پانامہ اسکینڈل کے 435افراد کو کٹہرے میں لایا جائے،لیاقت بلوچ

پانامہ اسکینڈل کے 435افراد کو کٹہرے میں لایا جائے،لیاقت بلوچ

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ موجودہ حالا ت میں جبکہ عوام مسائل کا شکار ہیں اور ملکی معیشت قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے، جماعت اسلامی عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی ان کی ترجمانی کے لیے ان کی طاقت بنیں گے اور ظلم کے نظام کو ریزہ ریزہ کریں اور اس مقصد کے لیے ہر دینی و سیاسی جماعت اور قیادت سے شراکت کا تعلق ہم برقرار رکھیں گے اور کسی الائنس کا حصہ بنے بغیر اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔16جون کو فیصل آباد میں غربت، مہنگائی، بے روزگاری اور آئی ایم ایف کی غلامی کے خلاف ایک عظیم الشان مارچ ہوگا،ضروری ہے کہ عوام کے اندر خود اعتمادی پیدا کریں، قوم پر اعتماد کریں اور حقیقی معنوں میں خود انحصاری کی پالیسی پر عمل پیرا ہوں۔ہمارا مطالبہ بھی یہی ہے کہ ملک کو کرپشن سے پاک کیا جائے اور پنامہ لیکس کے 435افراد کو احتساب کے کٹہرے میں لایا جائے،قرضے لینے اور معاف کروانے والوں سے قومی دولت واپسی لی جائے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی ضلع ایئر پورٹ کے تحت شاہ فیصل کالونی نمبر 3میں عوامی دعوت ِافطار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ افطار میں ضلع ایئر پورٹ کے عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔دعوت ِافطار سے امیر ضلع ایئر پورٹ توفیق الدین صدیقی نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پر امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن، ڈپٹی سکریٹری کراچی یونس بارائی،سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری ودیگر بھی موجود تھے۔اس موقع پر مہنگائی، بے روزگای اور آئی ایم ایف کی غلامی کے خلاف بینرزبھی آایزاں کیے گئے تھے۔ لیاقت بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے مزیدکہا کہ رسول اللہ ؐ کے فرمان کے مطابق رمضان المبارک میں شیطان بند کردیے جاتے ہیں اور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ اہل ایمان کے لیے نیکی کرنا آسان ہوجاتا ہے۔آج عالم اسلام بحران سے دوچار ہیں،کشمیر، فلسطین میں مسلمان بہت سنگین صورتحال سے دوچار ہیں، امریکہ جو افغانستان میں شکست کھاچکا ہے خلیج میں ایک نئی جنگ مسلط کرنا چاہتا ہے، امریکہ عالم اسلام کو بحران سے دوچار کرنا چاہتا ہے۔پاکستان جو ایک ایٹمی ملک ہے،وسائل سے مالا مال ہے لیکن حکمرانوں کی وجہ سے مسائل سے دوچار ہے، معیشت تباہ و برباد ہوچکی ہے اور عوام پر قرضوں، ٹیکسوں اور مہنگائی کا بوجھ ڈالا جارہا ہے۔انہوں نے کہاکہ عمران خان سے عوام کو امیدتھی کہ حالات تبدیل ہوں گے لیکن ان کی تبدیلی کا نعرہ ایک مذاق بن گیا ہے،اقتدار میں آنے کے بعد وہی حکمت عملی ہے جو پہلے تھی،سودی معیشت آج بھی موجود ہے،قرضوں پہ قرضے لیے جارہے ہیں،کرپشن اور رشوت عام ہے۔ان چیزون کو درست کرنے کے بجائے ماضی کے طریقوں پر عمل کررہے ہیں،آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کی باتیں اور دعوے کرتے تھے لیکن آج اپنے قول کے خلاف عمل کررہے ہیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -