ڈالر کی ذخیرہ اندوزی شرعا گناہ ،ہر سطح پر بائیکاٹ ضروری علمائ

  ڈالر کی ذخیرہ اندوزی شرعا گناہ ،ہر سطح پر بائیکاٹ ضروری علمائ

  

شجاع آباد(نامہ نگار)ذخیرہ اندوزی کے خلاف شجاع آباد کے تمام مکاتب فکر کے علما ۔متحدتفصیلات کے مطابق جمعیت علمااسلام ضلع ملتان (بقیہ نمبر43صفحہ12پر )

کے سنیئر نائب صدر مولانا قاری رضا المنعم قریشی نے موجودہ حالات میں ڈالر کی قیمت بڑھنے پر اسے فروخت کرنے کو شرعا گناہ قرار دیا ہے،انھوں نے کہا کہ اس انتظار میں ڈالر کو ذخیرہ کرناکہ قیمت بڑھنے پر بیچ کر نفع کمایا جائے یہ عمل شرعا گناہ کے ساتھ ساتھ ملک سے بے وفائی اور ذخیرہ اندوزی کے زمرے میں آتی ہے اور احادیث میں اس عمل کو باعث لعنت قرار دیا گیا ہے اس عمل قبیح سے ہر مسلمان کو بچنا لازم ہے۔ مسلمان مملکت کو نقصان پہچانا صریحا نا جائز ہے اور قانون شکنی ہے وفاق المدارس العربیہ پاکستان جنوبی پنجاب کے ناظم اور جامعہ فاروقیہ کے مہتم و شیخ الحدیث مولانا زبیر احمد صدیقی نے کہا موجودہ ملکی حالات میں ڈالر کی ذخیرہ اندوزی اور ڈالر کو چھپا کر رکھنا شرعی نا جائز ہے، ملکی وفاداری کے خلاف ہے پاکستان کی حق تلفی ہو رہی ہےاور شرعی لحاظ سے بھی درست نہیں۔ حضور اکرم نے ارشاد فرمایا ذخیرہ اندوزی پر اللہ کی لعنت ہو دوسری حدیث میں ارشاد فرمایاجو آدمی سرمایہ یا چیز مارکیٹ میں لاتا ہے اللہ پاک ا±س کو رزق عطا فرماتے ہیں جو ذخیرہ اندوزی کرتا ہے اللہ ا±س پر لعنت فرماتا ہے اسی لیے موجودہ حالات میں پاکستان کے مسلمان ڈالر کی ذخیرہ اندوزی نہ کریں اور رمضان المبارک میں گناہ کے مرتکب نہ ہوںجامعہ عزیز العلوم کے مہتم امداد اللہ عزیز کا کہنا ہے ملکی حالات ملکی معاشی بحران کے سبب تاجر برادری ذخیرہ اندوزی سے اجتناب کریں تاکہ عوام کی مشکلات میں کمی ہو سکےاور تاجر برادری ذخیرہ اندوزی نہ کر کے اپنا دینی فریضا سمجھے دین اور شریعت کی روح سے ذخیرہ اندوزی کرنا قبیح عمل ہے بلکہ اس کو معلون کہا گیا ہے۔ مسلمان تاجر برادری عوام کے ساتھ اس بحرانی کیفیت میں ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے اس عمل سے اجتناب کریں۔جامعہ فاروق اعظم کے مدیر اعلی اور مشہور عالم دین مولانا سراج احمد قریشی نے کہا کہ ڈالر کا بائیکاٹ کیا جائے اور غیر ضروری طور پر غیر ملکی اشیا خریدنے سے گریز کیا جائے انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ گھروں میں موجود اپنے ڈالرز باہر لائیں اور ملک کی ڈوبتی ہوئی معشیت کو بچانے میں اہم کردار ادا کریں۔جامعہ عزیزالعلوم کے ناظم اعلی حماد اللہ عزیز نے کہا گندم، چینی ڈالر اور اشیا خوردونوش کی ڈخیرہ اندوزی شرعا گناہ ہے اور ذخیرہ اندوز پر اللہ کی لعنت ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کو ترجیح دیں۔ترکی میں ایک ڈالر 450 لیرا تک پہنچ چکا تھا جب ترکی کی عوام نے ڈالر کا بائیکاٹ کیا تو آج ترکی میں ایک ڈالر 6 لیرا کا ہے۔اگر ذخیرہ اندوز ڈالر کو مارکیٹ میں لائیں اور ہم اپنی مصنوعات کا استعمال کریں اور ڈالر انشااللہ عنقریب کم ہوتا جائے گا۔درسگاہ محمدیہ اظہرالعوم کے نائب مہتم صاحبزادہ حسان اظہری نے کہا ہے ذخیرہ کی جانے والی اشیا مختلف اقسام کی ہوتی ہیں ذخیرہ سے لوگ تنگی میں مبتلا ہو کرانتہائی مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہو جائیں گناہ ہے اشیائے ضرورت کی مصنوعی قلت پیدا کر کے مہنگے داموں فروخت کرنے والے کو رسول اللہ نے ملعون قرار دیا ہے ڈالر یا دیگر غیر ملکی کرنسیاں اسی زمرے میں آتی ہیں اگر کسی شخص نے بازار سے ڈالرز کی اتنی مقدار خرید کر لی جس سے قیمت پر اثر پڑتا ہے تو ناجائز ہے ۔مرکزی جامع مسجد مصعب بن عمیر( رضی اللہ عنہ)اھلحدیث مسجد کے امام اور خطیب قاری خالد محمود نے ذخیرہ اندوزی کی سخت مذاحمت کرتے ہوئے عوام سے پرزور اپیل کی ہے کہ اشیا اور ڈالر کا سٹاک مت کریں ڈالر کی ذخیرہ اندوزی احتکار ہے،جو اخلاقی اور شرعی ہر دو لحاظ سے جائز نہیں ہے۔ذخیرہ اندوزی کی جتنی مذاحمت کی جائے وہ کم ہے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -