مریم نواز کی دبنگ انٹری

مریم نواز کی دبنگ انٹری
مریم نواز کی دبنگ انٹری

  

مریم نواز کی پاکستان کی سیاست میں دبنگ انٹری ہوئی ہے ، وہ نواز شریف کے بغیر نکلی ہیں اور سب ان کے ہمراہ نکل کھڑے ہوئے ہیں ، دیکھنا یہ ہے کہ بدلے کی سیاست کرتی ہیں یا عوامی مسائل کی۔ فی الحال تو وہ حکومت کے خلاف سیاست کر رہی ہیں ، ووٹ کو عزت دو کی سیاست کر رہی ہیں، حکومتی ترجمان کا ماننا ہے کہ وہ ابو بچاﺅ سیاست کرنے نکلی ہیں۔

مریم نواز نے بلاول بھٹو کی دعوت افطار قبول کی تو جیسے بھونچا ل آگیا ، میڈیا نے تاک تاک کر نشانے لگانا شروع کردیئے، حالانکہ مریم نواز اور بلاول بھٹو اپنی اپنی پارٹیوں کی دوسرے درجے کی قیادت ہیں ، ان پارٹیوں کی اول درجے کی قیادت زیر عتاب ہے، جیلوں میں ہے اور ان کے وارث سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں لیکن ان کی جانب سے کمال سیاست کھیلی گئی ہے کہ اپنی اپنی پارٹیوں کی دوسرے درجے کی قیادت سے وزیر اعظم عمران خان اور ان کی حکومت کو نااہل، نالائق اور نکمی حکومت کے القابات دلوا رہی ہے۔

دونوں پارٹیوں کی نوجوان قیادت وزیر اعظم عمران خان کے خلاف نکل آئی ہے کیونکہ انہوںنے اس ملک کی نوجوان اور بعض ایک صورتوں میں تو ابھی کم نوجوان لوگوں کو بھی متاثر کیا تھا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ منظور پشتین بھی نوجوان ہیں، اگر کل کو یہ ساری نوجوان قیادت نوجوانوں کی مقبول لیڈرشپ عمرا ن خان کے خلاف اکٹھی ہوگئی تو کیا دما دم مست قلندر نہیں ہوگا!

سیاست میں تاثر کی بڑی اہمیت ہوتی ہے اور عام تاثر ہے کہ حکومت ناکام ہو چکی ہے اور ملک پر اس کا کنٹرول نہیں ہے ، اپوزیشن کی تحریک کی کامیابی کے لئے یہ تاثر ہی کافی ہے ۔ تاہم جس بڑے سکیل کی اپوزیشن کا اتحاد ہونے جا رہا ہے اس سے لگتا ہے کہ اپوزیشن صرف وزیر اعظم عمران خان سے ہی نہیں اسٹیبلشمنٹ سے ٹکر لینے کی تیار ی کر رہی ہے ، پارلیمنٹ کے اندر بھی اور پارلیمنٹ سے باہر بھی کیونکہ اپوزیشن نے خالی مہنگائی کے محاذپر ہی عوام کا مقدمہ نہیںلڑنا ہے بلکہ آئین کو درپیش خطرات کا بھی پارلیمنٹ کے اندر رہتے ہوئے مقابلہ کرنا ہے۔

اس میں شک نہیں کہ اس وقت ملک میں اگر کوئی لیڈر لوگوں کو اکٹھاکرکے کوئی تحریک بپا کرسکتا ہے و ہ نوازشریف ہیں ، مریم اور بلاول کا بھی وہ امیج نہیں ہے جو نوازشریف کا ہے لیکن نواز شریف اس طرح سے حکومت کی زبانی درگت نہیں بناسکتے جس طرح مریم یا بلاول بھٹو بنا رہے ہیں اور بناتے رہیں گے ۔

ان کے علاوہ مولانا فضل الرحمٰن ہیں جن کے پاس عددی اکثریت تو ہے لیکن الیکٹورل اکثریت نہیں ہے لیکن چونکہ ان کے علاوہ نواز شریف اور آصف زرداری کسی تحریک کی قیادت نہیں کرسکتے اس لئے مریم نواز اور بلاول بھٹو کو مولانا فضل الرحمٰن کی سپورٹ لازم ہوگی۔ جس طرح اپوزیشن میں ہوتے ہوئے عمران خان کو علامہ طاہرالقادری اور خادم حسین رضوی کی حمائت حاصل تھی۔ ان سب سے بڑھ کر میڈیا کا کردار بھی اتنا ہی اہم ہوگا کہ آیا وہ اسی تاثر کو بڑھاوا دیتا ہے جو اپوزیشن حالات سے اخذکر رہی ہے یا پھر وہ اپوزیشن کو ہی لتاڑتی رہے گی ۔

جنرل مشرف کے اقتدار سنبھالنے پر نواز شریف جیل گئے تو کلثوم نواز مرحومہ ایسی سیاستدان دریافت ہو گئی تھیں اور دنوں میں ہی انہوں نے ایسا رنگ جمایا تھا کہ جنرل مشرف کو ہتھیار ڈالنے پڑے تھے اور نواز شریف کو جیل سے نکالنا پڑا تھا ۔ اب کی بار نواز شریف جیل گئے ہیں تو مریم نواز دریافت ہوتی جا رہی ہیں بلکہ ان کے جیل جانے سے پہلے ہی مریم نواز نے اپنی سیاسی صلاحیتوں کا لوہا منوالیا تھا ۔ گویا کہ نواز شریف کا جیل جانا ان کی فیملی کے لئے بہت نیک فال ثابت ہوتا ہے اور ان کے گھر سے اسی طرح سے سیاستدان سامنے آتے ہیں جس طرح بھٹو خاندان سے بھٹو کے بعد سامنے آئے۔

جس طرح نواز شریف تحریک استقلال جوائن کرنے کے بعد پاکستان کی سیاست میں ہر آ نے و الے دن کے ساتھ اہم ہوتے چلے گئے تھے اسی طرح مریم نواز بھی سیاست میں قدم رکھنے کے بعد ہر آنے والے دن کے ساتھ اہم ہوتی جا رہی ہیں۔ البتہ حمزہ شہباز کے چہرے پر چھائی مردنی کو سب نے محسوس کیا ہے ۔ شائد اس کی وجہ یہ ہے کہ مریم کے ابو جیل میں ہیں اور حمزہ کے ابو لندن میں ہیں!

مزید : رائے /کالم