نئے گورنر سٹیٹ بینک کے بعد پہلی مانیٹری پالیسی

نئے گورنر سٹیٹ بینک کے بعد پہلی مانیٹری پالیسی

  

سٹیٹ بینک آف پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ اگلے مالی سال کے دوران افراطِ زر میں اضافہ ہو گا، مہنگائی پہلے ہی دوگنا، یعنی اوسطاً 7فیصد ہو گئی ہے اور آئندہ مزید بڑھے گی۔ افراطِ زر میں اضافے کے خدشے کے پیش ِ نظر ہی شرح سود بڑھا کر12.25 فیصد کر دی گئی ہے، جس سے کاروباری حلقوں میں اضطراب کی لہریں دوڑ گئی ہیں یہ شرح اکتوبر2010ءکے بعد سب سے زیادہ ہے، سٹیٹ بینک نے یہ بھی کہا ہے کہ معاشی شرح نمو سست رہے گی اور مالیاتی خسارہ بے قابو رہے گا،بیان کے مطابق پٹرول، کھانے پینے کی اشیا اور خام مال کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کے بنیادی عوامل ہیں، جس پر روپے کی بے قدری نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ جس نے مہنگائی کو مزید بے لگا کردیا ہے۔ آمدن کم اور اخراجات زیادہ ہونے کی وجہ سے حکومت کا قرضوں پر انحصار بڑھ گیا، موجودہ حکومت نے نو ماہ میں4800ارب روپے قرض لیا ہے، اگلے مالی سال میں بجٹ میں لگنے والے ٹیکس، بجلی اور گیس کے اضافی نرخ اور تیل کی قیمتیں مہنگائی میں مزید اضافہ کر سکتی ہیں۔زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو کر 8.8ارب ڈالر رہ گئے ہیں،جو تین ماہ کی درآمدات کے لئے ناکافی ہوں گے، طلب و رسد کے فرق کی وجہ سے شرح مبادلہ دباﺅ کا شکار ہے، زراعت اور صنعت کی پست شرح نمو جیسے عوامل معاشی ترقی کی رفتار کم کر رہے ہیں تاہم آئی ایم ایف پروگرام، زراعت کی بہتری اور برآمدی ترغیبات سے معاشی سرگرمیاں بتدریج بحال ہونے کی توقع ہے۔ سٹیٹ بینک کے نئے گورنر کی آمد کے بعد یہ پہلی مانیٹری پالیسی جاری کی گئی ہے۔

شرح سود میں اضافہ نو سال میں بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے،جس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ حکومت نے اندرون ملک بینکوں سے جو قرض لے رکھا ہے اس پر سود کی رقم پہلے سے زیادہ ادا کرنا ہو گی اور جو مزید قرضے لئے جائیں گے جو مسلسل لئے جا رہے ہیں وہ بھی حکومت کو مہنگے ملیں گے، حکومت کا دعویٰ تو یہ تھا کہ وہ قرض نہیں لے گی،لیکن اس کے برعکس نئے قرضوں کے تمام اگلے پچھلے ریکارڈ توڑ دیئے گئے ہیں۔ نجی شعبے کو بھی اگر مہنگے قرضے ملیں گے تو صنعتی ادارے بھی اس کی زد میں آئیں گے، زیادہ شرح سود پر حاصل کردہ قرضوں سے جو اشیاءتیار ہوں گی وہ مہنگی ہوں گی ، صنعتکار اگر مہنگے قرضے لے کر اشیا تیار کریںگے تو ان کا سارا بوجھ صارفین کی جانب ہی منتقل ہو گا، بجلی اور گیس بھی مہنگی ہو چکی ہے اور مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے، اسی لئے سٹیٹ بینک نے خبردار کر دیا ہے کہ مہنگائی مزید بڑھے گی اور افراطِ زر میں بھی اضافہ ہو گا،جو مہنگائی ہی کی ایک شکل ہے،روپیہ بے حیثیت ہو چکا ہے۔ پیر کو روپے کی شرح تبادلہ ویسے تو151روپے تھی،لیکن اس نرخ پر فروخت کے لئے کوئی ڈالر دستیاب نہیں تھے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر طلب برقرار رہے گی تو ڈالر مزید مہنگا ہو جائے گا، ہمارے خطے میں روپے کی بے قدری ریکارڈ ہے، افغانستان، نیپال اور بھوٹان کی کرنسیاں بھی ہمارے روپے سے زیادہ قدرو قیمت رکھتی ہیں،قرضوں کی شرح سود میں بھی پاکستان بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا سے آگے نکل گیا ہے، جہاں بالترتیب شرح سود 6، 6.75 اور8فیصد ہے۔

سٹیٹ بینک کی رپورٹ میں اگرچہ یہ کہا گیا ہے کہ شرح سود میں اضافے کے باوجود نجی شعبے نے زیادہ قرضے لئے،لیکن اِس وقت بھی سب سے زیادہ قرضے حکومت ہی لے رہی ہے،شرح سود میں مزید اضافے کے بعد نجی شعبہ قرضوں سے ہاتھ کھینچ سکتا ہے،جس کا مطلب یہ ہے کہ سرمایہ کاری بھی رُک جائے گی یا کم ہو جائے گی،کیونکہ صنعتوں پر جو سرمایہ لگایا جاتاہے اس کا بیشتر حصہ بینکوں کے قرضوں ہی سے حاصل ہوتا ہے۔ حکومت کو البتہ اپنے اخراجات پورے کرنے کے لئے زیادہ قرضے درکار ہوں گے اس لئے بینکوں سے قرض لینے والوں میں حکومت ہی نمبر ون رہے گی، آئی ایم ایف نے حکومت کو سٹیٹ بینک سے قرض نہ لینے کا پابند کردیا ہے اس لئے حکومت قرضے کے لئے کمرشل بینکوں سے رجوع کرے گی۔ جو سٹیٹ بینک کی نسبت زیادہ شرح سود پر قرض دیں گے۔ یوں کمرشل بینکوں کا زیادہ تر کاروبار حکومت سے ہوگا، وہ نجی شعبے کو قرض دے کر ”نان پرفارمنگ لونز“ کا خطرہ مول نہیں لیں گے۔ اس طرح شرح سود بڑھنے کا سب سے زیادہ فائدہ کمرشل بینکوں کو ہوگا۔ ویسے بھی بینک قرضے دیتے وقت حکومت کو اِس لئے ترجیح دیتے ہیں کہ ایسے قرضوں کے اجرا کے لئے ضمانتوں کے جھنجھٹ میں نہیں پڑنا پڑتا، مصنوعات کی پیداواری لاگت میں اضافے کا نتیجہ یہ ہو گا کہ برآمدی مارکیٹ میں پاکستانی اشیا کے لئے مقابلہ کرنا مشکل ہو جائے گا،بنگلہ دیش کی برآمدات اِس لئے بھی زیادہ ہیں کہ اُسے عالمی منڈیوں میں آسان رسائی حاصل ہے، پھر دُنیا کی معروف مصنوعات کی برآمدی کمپنیوں نے اپنے پلانٹ بنگلہ دیش میں لگائے ہوئے ہیں،جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس کی برآمدات پاکستان سے زیادہ ہیں۔پاکستان کئی سال سے کوششوں اور ترغیبات کے باوجود اپنی گرتی ہوئی برآمدات کو نہیں روک سکا، روپے کی قیمت میں کمی کے باوجود برآمدات نہیں بڑھ سکیں، شاید اگلے بجٹ تک ان میں کوئی اضافہ ممکن ہو۔

حکومت نے متعدد بار اعلان کیا ہے کہ ملک میں کاروبار کے لئے فضا بہتر بنائی جائے گی، لیکن شرح سود بڑھنے جیسے اقدامات سے تو یہ فضا بہتر نہیں، خراب ہوگی اور کاروبار کرنا مشکل تر ہو جائے گا۔ کاروبار کرنے کے لئے جہاں سے بھی سرمایہ حاصل ہوگا اس پر زیادہ منافع ادا کرنا ہوگا۔ روپے کی گرتی ہوئی قیمت کو سہارا دینے کی ضرورت ہے اس کے لئے حکومت کا تو کوئی اقدام سامنے نہیں آیا جس کی وجہ سے لڑھکتا ہوا روپیہ سنبھل سکتا، ایف آئی اے کے چھاپے بھی اکارت گئے، لیکن اس سلسلے میں بھی غیر متوقع طور پر امداد ایک دینی سکالر کی طرف سے آئی ہے جنہوں نے عوام سے کہا ہے کہ وہ اس معاشی بحران میں ڈالر نہ خریدیں۔ ایسا کرنا حرام ہے کہ اس طرح روپیہ کی بے قدری میں اضافہ ہوگا، غالباً ملکی تاریخ میں اس قسم کا فتویٰ پہلی مرتبہ دیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ دینی طبقہ حکومت کی مدد کے لئے آگے آنے کو تیار ہے لیکن وہ اس کی معاونت حاصل کرنے کے بجائے مدرسوں کا انتظام سنبھالنے پر زیادہ توجہ دے رہی ہے۔ اب دیکھنا ہوگا کہ ڈالر کی خریداری پر اس فتوے کا کوئی اثر پڑتا ہے یا خریدار اسے نظرانداز کرکے اپنے فائدے کے لئے خریداری جاری رکھتے ہیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -