گلگت۔بلتستان میں ”را“ کی کارستانیاں

گلگت۔بلتستان میں ”را“ کی کارستانیاں
گلگت۔بلتستان میں ”را“ کی کارستانیاں

  

ایک وقت تھا جب ہندوستان کو اپنی ہر ناکامی کے پیچھے پاکستان کی آئی ایس آئی کا ہاتھ نظر آتا تھا۔ہندوستانی لوک سبھا، پاکستانی جاسوسی ایجنسی کے کارناموں سے گونجتی رہتی تھی۔ انڈیا کے طول و عرض میں اگر کہیں کوئی خفیف سا سیاسی احتجاج بھی حکومت کے خلاف ہوتا تو اس کا ”سہرا“ آئی ایس آئی کے سرباندھ دیاجاتا۔ مجھے معلوم نہیں، ہماری انٹلی جنس ایجنسی کے اربابِ اختیار ان ایام میں کس درجے کا تفاخر اپنے نام کیا کرتے تھے۔ لیکن اتنا معلوم ہے کہ یہ تفاخر ہوتا ضرور تھا۔

مجھے بطور ایک جونیئر آرمی آفیسر 1970ءکے عشرے میں آئی ایس آئی ڈائریکٹوریٹ میں کام کرنے کا موقع ملا۔ آپ جس جگہ پوسٹ کئے جاتے ہین، اس میں آپ کے فرائضِ منصبی خواہ کسی بھی فیلڈ میں ہوں، آپ کو باقی فیلڈز کی کچھ نہ کچھ خبریں ضرور ملتی رہتی ہیں۔ آئی ایس آئی ڈائریکٹوریٹ میں جو برانچیں اور جو سیکشن تھے وہ ایسے جزیرے نہیں تھے کہ ان کا باہمی فاصلہ میلوں پر مشتمل تھا۔ یہ ایک ہی سرزمین تھی، اس لئے اس پر کام کرنے والوں کا تعلق خواہ کسی بھی برانچ / سیکشن سے ہوتا تھا، وہ دوسری برانچوں اور سیکشنوں سے یکسر بے خبر نہیں رہ سکتے تھے۔

پھر باہمی دوستیاں تھیں، مزاجوں اور دلچسپیوں کا اشتراک تھا، قربِ مکانی کے تقاضے تھے، وردی پوشوں اور غیر وردی پوشوں کا ایک حسین امتزاج تھا ....اس لئے میں کہہ سکتا ہوں کہ اس دور میں بھی آئی ایس آئی کے کسی بندے نے کبھی تفاخر کی مالا زیبِ گلو نہیں کی تھی۔ بس خاموشی سے اپنا اپنا کام کیا جانا یہاں کی رِیت تھی اور ویسے بھی اپنے خصوصی سیکشن / برانچ کی باتیں ڈسکس کرنے کی سخت ممانعت تھی۔ میں نے بعد میں GHQ میں بھی کئی برس گزارے اور وہاں ”راز، راز ہی رہے“ جیسے پوسٹرز کئی مقامات پر آویزاں دیکھے لیکن آئی ایس آئی ڈائریکٹوریٹ میں کسی بھی جگہ اس قسم کی پروفیشنل تشہیر دیکھنے کو نہیں ملتی تھی....

یہ ”خود انضباطی“ کا ایک قابلِ تقلید مظاہرہ تھا!

انڈیا کی اس ”را“ جاسوس ایجنسی نے 1970-80ءکے عشروں میں آئی ایس آئی سے کافی سبق سیکھا اور اپنی جاسوسی تنظیم کو پاکستانی تنظیم کے خطوط پر ڈھالا۔ آج ”را“ نے جس طرح اپنے بال و پر پھیلائے ہیں، اسی طرح آئی ایس آئی نے بھی نئے دام بچھائے اور نئی قینچیاں بنا کر ان کو کاٹنے میں مہارت حاصل کر لی ہے۔.... تازہ ترین خبر آئی ایس آئی کی طرف سے گلگت۔ بلتستان میں را کے ایک اور نیٹ ورک کی دریافت اور انکشاف ہے۔

کل کے میڈیا میں آپ نے ”را“ کے اس پلاٹ کے منکشف ہونے کی تفصیل دیکھی یا پڑھی ہو گی جس میں آئی ایس آئی نے پاکستان کے سٹرٹیجک اہمیت کے ان شمالی علاقوں میں ہندوستانی جاسوس ایجنسی کی کارستانیوں کو بے نقاب کیا ہے۔ اس آپریشن میں 14 پاکستانی ایجنٹ / کارندے بھی گرفتار کر لئے گئے اور ان کے دو سرغنہ حضرات نے خود کو پاکستانی حکام کے حوالے کر دیا۔ گولہ بارود کی ایک بڑی کھیپ بھی پکڑی گئی.... یہ نیٹ ورک پاکستانی کارندوں پر مشتمل تھا، یہ ”سپوت“ پاکستانی سرزمین کی پیدائش تھے اور اپنی ہی مادرِ وطن کے ساتھ ”وفاداری“ کے ریکارڈ قائم کر رہے تھے۔

ان کی ”کارستانیاں“ دوگونہ تھیں۔ یعنی نظریاتی بھی اور عملی بھی! ویسے تو ان کے کئی ٹیکٹیکل اہداف تھے لیکن ایک سٹرٹیجک ہدف بھی تھا جو پاکستان کی سالمیت کی بنیادوں میں نقب لگانا تھا، پاکستان کی نژادِ نو کو اپنے ہی وطن کے خلاف صف آرا کرنا تھا اور اگر ضرورت پڑے تو ان کے ہاتھوں میں تیر و تفنگ تھما کر اپنا کام نکالنا تھا۔ اس ”کارِ خیر“ پر یہ پاکستانی تنظیم برسوں پہلے سے کام کر رہی تھی۔ اور ”را“ ان پر پانی کی طرح زرفشانی کر رہا تھا۔ حساب لگایا گیا تو معلوم ہوا انڈیا نے اب تک اس پر ایک ارب روپیہ صرف کیا ہے (پاکستانی کرنسی میں ڈیڑھ ارب یا 150کروڑ روپے)۔

خبروں میں بتایا گیا ہے کہ پکڑی جانے والی اس دہشت گرد اور پاکستان مخالف تنظیم کا نام ”بلوارستان نیشنل فرنٹ (حمید گروپ)“ تھا جو پاکستان کی ایک سیاسی پارٹی کے بہروپ میں کام کر رہی تھی۔ اس کے فرائض جو ”را“ کی طرف سے اس کو تفویض کئے گئے تھے وہ یہ تھے کہ پاکستان کے ان شمالی علاقوں میں نوجوان نسل کو پاکستان کے خلاف بھڑکایا جائے اور اسی طرح کا کام لیا جائے جو 1960ءکی دہائی میں مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی سے لیا گیا تھا۔

یہ مکتی باہنی راتوں رات نہیں بن گئی تھی۔ اس نونہال کو درخت بنانے میں بہت محنت کی گئی تھی اور اس کی سیرابی کے لئے ہزار جتن کئے گئے تھے اور تب جا کر یہ شجر باور ہوا تھا۔ انڈیا جیسا کہ ہم جانتے ہیں اپنے حاضر سروس فوجی افسروں کو بلوچستان (پاکستان) بھیج کر ان کو وہی فریضہ سونپ رہا تھا جو برسوں پہلے اس نے مکتی باہنی کو سونپا تھا۔ لیکن الحمدللہ بلوچستان کی مین سٹریم کلبھوشن کے جال میں نہ پھنسی۔

اس جال کا سارا تانا بانا ہماری انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ہنوز برسرعام نہیں رکھا وگرنہ آپ کو معلوم ہوتا کہ دشمن کتنی ”دلسوزی“ اور کتنی پروفیشنل لگن سے یہ نیک کام کر رہا تھا۔ کلبھوشن کی طرح کا ہی یہ نیٹ ورک گلگت۔ بلتستان میں چلایا جا رہا تھا....

