ورلڈ کپ سکواڈ میں عامر اور وہاب کی حیران کن شمولیت

ورلڈ کپ سکواڈ میں عامر اور وہاب کی حیران کن شمولیت
ورلڈ کپ سکواڈ میں عامر اور وہاب کی حیران کن شمولیت

  

پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی نے ورلڈ کپ کے لئے پندرہ رکنی ٹیم میں فاسٹ باﺅلر محمد عامر اور وہاب ریاض کو شامل کرکے حیران کن فیصلہ کردیا محمد عامر جن کو انگلینڈ ساتھ لے جانے کا مقصد ان کو انگلینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز میںموقع دیکر انکی فٹنس کا جائزہ لینا تھا مگر ان کو تو ایک بھی میچ نہیں کھلایا گیا جس کی وجہ سے ان کی کارکردگی جانچے بغیر ہی ان کو ٹیم میں شامل کرلیا گیا اب کیا پتہ کہ چکن پاکس بیماری میں مبتلا ہونے کے بعد وہ کھیلنے کے لئے مکمل طور پر فٹ ہیں بھی کہ نہیں اس طرح کے فیصلے کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی کی جانب سے کئے جاتے ہیں کہ لوگ حیران رہ جاتے ہیں اور ایسے وقت میںجب بہت پہلے ہی ٹیم کے کھلاڑیوں کا انتخاب عمل میں لایا جانا چاہئیے تھا اس قسم کے فیصلے کرکٹ ٹیم کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہیں دوسری طرف سلیکشن کمیٹی کی طرف سے جو فیصلہ سامنے آیا وہ یہ ہے

کہ فاسٹ باﺅلر وہاب ریاض کو ٹیم میں شامل کرلیا گیا دو سال تک قومی ٹیم کے لئے نہ کھیلنے والے وہاب ریاض کو کس بنیاد پر ٹیم میں شامل کیا گیا ہے اس کا جواب تو سلیکشن کمیٹی کو دینا چاہئیے کہ چیمپنز ٹرافی میں آخری مرتبہ وہاب ریاض دو سال قبل ٹیم کا حصہ تھے اور اب ان کو اس دوران نہ کھلایا گیا اور نہ ہی ان کا فٹنس ٹیسٹ لیا گیا اور فوری ان کو ٹیم میںشامل کرلیا گیا یہ اچھا فیصلہ نہیں ہے اور ان کی پرفارمنس بارے جو شک و شبہات ہیں وہ کون دور کرے گا ایسے موقع پر اس قسم کے تجربات سے ہی قومی ٹیم نقصان اٹھاتی ہے سلیکشن کمیٹی کے سربراہ انضمام الحق کواس معاملے میںدرستگی لانے کی ضرورت تھی

اور وہ تو وہاب ریاض کی تعریفوں کے پل باندھ رہے ہیں کسی ایسے باﺅلر کو ٹیم میںشامل کیا جانا چاہئیے جس کی کارکردگی کم سے کم عوام کے سامنے ہو اور وہ اس وقت کھیل کا حصہ بھی ہوں اب جب ورلڈکپ سر پر ہے تو وہاب ریاض اتنے عرصہ سے کرکٹ سے دور ہونے کے بعد کس طرح سے عمدہ پرفارمنس کامظاہرہ کرتے ہیں یہ تو ورلڈ کپ کے افتتاحی میچ میں ہی پاکستان جس میں ویسٹ انڈیز کامقابلہ کرے گا پتہ چل جائے گا فہیم اشرف کو ٹیم سے باہر نکالنے کی منطق بھی سمجھ سے باہر ہے جبکہ وہ ایک بہت اچھے باﺅلر کے ساتھ ساتھ ایک اچھے بیٹسمین بھی ہیں اور ان کی ٹیم میںجگہ بنتی ہے مگر ان کو ڈراپ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا اس کے ساتھ ساتھ اوپنر عابدعلی کو بھی انگلینڈ کے خلاف موقع دئیے بغیر ٹیم سے باہر کردیا گیا ہے ان کو ٹیم کا حصہ بنانا چاہئیے تھا بہرحال دیکھنا یہ ہے

