سیاست کے بدلتے تیور

سیاست کے بدلتے تیور
سیاست کے بدلتے تیور

  


سیاسی منظر نامے پر بہت کچھ ہو رہا ہے۔ بہت سے اسٹیک ہولڈرز اپنا اپنا حصہ مانگ رہے ہیں،کردار ادا کر رہے ہیں،لیکن ایک بات واضح ہے کہ اب سیاست بہت مشکل ہو گئی ہے۔ ماضی کی طرح نہیں کہ آپ ایک بڑھک ماریں اور پانسہ پلٹ دیں یا بڑھکوں سے عوام کو متاثر کر سکیں۔اب تو روزانہ ہی عوام کھیل تماشے دیکھنے کے عادی ہو گئے ہیں،اُن سے متاثر کم اور محظوظ زیادہ ہوتے ہیں۔ یہ وہ دور ہے جس میں کروڑوں پاکستانی اپنا غبار خود نکالنے کی پوزیشن میں ہیں، وہ اپنا سوشل میڈیا اکاﺅنٹ کھولتے ہیں اور جو دِل میں آتا ہے، باہر لے آتے ہیں۔ایسے ماحول میں عوام کو بے وقوف بنانے کا چانس بہت کم رہ گیا ہے، مگر اس کے باوجود سیاست تو چلنی ہے اور سیاست دانوں نے سیاست کے داﺅ پیچ بھی آزمانے ہیں،سو ہ آزمائے جا رہے ہیں۔

حکومت اس وقت سخت مشکل میں ہے، معاشی حالات اُس کی دسترس میں آ ہی نہیں رہے اور عمران خان صرف ”گھبرانا نہیں“ کے دو لفظوں تک محدود ہو کر رہے گئے ہیں، کوئی عملی بات وہ کر نہیں پا رہے، حتیٰ کہ سخت اقدامات بھی اٹھانے سے قاصر ہیں، جبکہ صاف لگ رہا ہے کہ کچھ مافیاز باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت پاکستانی معیشت اورروپے کو کمزور کرنے کے در پے ہیں۔ ڈالر کی بے لگامی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ڈالر کون خرید رہا ہے، کہاں ذخیرہ ہو رہے ہیں،کس کی آشیر باد سے اوپن مارکیٹ میں ڈالر کا روزانہ ریٹ بڑھ جاتا ہے،اس کا کھوج لگانے کی اشد ضرورت ہے،مگر حکومت اس معاملے میں نجانے کیوں مداخلت کرنے سے بھی گھبراتی دکھائی دیتی ہے۔عمران خان پوری قوم کو تو مشورہ دیتے ہیں کہ گھبرانا نہیں،پھر خود کیوں کوئی جرا¿ت مندانہ قدم اٹھانے سے گھبرا رہے ہیں۔

خیر یہ تو ایک پہلو ہے، دوسرا پہلو سیاسی محاذ ہے۔ اپوزیشن کے لئے حکومت کی معاشی معاملے میں بے بسی نعمت غیر مترقبہ ہے،جس کی وجہ سے وہ حکومت کو آڑے ہاتھوں لے رہی ہے اور ساتھ ہی عید کے بعد احتجاجی تحریک کی دھمکی بھی دے چکی ہے۔اس سارے معاملے میں بلاول بھٹو زرداری کی افطار پارٹی نے نئی جان ڈال دی ہے۔ افطار پارٹی میں مریم نواز کی شرکت سے معاملہ بہت آگے چلا گیا۔یہ تو طے نہیں ہوا کہ عید کے بعد بلاول اور مریم نواز ایک ہی کنٹینر پر ہوں گے یا نہیں،البتہ اتنا ضرور ہوا کہ دو بڑی سیاسی جماعتوں کے یہ نئے چہرے اب آگے آ گئے ہیں۔ سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ مسلم لیگ(ن) نے بڑی دانشمندی سے بہت کچھ حاصل کر لیا ہے۔

اب اُس کی قیادت کا ابہام دور ہوتا نظر آ رہا ہے۔مریم نواز کو بڑی مہارت سے سیاسی محاذ پر آگے لایا گیا ہے۔ نواز شریف کو جیل چھوڑنے کے شوسے لے کر بلاول بھٹو زرداری کی افطاری تک مریم نواز کی سیاست میں انٹری بہت دیکھ بھال کر اور سکرپٹ کے مطابق کی گئی ہے، پھر جس طرح مسلم لیگ (ن) کی سینئر قیادت زرداری ہاﺅس میں دبی دبی رہی اور سارا منظر نامہ مریم نواز کے گرد گھومتا رہا۔ اُس نے یہ واضح کر دیا ہے کہ مسلم لیگ(ن) اب مریم نواز کی قیادت میں آگے بڑھے گی۔ نواز شریف اور شہباز شریف کی ساری سیاسی وراثت مریم نواز کو منتقل کر دی گئی ہے۔ آپ ذرا مریم نواز کے اُس افطار پارٹی کے مختلف مواقع پر کردارکو بغور دیکھیں،یوں لگتا ہے جیسے مریم میں نواز شریف کی روح حلول کر گئی ہو،جس طرح نواز شریف ماحول پر چھا جاتے تھے، اُسی طرح مریم نواز بھی حاوی رہیں۔

انہوں نے حمزہ شہباز کو بازو سے پکڑ کر بلاول بھٹو زرداری سے ملوایا،پھر بلاول بھٹو زرداری کے کاندھے پر بھی تھپکی دی،نیز جب ملاقات ختم کر کے زرداری ہاﺅس سے جانے لگیں اور شاہد خاقان عباسی نے آخری لمحوں میں بلاول سے کچھ بات کرنا چاہی تو انہوں نے انہیں بھی کندھے پر ہاتھ رکھ کے چلنے کو کہا اور وہ چل پڑے۔ یہ سب کچھ سوشل میڈیا پر وائرل ہے اور پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ مریم نواز پورے طمطراق اور اعتماد و یقین کے ساتھ سیاست کے میدان میں آئی ہیں اور پارٹی کی غیر اعلانیہ کمان سنبھال چکی ہیں۔

اب لوگ پوچھتے ہیں کہ مسلم لیگ(ن) کے اندر یہ اچانک کایا کلپ کیسے ہوئی ہے؟عرصے سے خاموش مریم نواز یکدم اتنی متحرک کیوں ہو گئی ہیں، کیوں ایک بار پھر وہ اسی طرح کا بیانیہ اختیار کر چکی ہیں، جو انہوں نے نواز شریف کی نااہلی کے بعد اختیار کیا تھا۔ اگرچہ اب روئے سخن تھوڑا سا تبدیل ہے اور بات بالواسطہ ہو رہی ہے،تاہم مدعا وہی ہے جو پہلے بھی بیان ہوتا رہا ہے، مثلاً انہوں نے کہا ہے وہ کٹھ پتلی وزیراعظم کو نہیں مانتیں۔اب وہ براہِ راست فوج یا عدلیہ پر تنقید نہ بھی کریں تو وزیراعظم عمران خان کو کٹھ پتلی کہہ کر اشارہ تو اُسی طرف کر رہی ہیں۔ حالات کچھ اس طرح کا منظر پیش کر رہے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) اب جارحانہ سیاست اپنا رہی ہے۔

کوشش یہی ہے کہ نواز شریف کسی طرح ضمانت ملنے پر ملک سے باہر چلے جائیں، شہباز شریف پہلے ہی بیرون ملک ہیں،پیچھے محاذ خالی چھوڑنے کی بجائے مریم نواز کو اُس کی کمان دے دی گئی ہے۔ مریم نواز اگرچہ خود بھی ضمانت پر ہیں،تاہم اس کا امکان کم ہے کہ اُن کی ضمانت خارج ہو جائے، پھر اُنہیں مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر بھی بنا دیا گیا ہے، جس پر تحریک انصاف الیکشن کمیشن میں ایک پٹیشن تو دائر کر چکی ہے کہ وہ نااہل ہیںاور پارٹی عہدہ نہیں سنبھال سکتیں،لیکن اُن کی سزا ابھی سپریم کورٹ سے کنفرم نہیں ہوئی، اِس لئے مسلم لیگی حلقوں کا خیال ہے کہ اُن پر نااہلی کی شق لاگو نہیں ہوتی۔

سو لگتا یہی ہے کہ جس طرح 1999ءمیں مسلم لیگ(ن) کے دورِ ابتلا کو کلثوم نواز مرحومہ نے سہارا دیا تھا، اُسی طرح اب مریم نواز یہ کردار ادا کرنے کے لئے میدان میں اُتر چکی ہیں۔ یہ باتیں بھی اب شاید قصہ ¿ پارینہ بن جائیں کہ شہباز شریف اور نواز شریف میں مسلم لیگ(ن) پر تسلط کے لئے کوئی رسہ کشی جاری ہے۔مریم نواز نے جس طرح حمزہ شہباز کو اپنے ساتھ رکھا ہوا ہے، اُس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ خاندان کے شیرازے کو بکھرنے نہیں دیں گی۔

سیاست کی اس گرم بازاری میں بلاول بھٹو زرداری بھی بڑی کامیابی سے اپنی حیثیت منوا رہے ہیں۔ آصف علی زرداری بھی اچھی حکمت ِ عملی اختیار کئے ہوئے ہیں، انہوں نے خود کو ایک قدم پیچھے کر لیا ہے۔افطاری زرداری ہاﺅس میں دی گئی، مگر آصف علی زرداری نہیں، بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے۔پھر افطاری میں آنے والوں کا استقبال بھی بلاول بھٹو زرداری نے کیا اور یہ تاثر دینے میں کامیاب رہے کہ اب وہ بڑے ہو گئے ہیں، سو دونوں طرف پارٹی کی قیادت کی منتقلی کا عمل بڑی سوجھ سوجھ سے جاری ہے۔

پیپلزپارٹی میں تو پھر بھی زیادہ جھگڑا نہیں،کیونکہ آصف علی زرداری خود بلاول کو آگے لائے ہیں،البتہ مسلم لیگ(ن) میں یہ تاثر رہا ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف کا بیانیہ بھی الگ ہے اور پارٹی میں دھڑے بندی بھی ہے،مگر مریم نواز ایک طاقتور سیاسی کردار کے طور پر اُبھری ہیںاور انہوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ مسلم لیگ(ن) اب وہ چلائیں گی۔ اُن کی گرفت کا اندازہ اِس امر سے بھی کیا جا سکتا ہے کہ حمزہ شہباز، جو درحقیقت شہباز شریف کی نمائندگی کر رہے ہیں،اُن کے ہم رکاب ہیں اور اُن کی طرف سے کوئی ایسا تاثر نہیں دیا گیا کہ اُنہیں مریم نواز کی قیادت تسلیم نہیں۔

اس وقت مسلم لیگ (ن) میں چودھری نثار علی خان جیسا لیڈر بھی کوئی نظر نہیں آتا،جنہوں نے کہا تھا کہ وہ پارٹی میں بچوں کی تابعداری نہیں کر سکتے۔ اب تو سب وہ لوگ ہیں،جنہوں نے نہ صرف مریم نواز کو اپنی قائد سمجھ رکھا ہے، بلکہ جو اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اس وقت صرف مریم نواز شریف ہی پارٹی کو متحد اور متحرک کر سکتی ہیں۔ سو سیاست بڑی تیزی سے رنگ بدل رہی ہے اور مستقبل میں کوئی بھی رُخ اختیار کر سکتی ہے۔

مزید : رائے /کالم