سپریم کورٹ کا ڈی جی ایل ڈی اے کو انتقامی کارروائی کا نشانہ نہ بنانیکی ہدایت

سپریم کورٹ کا ڈی جی ایل ڈی اے کو انتقامی کارروائی کا نشانہ نہ بنانیکی ہدایت

  

اسلام آباد(آن لائن )سپریم کورٹ نے ڈی جی ایل ڈی اے آمنہ عامر کا تبادلہ ا±نکے گریڈ کے مطابق کرنے کا حکم دیتے ہوئے ڈی جی ایل ڈی اے کو انتقامی کارروائی کا نشانہ نہ بنانے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔عدالتی معاونت کی پاداش میں مقدمات کا سامنا کرنیوالی ڈی جی ایل ڈی اے کی پنجاب حکومت کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں تین ر کنی بنچ نے کی۔ دوران سماعت عدالت نے قرار دیا کہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر توہین عدالت کی کاررروائی کی جائے گی۔پنجاب حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا ڈی جی ایل ڈی اے کیخلاف درج دو ایف آئی آر کو قانون کے مطابق نمٹایا جائے گا۔کیس کی سماعت کے دوران ڈی جی ایل ڈی اے نے سپریم کورٹ کو بتایا اینٹی کرپشن کی طرف سے ا±نکے خلاف دو مقدمات کے اندراج سے ترقی کا عمل رک گیا ،پنجا ب حکومت کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔عدالت نے استدعا مسترد کرتے ہوئے سروس ٹربیونل سے رجوع کرنے کی ہداہت کرتے ہوئے پنجاب حکومت کی یقین دہانی پر مقدمہ نمٹا دیا۔

اسلام آباد( آن لائن ) سپریم کورٹ نے بوگس بلوں اور جعلی بھرتیوں کے مرتکب ملزم کی درخواست ضمانت مسترد کردی ہے ۔ درخواست ضمانت پر سماعت جسٹس عظمت سعید شیخ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی دوران سماعت ملزم کے وکیل نے عدالت میں موقف اپنایا کہ جو کمپیوٹر ریکارڈ تھا اس کے مطابق منظوریاں دی جائیں ،نیب وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بوگس فارموں کے ذریعے جعلی بھرتیاں کی گئیں ،جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیئے کہ کہاں لکھا ہے کہ تصدیق نہیں کرنی صرف کمپیوٹر دیکھنا ہے کیا مبینہ ملزم کو چھوڑ کر کمپیوٹر کو سزا دے دیں ،کمپیوٹر پر ریکارڈ کو سات سالہ بچہ بھی دیکھ سکتا ہے پھر سترہ گریڈ کے افسر کی کیا ضرورت ہے ،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ سترہ گریڈ کے افسر کا کام اپنا دفاع استعمال کرنا ہے ،ملزم محمد وقاص انجم پرقومی خزانہ کو چار کروڑ روپے نقصان پہنچانے کا الزام ہے ،عدالت نے ملزم محمد وقاص انجم کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔مزید براں سپریم کورٹ نے بینک ملازمین کے دوران ملازمت کرپشن کرنے والے ملزم کی بریت کیخلاف نیب کی طرف سے دائر کردہ اپیل مسترد کردی ہے معاملہ کی سماعت چیف جسٹس جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی اس موقع پر عدالت نے قرار دیا کہ محمد صابر2004ء میں بطور کیشیئربینک کے کیش میں خورد برد کیا اور ڈکیتی کی ناکام کوشش کی جس پر محمد صابر کو ڈھائی سال کی سزا سنائی گئی ہائی کورٹ نے دو ہزار دس میں محمد صابر کو ناقابل تردید شواہد نہ ہونے پر الزامات سے بری کردیا ،ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق الزامات کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں بینک میں روزانہ کی کیش کی بیلنس شیٹ تیار ہوتی ہے عدالت عظمت نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے نیب کی طرف سے دائر اپیل خارج کرتے ہوئے معاملہ نمٹا دیا۔

مزید :

علاقائی -