فرق یہ تھا کہ کلبھوشن بھارتی باشندہ تھا اور اس کے کارندے پاکستانی تھے جبکہ اس بلوارستان کا سرغنہ پاکستانی تھا، اسی علاقے (غذر) کا فرزندِ ارجمند تھا اور اپنی آنے والی نسلوں کو بھی اپنے ”چشمہءفیض“ سے سیراب کر رہا تھا!.... تاہم کمانڈر کلبھوشن اور حمید خان میں ایک فرق یہ بھی تھا کہ اول الذکر چوری چھپے یہ کام سرانجام دے رہا تھا اور حمید خان ببانگ دہل ایک قومی سیاسی پارٹی کے سربراہ کے طور پر یہ ”خدمتِ خاص “ بجا لا رہا تھا!....

دونوں کا ہدف CPEC تھا۔ گوادر CPEC کا جنوبی سرا تھا اور گلگت بلتستان شمالی سرا (End).... ”را“ نے اپنے اژدھے کے سر اور دم کو مضبوط بنانے پر کروڑوں کی بازی لگا دی تھی۔ اس کا خیال تھا کہ جب سر اور دُم قوی ہوں گے تو اژدھے کا رخ جس طرف چاہیں گے، موڑ لیا جائے گا۔

اگر حمید خان اس تنظیم (بلوارستان) کا سربراہ تھا تو شیر نادرشاہی، اس کے سٹوڈنٹس ونگ کا سر خیل تھا۔ اس کا کام گلگت بلتستان کے کالجوں اور سکولوں میں زیر تعلیم طلباءکی برین واشنگ تھی۔ عبدالحمید خان کا یہ جال نہ صرف پاکستانی علاقوں کو محیط تھا بلکہ اس کے تانتے غیر ملکوں تک پھیلے ہوئے تھے۔

حمید خان کا تعلق وادی ءغذر (Ghizer) سے ہے.... میں جب گلگت میں پوسٹ تھا اور پھر کئی برس بعد جب ”ناردرن لائٹ انفنٹری“ کی تاریخ لکھ رہا تھا تو بارہا ان شمالی علاقوں میں جانے اور ان کے عمائدین سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ یہ ساری تفصیلات میری اس ضخیم کتاب میں دیکھی جا سکتی ہیں جن میں ان زعماءاور 1947ءکی آزادی کے ہیروز کے ساتھ میری تصاویر بھی ہیں۔

سکردو، خپلو، بونجی، چلاس، گلگت، نگر، ہنزہ، یٰسین اور غذر جانے کے بارہا مواقع ملے، گلگت کے ڈگری کالج اور یہاں کی سنٹرل لائبریری میں بہت سا وقت گزارنا پڑا.... جب آپ کسی علاقے کی تاریخ لکھ رہے ہوں تو اس کی تحقیقی کاوش کی پشت پر بہت سے واقعات آپ کا دامن ِ توجہ کھینچتے ہیں.... مَیں ان کی تفصیل اس مختصر سے کالم میں کہاں بتا سکتا ہوں؟....

حمید خان وادی¿ غذر کا رہائشی ہے۔ 1999ءمیں نیپال گیا۔ وہاں انڈین آرمی کے دو کرنیلوں نے اس کو دلی لے جا کر ”را“ کے ہیڈ کوارٹر کے حوالے کر دیا۔ حمید کا پورا خاندان بھی ساتھ تھا.... اس کی بیوی اور تین بیٹے.... بیٹوں کو ڈیرہ دون جیسے الیٹ تعلیمی اداروں میں داخل کروا دیا گیا اور باقی فیملی کو فور سٹار ہوٹل جیسی رہائشی مراعات دے دی گئیں۔ یہ بیٹے2007ءتک وہیں پڑھتے رہے۔ اس کے بعد ان کو مزید اعلیٰ تعلیم کے لئے امریکہ اور برطانیہ بھیج دیا گیا اور ان کے ذمے یہ کام لگایا گیا کہ وہ برسلز(بیلجیم) میں کہ یورپی یونین کا ہیڈ کوارٹر بھی ہے۔

