تو ےہ چاہئے کہ حکومت کی طرف سے سستے رمضان بازاروں کی طرز پر اس طرح کے بھی بازار سجائے جائیں جہاں پر خواتین بچوں اور مردوں کے استعمال کے کپڑے اور عید شاپنگ کی اشیاءبھی موجود ہوں ۔

خریداری کے لئے بازار بنا کردئیے جائیں جہاں پر ارزاں نرخوں پر ہر چیز دستیاب ہو۔ 

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -