بلاول کی کامیابی کا راستہ

بلاول کی کامیابی کا راستہ
بلاول کی کامیابی کا راستہ

  


ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کے سیاسی جانشین بلاول بھٹو زرداری کے بے داغ ماضی زبردست الیکشن مہم, پارلیمنٹ میں عوامی مسائل اجاگر کرنے, حکومت کی ہر کوتاہی پر بروقت اور سخت تنقید نے انہیں بہت کم وقت میں پاکستانی سیاست کا ایک اہم کھلاڑی بنا دیا ہے. بلاول اپنی پرجوش تقریروں میں نیب حکومت اور دیگر مقتدر قوتوں پر تنقید کے سخت نشتر برساتے ہیں اور داد پاتے ہیں. نہ صرف بلاول کو عوامی پذیرائی مل رہی ہے بلکہ پیپلز پارٹی کی ساکھ بھی قدرے بہتر ہوئی ہے.

مخالف سیاسی جماعتوں کے غلط فیصلوں, ناعاقبت اندیشی, جھوٹے بلندوبانگ دعوے, اندرونی کشمکش اور انتشار کی وجہ سے بلال کے ہاتھ یہ موقع آ سکتا ہے کہ وہ ایک قومی لیڈر بن سکیں. بلاول کا یہ سفر نہ صرف طویل بلکہ بہت کٹھن بھی ہوگا۔ بلاول کو جس مشکل صورتحال کا سامنا ہے اس میں ایک طرف بکھری ہوئی پارٹی ہے. ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب سے پیپلزپارٹی کا مکمل صفایا ہو چکا ہے اب پیپلزپارٹی عملا سندھ تک محدود ہو کر علاقائی پارٹی کا روپ دھار چکی ہے. پنجاب وہی صوبہ ہے جہاں سے پیپلزپارٹی نے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا اور اسلام آباد پہنچنے کیلئے پنجاب سر کرنا بنیادی شرط ہے.

پنجاب میں پیپلزپارٹی نے نہ صرف جیتنے والے امیدوار کھوئے ہیں بلکہ یہاں پیپلزپارٹی کی قیادت کا امیج بری طرح مجروح ہو چکا ہے. سندھ میں دس سالہ دور حکومت ناقص امن عامہ, تباہ حال نظام صحت, تھر میں موت کے رقص,ایڈز اور دیگر مہلک بیماریوں کا صوبہ بھر میں پھیلاو¿, ہر سرکاری شعبے میں خردبرد کی داستانون بالخصوص محکمہ زراعت میں ایک سو پچاس ارب کے گھپلے, صوبہ بھر میں تباہ حال انفراسٹرکچر, کراچی میں گینگ وار اور دیہی سندھ میں وڈیروں کی دہشت کی کہانی سے عبارت ہے. بلاول کو تقریروں سے زیادہ سندھ کے عوام کی حالت زار پر توجہ دینا ہو گی اور سندھ حکومت کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہوگا.

دوسری طرف بلاول کو پارٹی کے ساتھ ایسی قیادت بھی وراثت میں ملی ہے جو کرپشن کے الزامات میں لتھڑی ہے. جعلی اکاو¿نٹ کیس کی ہوش ربا داستانوں کے سامنے آنے کے بعد جلد یا بدیر پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت نیب کے شکنجے اور جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوگی. بلاول کو اس وقت سے پہلے سخت فیصلے کرنا ہوں گے۔

کرپشن میں ملوث تمام عہدے داروں کو پیپلزپارٹی سے نہ صرف فارغ کریں بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر یکساں احتساب کے لیے مہم چلائیں تاکہ پیپلز پارٹی پر لگے داغوں کو دھویا جاسکے. یہ سب بلاول کے لیے آسان نہیں ہوگا لیکن بڑا لیڈر بننے کے لئے بڑی قربانیاں دینا پڑتی ہیں اور بڑے فیصلے کرنا پڑتے ہیں. اگر بلاول یہ قربانی دے پاتے ہیں تو کوئی انہیں ایک کامیاب قومی لیڈر بننے سے نہیں روک سکتا کیوں کہ اس وقت ملک کی دوسری بڑی سیاسی پارٹی مسلم لیگ نون اندرونی اور بیرونی دباو¿ کا شکار ہے۔ شریف خاندان احتساب کے دباو¿ کے سامنے گھٹنے ٹیکتا اور بکھرتا نظر آتا ہے.

دوسری طرف عمران خان ناتجربہ کاری, ناقص کابینہ کے انتخاب اور بھاری بھرکم عوامی توقعات کے بوجھ تلے دبے ہیں. حکمران جماعت نے عہدوں کی بندر بانٹ میں اپنے پرانے اور قربانی دینے والے کارکنوں کو نظر انداز کرکے دیگر پارٹیوں بالخصوص پیپلزپارٹی سے آنے والے موسمی پرندوں پر نوازشات کی بھرمارکر رکھی ہے. موجودہ کابینہ کے ساتھ عمران خان اپنے انتخابی نعروں کو کبھی حقیقت کا روپ نہیں دے سکتے. عمران خان کی ناکامی کی صورت میں اکثر موسمی پرندے واپس پیپلزپارٹی میں جائے پناہ تلاش کرنے کی کوشش کرینگے. بلاول کے لئے جہان مواقع ہیں وہیں آزمائش بھی ہے اگر وہ آگے بڑھ کر وقت کے دھارے کو اپنے سخت اور اصول پسند فیصلوں سے اپنے حق میں نہیں بدلتے ہیں تو شاید سندھ بھی ہاتھ سے جاتا رہے.

مزید : رائے /کالم