ماہِ صیام کی برکات

ماہِ صیام کی برکات
ماہِ صیام کی برکات

  

رمضان المبارک کے جہاں روحانی فوائد ہیں وہاں اس کے طبی فوائد بھی بہت ہیں۔ روحانی طور پر روزہ اللہ اور بند ے کے درمیان ایک ایسا عہد ہے، جس میں کسی تیسرے کا کوئی دخل نہیں، روزہ نفسانی خواہشات پر قابو پانے میں موثر کردار ادا کرتا ہے اور روزہ دار کے اندر ایک ایسا اعتماد پیدا کرتا ہے کہ بندہ روزے سے ہے۔ گرمی بھی سخت ہے،پیاس بھی شدت سے محسوس ہورہی ہے کوئی آپ کو دیکھ بھی نہیں رہا،ٹھنڈے مشروبات بھی آپ کے سامنے ہیں مگر آپ ان کو پینا تو درکنار ہاتھ تک لگانا گوارہ نہیں کرتے۔

یہ وہ اعتماد ہے جو روزے کی و جہ سے آپ کو حاصل ہوتا ہے، کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ آپ نے پورا دن کچھ نہ کھانے پینے کا عہد اللہ رب العزت سے اس کی خوشنودی کے حصول کے لئے کر رکھا ہے، آپ روزہ کی بدولت سب کچھ برداشت کرتے ہیں۔ یہاں ایک جاپانی سائنس دان کی ایک تحقیق کا ذکر کرنا برمحل ہو گا جنہوں نے کینسر کے موذی مرض سے بچنے کے لئے کئی سال تحقیق اور تجربوں کے بعد ایسے عوامل دریافت کئے، جن پر عمل پیرا ہونے کے باعث آپ زندگی بھرکینسر جیسے خطرناک مرض سے محفوظ ہوجاتے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے کینسر کے مرض کے لئے کیا دوا ایجاد کی ہے تو انہوںنے کہا کہ مَیں نے کوئی دوا ئی ایجاد نہیں کی۔

مَیں نے ان احتیاطی تدابیر کا ذکر کیا ہے جن کی بدولت کینسر سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ استفسار پر انہوں نے بتایا کہ ایک سال کے اندر انسان بیس سے پچیس دن مسلسل یا مختلف وقفوں کے بعد آٹھ سے نو گھنٹے بھوکا پیاسا رہے تو ایسے مہلک جراثیم، جن میں کینسر خاص طور پر قابل ِ ذکر ہے سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ اس پر انہیں نوبل پرائز دیا گیا۔ میں قربان جاﺅں خالق اقدس کی ذات پاک پر کہ جنہوںنے رمضان کے روزے مسلمانوں اور پہلی امتوں پر فرض کردئیے اور اگر مسلمان رمضان المبارک کے پورے روزے رکھے تو وہ کینسر کے مرض سے محفوظ رہے گا۔

روزہ قوت ارادی کو مضبوط کرتا ہے، نفسانی خواہش پر قابو پانے میں موثر کردار ادا کرتا ہے، اعتماد کی دولت سے نوازتا ہے، ماہِ پُرانوار رمضان المبارک میںروزہ دار میں فطری طور پر نرم گوئی، غریب پروری، اعلیٰ اخلاق، سحر وافطار کی بدولت پابندی اوقات اور معاشرہ کے سہولتوں سے محروم افراد کے لئے جذبہ ¿ ہمدردی پیدا کرتا ہے۔ روزے کی حالت میں بدکلامی ، غصہ اور قابل اعتراض رویے سے احتیاط کرنا چاہئے۔ روزہ دار کو اپنے اعمال، قول وفعل کی عام دِنوں سے زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ چغلی، غیبت، جھوٹ، گالم گلوچ سے اجتناب، لڑائی جھگڑے سے احتیاط برتنا ، روزہ دار کے اعمال صالح ہیں۔ اگر کوئی روزہ دار کو بُرا بھلا کہے تو بجائے ترکی بہ ترکی جواب دینے کے اتنا مختصر جواب کافی ہے اور روزہ دار یہ کہہ دے میں روزے سے ہوں۔

مختلف احادیث کے ذریعے پتہ چلتا ہے کہ کوئی کتنا ہی برا برتاﺅ کیوں نہ کرے، مگر روزہ دار کو اپنے غصے پر قابو رکھنا چاہیے۔ حقیقت میں روزہ باطنی بیماریوں جیسے بداخلاقی ، غیبت، بدکلامی وغیرہ کا خاتمہ کرتا ہے اور تزکیہ نفس کی تعلیم دیتا ہے۔ رسول عربی کی ایک حدیث مبارکہ ہے کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں، جن کو محض روزے سے صرف بھوک اور پیاس ملتی ہے، جبکہ ان لوگوں کو روزے کی اصل روح ،صبر ، برداشت ، تحمل، سکون اور اللہ کا قرب حاصل نہیں ہوتا۔ لہٰذا ماہ رمضان کو عبادات ، برکات اور گناہوں کی بخشش کے طور پر ہی لینا چاہئے تاکہ ہماری دُنیا وآخرت سنور جائے اور خود اصلاحی عمل کا آغاز ہمیں اپنی ذات ا ور اپنے اہل خانہ سے کرنا چاہئے۔ ہم خود بھی روزہ ، نماز کی پابندی کریں، اپنے بیوی بچوں اور عزیزو اقار ب کو بھی اس کا پابند بنائیں، اپنے اچھے رویے اور حسن سلوک سے بچوں کی تربیت کریں۔

رمضان المبارک کی برکتوں سے ان کو آگاہ کریں ۔رمضان المبارک جہاں ہمیں برداشت اور صبر کا درس دیتا ہے وہاں خود سے بڑھ کر دوسروں کا خیال رکھنے کا بھی سبق بہم پہنچاتا ہے۔ زکوٰةاسلام کا ایک ایسا جزو ہے، جو ارتکاز زر کی نفی کرتا ہے اور اپنی حلال کی کمائی سے معاشرے کے محروم طبقے کی ضرورتوں کا خیال رکھنے کا درس دیتا ہے اور اس عمل سے اللہ تعالیٰ بہت خوش ہوتا ہے اور آپ کے مال ودولت میں اضافہ کرتا ہے۔

یہ مشاہدے کی بات ہے کہ غیر مسلم ممالک میں ماہ رمضان کے دوران مسلمان خریداروں کے لئے خصوصی رعایات دی جاتی ہیں، مگر بڑے دُکھ کی بات ہے کہ وطن عزیز پاکستان میں جو دُنیا کا واحد ملک ہے، جس کا سرکاری مذہب اسلام ہے وہاں اس کے بالکل برعکس روزہ داروں کے لئے اشیاءخوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں، جس سے ان کی حلال کمائی بھی حلال نہیں رہتی اگرہماری تاجر برادری رمضان کی فیوض برکات سے مستفید ہونا چاہتی ہے تو اسے چاہئے کہ وہ مقدس مہینے میں گراں فروشی سے اجتناب کریں اور اشیاءخوردو نوش کی قیمتوں میں کمی کردیں اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں انہیں بہتر اور کہیں زیادہ مال ودولت سے نوازے گا۔ رمضان المبارک نیکیوں کا مہینہ ہے اس ماہ مبارک میں ایک نیکی کا ثواب 70گنا ہوتا ہے۔ یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر بدلہ کا جنت ہے۔

یہ وہ ماہ مبارک ہے، جس میں مومن بندوں کے رزق میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ ا س مہینے میں جس نے کسی ایک روزہ دار کا روزہ افطار کرایا اس کے لئے گناہوں میں بخشش ،آتش دوزخ سے آزادی اور اس کو روزے دار کے برابر ثواب ملے گا۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ابن آدم کے تمام اعمال اس کے اپنے لئے ہیں، لیکن روزہ خاص میرے لئے ہے اور مَیں خود ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ دار کے لئے دو بہت بڑی خوشیاں ہیں ۔ایک جب وہ روزہ کھولتا ہے اسے خوشی ہوتی ہے اور دوسرا جب وہ اپنے خالق حقیقی سے روزقیامت ملے گا تو روزے کا ثواب دیکھ کر بہت خوش ہوگا۔

مزید : رائے /کالم