کہ ان فیصلوں کا نتیجہ کیا نکلتا ہے اور کیا جس مقصدکے لئے یہ تبدیلیاں کی گئیں ہیں کیا اس میں کامیابی ملتی ہے کہ نہیں مگر ایسے موقع پر اس قسم کے فیصلے زیادہ تر نقصان دہ ہی ثابت ہوتے ہیں پاکستان کی سلیکشن کمیٹی کو ورلڈ کپ سکواڈ کے لئے مسلسل کھیلنے والے کھلاڑیوں کو شامل کرنے کی ضرورت تھی تاکہ ان کوکھیلنے میں کوئی مشکل پیش نہ آئے انگلینڈ کےخلاف پاکستان کی باﺅلنگ نے انتہائی ناقص کھیل کا مظاہرہ کیا او ر اس کو دیکھتے ہوئے سلیکشن کمیٹی نے کھلاڑیوں کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ ورلڈ کپ کے لئے باﺅلنگ کے شعبہ کو مضبوط کیا جاسکے مگر جذباتی فیصلوں کے بجائے سوچ سمجھ کر فیصلے کرنے کی ضرورت ہوتی ہے

اورکیا پتہ اب ورلڈ کپ میں بیٹسمین ہی نہ چلے تو پھر پاکستان کی سلیکشن کمیٹی کے پاس ان کو تبدیل کرنے کا موقع تو نہیں ہوگا تو پھر کیا کیا جائے گا اس لئے جو کھلاڑی ٹیم میںشامل تھے ان کو ہی اپنے کھیل میںبہتری لانے کی ضرورت تھی اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ محمد عامر اور وہاب ریاض بہت اچھے باﺅلر ہیں اور انگلینڈ کی سر زمین پر ان کی کارکردگی بھی اچھی رہی ہے مگر ان کا اس ورلڈ کپ میںعمدہ پرفارمنس دکھانے کےلئے مکمل طور پر فٹ ہونا بھی بہت ضروری ہے

اس کے بغیر تو وہ عمدہ پرفارمنس دکھانے سے قاصر ہیںکاش انگلینڈ کے خلاف پاکستان کی ٹیم کم از کم دو میچ ہی جیتنے میںکامیاب ہوجاتی تو کھلاڑیوں کی تبدیلی کا رسک لینے کی ضرورت ہی نہ پڑتی اور جو کھلاڑی ٹیم کاحصہ تھے ان کو ہی شامل کئے رکھا جاتا ورلڈ کپ میں پاکستان کے پاس اب کوئی غلطی کی گنجائش نہیں ہے اور جن کھلاڑیوں کو حتمی طور پر منتخب کیا جائے گا ان پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اب اپنی مکمل توجہ صرف کھیل پر مرکوز رکھیں اور ان پر جس اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے

اس پر پورا اتریں ورلڈ کپ میں شرکت کرنا ہر کھلاڑی کاخواب ہوتا ہے اور کوشش ہوتی ہے کہ وہ اس کو اپنے کیرئیر کے لئے یادگار بھی بنائے بہرحال دعا ہے کہ ٹیم جن بھی کھلاڑیوں کے ساتھ ورلڈ کپ کے میچز میںمیدان میں اترے کامیابی حاصل کرے اور ورلڈ کپ اپنے نام کرے قوم کی دعائیں اپنی جگہ مگر اس کے ساتھ ساتھ کھلاڑیوں کو بھی ذمہ داریوں کو سمجھنا ہوگا اور ایک بہترین گیم پلان تیار کرنا ہوگا جس سے پاکستان کی ٹیم میدان میں حریف ٹیم کو شکست دینے میں کامیاب ہوسکے۔

مزید : رائے /کالم