معاشی ابتری کے دوران، بلاول بھٹو کا افطار ڈنر، سیاسی ارتعاش کا باعث بن گیا

معاشی ابتری کے دوران، بلاول بھٹو کا افطار ڈنر، سیاسی ارتعاش کا باعث بن گیا

  

دس ماہ کی حکومتی کارکردگی نے ماضی کی شدید حریف سیاسی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ(ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی کو حلیف کا روپ ڈھالنے پر مجبور کیا ہے یا پھر ان کے خلاف نیب اور حکومتی رویے نے ان جماعتوں کو اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے؟ ان سوالات پر دارالحکومت میں بحث چھڑی ہوئی ہے۔اسی تناظر میں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی افطاری نے قومی سیاست میں ایک ارتعاش پیدا کر دیا ہے۔ ملک کی حالیہ سیاسی صورتِ حال میں بلاول بھٹو کی جانب سے زرداری ہاﺅس میں منعقد ہونے والا افطار ڈنر اور اس کے سیاسی مضمرات پر چہار سو بحث جاری ہے۔ اپوزیشن جماعتوں میں ایک نئی صف بندی ہونے جا رہی ہے۔بلاول بھٹو کی اس پہل کے نتیجے میں اپوزیشن جماعتوں کو سر جوڑ کر بیٹھنے اور مستقبل کی سیاست کے لئے ایک لائحہ عمل مرتب کرنے کا موقع ملا۔اس موقع پر اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کے خلاف احتجاج اور اسے ٹف ٹائم دینے کی غرض سے ایک لائحہ عمل کے موٹے موٹے خدوخال وضع کر لئے ہیں۔اپوزیشن جماعتوں کی یہ بیٹھک یقینا حکومت کے لئے ایک خطرے کی گھنٹی ثابت ہو سکتی ہے۔اپوزیشن جماعتیں حکومتی رویے اور نیب کی کارروائیوں سے نالاں تو پہلے ہی سے تھیں،لیکن یہ جماعتیں حکومت کے خلاف محاذ آرائی کے لئے کسی مناسب موقع کے انتظار میں تھیں۔اب دس ماہ میں پاکستان تحریک انصاف کی گورننس بالخصوص اقتصادی شعبہ کی زبوں حالی سے جو عوامی ردعمل سامنے آنے لگا ہے اس کے سیاسی ثمرات سمیٹنے کے لئے اپوزیشن جماعتوں کا میدان میں کودنا فطری تھا۔شاید اپوزیشن جماعتیں حکومتی کارکردگی پر عوامی ردعمل اور جذبات کو حکومت مخالف احتجاج میں ڈھالنے کے لئے ایک سیاسی بساط بچھانے جا رہی ہیں،جبکہ اپوزیشن کے اس سیاسی اکٹھ پر حکومت اسے سیاسی این آر او کے حصول کا ایک حربہ قرار دے رہی ہے۔حکومتی زعماءسارا زور اِس بات پر لگا رہے ہیں کہ اپوزیشن مبینہ کرپشن کے کیسوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے اکٹھی ہو رہی ہے، جبکہ اپوزیشن کا موقف ہے کہ اسے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اسے دبانے کے لئے کرپشن کیسوں کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کا موقف ہے کہ اسیر نواز شریف درحقیقت سیاسی قیدی ہیں، دارالحکومت کے اس سیاسی تھیسز میں حکومت بار بار کہہ رہی ہے کہ اپوزیشن این آر او چاہتی ہے،لیکن این آر او نہیں دیا جائے گا، جبکہ اپوزیشن کہہ رہی ہے کہ حکومت کے پاس سیاسی این آر او کا اختیار ہے نہ این آر او مانگا جا رہا ہے۔تاہم دلچسپ امر یہ ہے کہ حکومت کے پاس شاید معاشی این آر او دینے کا اختیار تھا اور حکومت نے اس اختیار کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے ٹیکس ایمنسٹی سکیم کی شکل میں معاشی این آر او تو دے دیا ہے۔ حکومت نے ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے تحت جو معاشی این آر او دیا ہے اس کا اخلاقی جواز ہے نہ اس کا دفاع کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا دعویٰ تھا کہ امیروں سے ٹیکس لے کر غریبوں کو ٹیکس کی چھوٹ دی جائے گی،ٹیکس ایمنسٹی اس دعویٰ کی نفی نظر آتی ہے۔بلاول بھٹو کے سیاسی افطار ڈنر نے جہاں اپوزیشن کی سیاست کا روڈ میپ واضح کر دیا ہے، وہاں اس اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ(ن) کی آئندہ باگ ڈور سنبھالتے کے حوالے سے پائی جانے والی چہ میگوئیاں کو بھی ختم کر دیا ہے۔بلاول بھٹو کے افطار ڈنر میں پاکستان مسلم لیگ(ن)کی قیادت کی شمولیت کے مناظر نے یہ ابہام دور کر دیا ہے کہ شریف برادران میاں محمد نواز شریف اور شہباز شریف کی عدم موجودگی میں مسلم لیگ(ن) کے سیاسی وا انتظامی معاملات کسی انداز میں چلیں گے! بظاہر ان مناظر کو دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ مریم نواز شریف پاکستان مسلم لیگ(ن) کا سیاسی سٹیئرنگ سنبھالیں گی، جبکہ حمزہ شہباز شریف ان کے ہمراہ ہوں گے اور مسلم لیگ(ن) کی یہ جوان قیادت اپنے سیاسی انکلز کی رہنمائی میں ان کا ہاتھ تھام کر چلے گی۔حمزہ شہباز جس طرح سے مریم نواز کی گاڑی ڈرائیور کر کے لائے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دونوں کزنز کے مابین سیاسی معاملات کو آگے بڑھانے میں تال میل قائم ہو چکی ہے۔مسلم لیگ (ن) نے شاید اپنی سیاسی صفیں درست کر لی ہیں، اسی بنا پر شاید اس بار28 نومبر یوم تکبیر کو عوامی رابطہ مہم کے طور پر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے مسلم لیگ(ن) کی سینئر ترین قیادت کا اجلاس پارلیمینٹ ہاﺅس میں منعقد ہوا، جس میں غیر رسمی طور پر مریم نواز شریف کے آئندہ کلیدی کردار ادا کرنے کے حوالے سے اشارے ملتے ہیں۔اس موقع پر مریم نواز شریف نے میڈیا سے بات چیت میں وزیراعظم عمران خان اور ان کی حکومت پر کڑی تنقید کی۔اپوزیشن کو اکٹھاکرنے کا کریڈٹ بلاول بھٹو زرداری کو جاتا ہے جو دو نسلوں کے سیاسی ورثے سے مالا مال ہیں۔انہی کی اس پہل کے نتیجے میں اب سب کی نظریں عید کے بعد آل پارٹیز کانفرنس پر لگی ہوئی ہیں،جس کی قیادت کا سہرا جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے سر ہو گا۔

مولانا فضل الرحمن پہلے ہی سے ایک سخت گیر حکومت مخالف رویہ کے حامل گردانے جاتے ہیں، عید کے بعد جیسے جیسے سورج کی تمازت بڑھتی جائے گی، لگتا ہے کہ ملک میں سیاسی حدت میں بھی اضافہ ہو گا،کیونکہ ایک طرف اپوزیشن جماعتوں کے تیور بتا رہے ہیں کہ وہ حکومت کے خلاف ایک ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کر سکتی ہیں تو دوسری جانب حکومت کی اقتصادی و معاشی کارکردگی سے عوام پریشان ہیں،سرمایہ دار، تاجر اور صنعتکار بددل نظر آتے ہیں،زراعت کا شعبہ بھی بدحالی کا شکار نظر آ رہا ہے۔حکومت کا پہلے پہل آئی ایم ایف نہ جانے کا فیصلہ اور پھر اس انداز میں رجوع کیا کہ گویا آئی ایم ایف کی تمام کڑی شرائط کے آگے شاید ہتھیار ڈال دیئے گئے۔ ڈالر ہے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا،جس کی بنا پر عوام کی خریداری کی سکت ختم ہوتی جا ری ہے۔ سٹاک مارکیٹ مسلسل کریش کر رہی ہے، کوئی حکومتی ریگولیٹر اس معاشی انحطاط کے انسداد میں کامیاب نظر نہیں آ رہا۔ سٹیٹ بینک نے ملک کی دگر گوں معاشی صورتِ حال کی بنا پر شرح سود میں اضافہ کر دیا ہے،جس کی بنا پر ملک میں سرمایہ کاری میں کمی نظر آ رہی ہے،جس سے بے روزگاری میں اضافہ یقینی ہے۔گزشتہ ایک سال میں مہنگائی میں سو فیصد اضافہ ہوا ہے، ٹیکس ایمنسٹی کی شکل میں معاشی این آر او اور آئی ایم کے آگے پوری طرح سرنڈر کرنے کے باوجود معاشی بہتری کی صورت نظر نہیں آ رہی۔اس صورتِ حال میں بجٹ کی آمد آمد ہے جو اگر عوام دوست نہ ہوا تو عوام اور اپوزیشن کی کسی ممکنہ تحریک کے لئے یہ بجٹ جلتی پر تیل کے مترادف ہو گا۔ایک ایسی صورتِ حال میں جب ملک میں سیاسی انتشار اور معاشی ابتری عروج پر ہو تو ایسے میں خطے میں ایک نئی جنگ دستک دے رہی ہے،امریکہ مشرق وسطیٰ میں فوجی طاقت کے استعمال کی آپشن کی طرف بڑھتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ لگتا ہے کہ پاکستان کو اس ممکنہ جنگ میں استعمال کرنے کے لئے گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔ شاید آئی ایم ایف اس لئے مطالبہ کر رہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے قرضوں کی واپسی ری شیڈول کروائے تاکہ خطے میں کسی آزادانہ کردار کے لئے پاکستان کی سودا کاری پوزیشن کمزور ہو جائے۔ پاکستان کو اس علاقائی صورتِ حال میں پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہو گا، خارجی چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لئے داخلی استحکام اولین شرط ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -