ملک لوٹنے والے کرپٹ ٹولے سے کسی قسم کی کوئی ڈیل نہیں ہو گی:شہریار آفریدی

ملک لوٹنے والے کرپٹ ٹولے سے کسی قسم کی کوئی ڈیل نہیں ہو گی:شہریار آفریدی

  

کوھاٹ (بیورو رپورٹ) وزیر مملکت برائے سیفران شہریار آفریدی نے کہا ہے کہ سابقہ حکومتوں کی غلط پالیسیوں کے سبب ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا مجبوراً آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا مہنگائی کا سبب آئی ایم ایف نہیں ملک کو بہتری کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے مشکلات برداشت کرنا پڑیں گی قوموں پر اچھے اور برے وقت آتے رہتے ہیں قومی اداروں کی تنظیم نو کا عمل جاری رہے گا ملکی دولت لوٹنے والوں اور قومی چوروں کے ساتھ کوئی ڈیل نہیں ہو گی پشتون تحفظ مومنٹ کے مطالبات دراصل تحریک انصاف کے مطالبات تھے مگر ان کا لہجہ غلط تھا اور اس کی ذمہ داری ریاست کے بجائے کسی ادارے پر ڈالنا سراسر زیادتی ہے سابقہ حکمرانوں نے قوم سے جھوٹ بولا اور انہیں دھوکے میں رکھا گیا تحریک انصاف کے بہتر اقدامات سے قوم پر مسلط سختی کا جلد ازالہ ہو گا تاہم سختی کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے آپ کو تیار کرنا ہو گا دورہ کوھاٹ کے دوران کوھاٹ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شہریار آفریدی نے کہا کہ ہم قطر‘ ترکی اور سعودی عرب حکومتوں کے مشکور ہیں جنہوں نے مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کی اور اب دنیا نے بھی عمران خان کے اقدامات کے تحت نئے پاکستان بارے سنجیدگی سے سوچنا شروع کر دیا ہم نے 175 ممالک کے لیے آن لائن ویزا کا اجراء کیا بڑے بڑے چوروں پر ہاتھ ڈالا آئی این جی اوز کی مشکوک سرگرمیوں کا نوٹس لیا سمندر ہوا اور روڈ بلاک کر کے ڈالر کی سمگلنگ روکی رقم کی غیر قانونی ترسیل حوالہ‘ ہنڈی پرپابندی لگائی تو پاکستان میں سرمایہ کاروں کی لائنیں لگ گئیں اور یہ سب کوھاٹ کے اس سپوت کا کمال ہے کوھاٹ میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے سیفران وزیر کا کہنا تھا کہ اس وقت کوھاٹ کے لیے آن گراؤنڈ 15 منصوبوں پر کام ہو رہا ہے جس میں 150 کروڑ کے صرف بجلی منصوبے شامل ہیں کوھاٹ کے نام نہاد سیاستدانوں نے اگر میرے کاموں پر سٹے نہ لیے ہوتے تو آج کوھاٹ کی شان ہی دوسری ہوتی میں نے کوھاٹ کے لیے ٹرانس فارمر ورکشاپ منظور کیا گیس سے محروم علاقوں کو سہولت فراہمی کے لیے 101 کلومیٹر پائپ لائن منظور کی واپڈا کے تین نئے فیڈرز کی منظوری دی اور کے ڈی اے انٹرچینج کے منصوبے پر کام شروع ہونے والا ہے ہم نے کوھاٹ کے لیے دو نئے ایف سی پلاٹون قائم کیے خستہ حال بجلی تاروں کی تبدیلی کا کام شروع کیا گیا اور دس عدد اضافی ٹرانس فارمر لیے گئے جو بوقت ایمرجنسی کام آئیں گے شکردرہ میں گرڈ سٹیشن قائم کیا جا رہا ہے کوھاٹ میں ایس این جی پی ایل ریجنل آفس کا قیام‘ کوھاٹ ریجن میگا نادرا آفس‘ انجینئرنگ یونیورسٹی عمارت کی تعمیر تحریک انصاف کا ہی کارنامہ ہے علاوہ کوھاٹ میں کینسر ہسپتال کا قیام‘ سپورٹس اکیڈمی‘ کچہری چوک تا پی اے ایف چوک انڈر پاس روڈ کی تعمیر‘ برن سنٹر کا قیام‘ استرزئی اور گمبٹ میں ٹراما سنٹرز کی تعمیر‘ کوھاٹ وومن کمپلیکس‘ گنڈیالی میں ریجنل اکیڈمی برائے ریسکیو 1122‘ دو عدد آئل ریفائنریز‘ کوھاٹ موبائل ہسپتال‘ دور دراز دیہی علاقوں میں بجلی کی کم وولٹیج کا خاتمہ‘ روالپنڈی کوھاٹ روڈ کی تعمیر و مرمت‘ سی پیک منصوبہ کے تحت چور لکی نظام پور جنڈ پنڈی گھیپ موٹر وے‘ انڈس ہائی وے کی تعمیر و مرمت چورلکی سوڈل شکردرہ ہائی وے‘ لاچی تا ھنگو ہائی وے‘ جانانہ ملز تا بائی پاس روڈ کشادگی‘ 1200ایکڑ رقبہ پر کوھاٹ انڈسٹریل زون‘ شاہ پور‘ استرزئی‘ جرما‘ چورلکی‘ زیارت شیخ اللہ داد کے لیے گیس فراہمی پائپ لائن‘ ریلوے اور واپڈا کی بھرتی میں کوھاٹ کا کوٹہ‘ روالپنڈی کوھاٹ کے مابین دوسری ریل گاڑی کا اجراء‘ روٹس‘ نمل اور نسٹ یونیورسٹی کی کوھاٹ میں برانچز کا قیام‘ دینی مدارس کے لیے نیا انفراسٹرکچر‘ کینٹ داخلہ میں سہولت پیدا کرنے کے لیے کمیٹی کا قیام‘ بیزوٹ محمد زئی پہاڑی تنازعہ کے حل کے لیے کمیٹی کا قیام‘ سمال ڈیمز‘ کازوے ہسپتال اور فلاح و بہبود کے دیگر اداروں کا قیام تحریک انصاف کے کارنامے ہیں انہوں نے کہا کہ میرا خواب کوھاٹ کو ایجوکیشن سٹی بنانا ہے جس کے لیے میں پارلیمنٹ میں اپنا رول ادا کرتا رہوں گا اور یہ میری کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ 19 ملکوں کے سیفروں کو یہاں کوھاٹ لایا اور چائنہ کے تعاون سے کوھاٹ یونیورسٹی میں ٹیکنیکل ٹریننگ کے لیے ICT لیب قائم کیا پریس کانفرنس سے صوبائی مشیر برائے تعلیم ضیاء اللہ بنگش نے بھی خطاب کر کے اپنی کارکردگی سے شرکاء کو آگاہ کیا۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -