ا یس ای سی پی پرمقدمات کی تفصیلات تحقیقاتی اداروں کوفراہم کرنے پر پابندی

  ا یس ای سی پی پرمقدمات کی تفصیلات تحقیقاتی اداروں کوفراہم کرنے پر پابندی

  

لاہور (پ ر)سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے پالیسی بورڈ نے ا یس ای سی پی پر پابندی عائد کی ہے کہ مقدمات کی تفصیلات قومی احتساب بیورو (نیب) اور وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) سمیت دیگر تحقیقاتی اداروں کو فراہم نہ کی جائیں اور بورڈ نے ےہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ ایس ای سی پی کے تمام افسروں و دیگر عملہ کو جلد سے جلد ان اداروںسے واپس بلایا جائے۔پالیسی بورڈ کا اجلاس پروفیسر خالد مرزا کی زیر صدارت ایس ای سی پی کے صدر دفتر میں منعقد ہوا۔ 

اجلاس کے دوران بورڈ نے دیگر کئی معاملات پر تفصیلی فیصلے کے لئے جن میں بنیادی مرکیٹ کی ترقی اور نشونما کے لیئے سیکیورٹی شامل ہے۔ کام کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے دیگر تحقیقاتی اداروں کے ساتھ کمیشن کے معاملات کے حوالے سے اہم ہدایات بھی جاری کی ہیں ۔ خالد مرزا نے کہا ہے کہ یہ بات انتہائی افسوس ناک ہے کہ کمیشن تحقیقاتی اداروں کو شکایات / مقدمات فراہم کر رہاہے جبکہ کمیشن کو ا س کی ڈومین کے اندر احاطہ کردہ معاملات کی تحقیقات خود کرنی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ کمیشن کو کسی بھی حالت میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مقدمات فراہم نہیں کرنے چا ہیئے سوائے اس کے کہ جب تک کہ عدالت کا حکم نا آ جائے یا کوئی اور مضبوط دلیل سامنے آجائے کہ تحقیقات ایس ای سی پی کی صلاحیت یا اس کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔خالد مرزا کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کسی بھی معاملے کو بھیجنے سے پہلے کمیشن اور پالیسی بورڈ سے اجازت لی جانی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شکایت موجود ہے تو کمیشن کو مکمل طور پر تحقیق خودکر نی چاہئے ۔

علاوہ ازیں انہوں نے مختلف مالیاتی اداروں کے خلاف بھیجے جانے والے مقدمات فوری واپس لینے کا حکم بھی جاری کیا۔

مزید :

کامرس -