ٹرمپ انتظامیہ ”امریکی طالبان“ کو جلد ی کیوں رہا کر رہی ہے : سینیٹرز کا سوال

  ٹرمپ انتظامیہ ”امریکی طالبان“ کو جلد ی کیوں رہا کر رہی ہے : سینیٹرز کا سوال

  

واشنگٹن (اظہر زمان، بیوروچیف) امریکی سینیٹ ارکان نے ٹرمپ انتظامیہ سے یہ سوال پوچھا ہے کہ وہ ”امریکی طالبان“ کو کیوں جلد رہا کرنے جا رہی ہے۔ سینیٹ کی مالیاتی تخصیص کرنے والی کمیٹی کے ری پبلکن چیئرمین رچرڈ شیلبی اور ڈیمو کریٹک رکن میگی حسن نے ”امریکی طالبان“ کہلانے والے دہشت گرد جان واکر کے بارے میں جواب طلب کیا ہے، جس کی 23 مئی کو وفاقی جیل سے رہائی کا امکان ہے۔ ان دو ارکان نے کمیٹی کی طرف سے جیلوں کے وفاقی بیورو کے قائم مقام ڈائریکٹر ہیوہروز کے نام ایک مشترکہ خط میں متوقع جلد رہائی پر اعتراض کیا ہے اور پوچھا ہے کہ اس رہائی کے نتیجے میں عوام کے تحفظ کیلئے امریکی حکومت کیا اقدامات کر رہی ہے۔ ”امریکی طالبان“ کو 2001ءمیں افغانستان سے پکڑا گیا تھا جس سے اگلے سال اس نے طالبان کے ایک سپاہی کے طور پر کام کرنے کا اعتراف کرلیا تھا۔ سینیٹ ارکان نے پوچھا ہے کہ جان واکر کو عدالت نے 20 سال قید کی سزا سنائی تھی لیکن اسے شیڈول سے قبل ہی 23 مئی کو کیوں رہا کیا جا رہا ہے۔ امریکی شہری ہونے کی وجہ سے جان واکر حراست میں لئے جانے والے طالبان جنگجوﺅں میں سب سے نمایاں حیثیت اختیار کرگیا تھا اور اس بناءپر اسے ”امریکی طالبان“ کا لقب دے دیا گیا تھا۔سینیٹ کمیٹی نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ آئندہ چند برسوں میں دیگر 108 دہشت گرد بھی رہائی پانے والے ہیں، لیکن پبلک کو کچھ نہیں بتایا جا رہا ہے کہ انہیں کس وقت اور کس جیل سے رہا کیا جائے گا اور رہائی کے بعد یہ دہشت گرد کہاں جائیں گے۔ ان کی اتنی زیادہ تعداد میں رہائی سے قومی تحفظ کے حوالے سے کیا کیا مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ ان کو کیسے نمٹا جائے گا، اس معاملے سے بھی عوام بے خبر ہیں۔ سینیٹ ریکارڈ کے مطابق 2025ءتک ایسے تمام مجرم رہائی پانے والے ہیں، جنہیں دہشت گرد قرار دیا گیا تھا۔سینیٹ کمیٹی کے چیئرمین نشیلبی نے 27 مارچ کو صدر ٹرمپ کے نام ایک خط میں بھی ”امریکی طالبان“ کے بارے میں سوال اٹھائے تھے جو الباما ریاست میں ایک سی آئی اے آفیسر مائیکل سپان کی اولاد تھا۔ جب امریکی طالبان کابل جیل میں تھا تو اس وقت مزار شریف پر ایک کارروائی کے دوران مائیکل سپان ہلاک ہوگیا تھا، جو امریکی جنگ میں نشانہ بننے والا پہلا امریکی تھا، جس کی ہلاکت کو بھی ”امریکی طالبان“ کی قید سے منسلک کیا جاتا رہا ہے۔

سینٹرز خط

مزید :

صفحہ اول -