بین الاقوامی کانفرنسوں میں پاکستان کے خلاف تقریریں کریں اورIMF جیسی بین الاقوامی مالی تنظیموں کو خبردار کریں کہ وہ پاکستان کو اقتصادی دلدل سے نکالنے کے لئے کوئی رول ادا نہ کریں اور وہ جو شمالی علاقوں میں پاکستان 6،7ڈیم بنا رہا ہے اس کی فنڈنگ سے بھی ہاتھ کھینچ لیں۔ اورCPEC کی بھرپور مخالفت کریں کہ اس منصوبے کی راہدایاں ان شمالی علاقوں سے گزرتی ہیں جو ”متنازعہ“ ہیں اور جن پر پاکستان نے ”غاصبانہ“ قبضہ کر رکھا ہے۔ وغیرہ وغیرہ....

گلگت سے ایک ماہانہ میگزین بھی نکالا گیا جس کا نام ”بلوارستان ٹائمز“ رکھا گیا۔ (مکتی باہنی نے بھی ایسا ہی کیا تھا).... خبر کے آخر میں بتایا گیا کہ ان دونوں (عبدالحمید خان اور شیر نادر شاہی) نے بالترتیب 8فروری 2019ءاور 29 مارچ 2019ءکو رضاکارانہ ہتھیار ڈال دیئے ہیں اور اب وہ دونوں پاکستان کی تحویل میں ہیں۔

اس آپریشن کے اہدافی تناظر میں اس کا نام (Operation Pursuit) رکھا گیا تھا ....دو تین سوال ذہن میں آتے ہیں۔ یہ بات تو سمجھ میں آتی ہے کہ جب کوئی انٹیلی جنس ایجنسی،کسی معلومات کی بنا پر کسی مشکوک شخص پر ہاتھ ڈالتی ہے تو اس کا سارا ماضی و حال جاننے کی کوشش کرتی ہے اور اس ٹوہ میں رہتی ہے کہ اس کی ڈانڈے اور کہاں کہاں تک پھیلے ہوئے ہیں، اس لئے بسا اوقات اس ادھورے نیٹ ورک کو فوری طور پر منظر عام پر نہیںلاتی۔اس آپریشن میں چار ملک ”ملوث“ تھے۔

انڈیا، نیپال، امارات اور بیلجیم.... جب تک ان چاروں ممالک سے حصولِ انٹیلی جنس کی کڑیاں نہ ملتیں، تب تک اس خبر کی ہوا تک بھی باہر کی،دُنیا کو نہیں دی جانی تھی.... لیکن پھربھی ہمارا خیال ہے کہ اس نیٹ ورک کو توڑنے میں ”ضرورت سے زیادہ“ تاخیر کی گئی.... دوسرا سوال یہ ہے کہ جو14 لوگ گرفتار کئے گئے ہیں ان کی جڑوں یعنی سہولت کاروں کی گہرائی اور گیرائی کیا ہے؟ پبلک کو اس کی اطلاع دینی چاہئے.... تیسری بات یہ ہے کہ اس دشمن نیٹ ورک کی بقا اور ترویج و اشاعت میں پاکستان کے کئی حکومتی آفیسرز بھی ملوث ہوں گے.... ان کا سراغ اگر لگا لیا گیا ہے تو ان کو بتائے بغیر ان کے خلاف کارروائی کی جائے تاکہ باقی افراد کو خبر نہ ہو کہ ان کا بھی اسی نیٹ ورک سے کوئی گہرا تعلق ہے....

اور چوتھی بات یہ ہے کہ اس خبر کی تفصیلات کو خاکوں اور نقشوں کی مدد سے واضح کیا جائے۔ لوگوں کو بتایا جائے کہ غذر کہاں واقع ہے، وہاں سے نیپال کدھر ہے، نیپال سے یہ لوگ امارت کیسے پہنچے،دہلی میں جن جن مقامات پر رہائش پذیر رہے ان کی تصاویر، ڈیرہ دون کے کالجوں اور سکولوں میں ان کے قیام کی تصاویر اور بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں تقریر کرتے ہوئے شیر نادر شاہی کی تصاویر اور متن ِ تقریر بھی قارئین و ناظرین کے سامنے رکھا جائے۔

مزید : رائے /کالم