مفادات کا ٹکراﺅ، ڈاکٹرز کی ہڑتال کیا رنگ لائے گی؟

مفادات کا ٹکراﺅ، ڈاکٹرز کی ہڑتال کیا رنگ لائے گی؟

  

ڈاکٹروں کی حالیہ ہڑتال نے خیبرپختونخوا حکومت کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے، پاکستان تحریک انصاف خیبر کو اپنے لئے رول ماڈل سمجھتی ہے اور وفاق و دیگر صوبوں میں اپوزیشن میں ہونے کے باوجود گزشتہ دور حکومت میں خیبرپختونخوا میں صحت اور تعلیم کو اولین ترجیح قرار دے کر دوسرے صوبوں کے لئے قابل تقلید بھی کہتی رہی۔ سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے صحت کے شعبے میں کی جانے والی اصلاحات کو انقلابی قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ہم نے یہ طے کیا کہ جو صاحب ثروت ہیں وہ اخراجات ادا کریں جو اہل ہیں ان کا علاج مفت،اس کی پاکستان بھر میں کوئی مثال نہیں ملتی لیکن گزشتہ دنوںصوبے کے بڑے ہسپتالوں میں جو کچھ دیکھنے کو ملا اور جس طرح ہزاروں مریض یا ان کے لواحقین دربدر دکھائی دیئے وہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔ گزشتہ حکومت میں ہسپتالوں کو آزاد حیثیت اس انداز سے دی گئی کہ جو صاحب حیثیت ہے وہ باقاعدہ فیس ادا کر کے اپنا علاج کروائے جبکہ مستحق مریضوں کے لئے مفت علاج کی خاطر انصاف ہیلتھ کارڈ فراہم کئے گئے، سرکاری طور پر بتایا گیا کہ 70 فیصد آبادی کو یہ کارڈ جاری کئے گئے ہیں جنہیں یہ سہولت حاصل ہو گی کہ ہر خاندان سات لاکھ 20ہزار روپے سالانہ کا علاج مفت کروا سکتا ہے اور یہ اخراجات حکومت برداشت کرے گی۔ امور صحت کو مزید بہتر بنانے کے لئے ڈاکٹرز کی تعداد چار سال کے دوران تین گنا کر دی گئی،پچاس ہزار ماہانہ لینے والے ڈاکٹر کی تنخواہ ڈیڑھ لاکھ تک بڑھا دی گئی۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس دوران جو نئے ڈاکٹرز بھرتی کئے گئے ان میں سے کئی ایک کی ڈگریاں بھی مشکوک پائی گئیں، کسی نے افغانستان سے جعلی ڈگری حاصل کی تھی تو کسی نے چائنا کے کسی غیر معروف ادارے کے سرٹیفیکیٹس کی بنیاد پر نوکری لے لی۔ اس کا ایک نقصان تو یہ ہوا کہ سرکاری ہسپتالوں میں دو نمبر ڈاکٹروں کی بہتات ہو گئی تو دوسری جانب دیگر شعبوں کے سرکاری افسران اور اہلکاروں نے اپنی تنخواہوں یا سہولیات میں اضافے کے لئے دباﺅ بڑھانا شروع کر دیا۔ بیورو کریٹس انجینئرز اور دیگر شعبوں کے افسروں کی تنخواہیں بھی اسی اعتبار سے بڑھانا پڑیں، ایک اور المیہ یہ بھی دیکھنے کو ملا کہ سول سکریٹریٹ کے چپڑاسی اور کلرک سطح کے بیشتر ملازمین اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے میں کامیاب ہو گئے اور ان میں سے اکثر راتوں رات ترقی کر کے سیکشن آفیسر، ڈپٹی سکریٹری، ایڈیشنل سکریٹری حتٰی کہ سکریٹری کے مناسب پر براجمان ہو گئے۔ ہزاروں ملازمین کو 50 فیصد سکریٹریٹ الاﺅنس بھی ملنا شروع ہو گیا اور مذکورہ امور کا نتیجہ یہ نکلا کہ صوبے کے وسائل دب کر رہ گئے، استعداد کار آئے روز نیچے آتی رہی، بہتر حکمرانی کے دعوے زمین بوس ہونے لگے، جب حکومت نے یہ اضافی الاﺅنسز بند کرنے پر غور شروع کیا تو صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں احتجاج و ہڑتالوں کا سلسلہ شروع ہو گیا، جس سے ایک طرف تو ڈلیوری میں کمی آئی تو دوسری جانب صحت کے شعبے میں بالخصوص کی جانے والی اصلاحات میں رکاوٹیں پیدا ہوتی رہیں۔ ڈاکٹروں کی حالیہ ہڑتال بھی اسی بد اعمالی کا شاخسانہ معلوم ہوتی ہے، جب انہیں کام کرنے کا کہا جاتا ہے تو وہ ہتھیار کے طور پر احتجاج کو سرپر اٹھا لیتے ہیں۔ لگتا ہے جیسے مفادات کا ٹکراﺅ مظاہرے کی شکل اختیار کر لیتا ہے ۔ گزشتہ کئی روز سے خیبرپختونخوا کے تمام ہسپتالوں میں ڈاکٹرز نے سروسز دینے سے انکارکردیا ہے، صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسف زئی نے احتجاج کرنے والے ان ڈاکٹروں کو آڑے ہاتھوں لیا اور نیوز کانفرنس کے دوران حکومتی موقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ ہم کسی کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہوں گے اگر ماورائے قانون کوئی احتجاج کیا گیا تو ہم نئے ڈاکٹرز بھرتی کر لیں گے، اس کے جواب میں خیبرپختونخوا ڈاکٹرز کونسل نے اپنے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ہم کسی طور وزیر صحت سے کسی قسم کے مذاکرات نہیں کریں گے، ہمارا پہلا مطالبہ یہ ہے کہ وزیر صحت کو برطرف کیا جائے اور ڈاکٹر پر تشدد کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے تاہم بعد ازاں انہوں نے وزیراعلیٰ محمود خان کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش قبول کرلی۔ڈاکٹرز کونسل کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں وزیر صحت اور انصاف ڈاکٹرفورم کی نمائندگی قابل قبول نہیں ہوگی ،تاہم مذاکرات کی کامیابی تک ہڑتال بدستور جاری رہے گی۔ وزیر اعلیٰ کے ساتھ کونسل کے مذاکرات تادم تحریر جاری ہیں ، کہا تو یہ جا رہا ہے کہ ان مذاکرات کی کامیابی کے امکانات کم ہیں تاہم دعا کرنا چاہئے کہ معاملات درست ہو جائیں اور آج کل مریض یا ان کے لواحقین جس پل صراط سے گزر رہے ہیں اس سے انہیں جلد چھٹکارا حاصل ہو۔ صوبائی حکومت کو بھی چاہئے کہ وہ گزشتہ دور حکومت سے لے کر آج تک محکمہ صحت میں ہونے والے تمام فیصلوں کا از سر نو جائزہ لے اور اگر ضرورت محسوس ہو تو اسے اسمبلی میں بھی لے جائے اور کوئی ٹھوس حکمت عملی طے کی جانا چاہئے تاکہ آئندہ موجودہ ہڑتالی کیفیت جیسی صورت حال کا اعادہ نہ ہو۔

پی ٹی آئی حکومت کی ایک اور اہم ترجیح کرپشن کا خاتمہ تھی جس کا گزشتہ دور حکومت اور آج کل بھی خاصا چرچا ہے لیکن احتساب کے معاملے میں خیبرپختونخوا کی کئی اہم شخصیات بھی نیب کے ریڈار پر ہیں، ان میں بیشتر حکومت میں شامل بھی ہیں جن کے بارے میں نیب کے سربراہ جاوید اقبال واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ ایسے نیب زدگان کو اہم عہدوں پر نہیں رکھنا چاہئے۔ بتایا جا رہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک، موجودہ وزیر اعلیٰ محمود خان، سینئر صوبائی وزیر عاطف خان، مسلم لیگ (ن) کے رہنما امیر مقام اور ان کے فرزند ارجمند سمیت کئی اہم سیاسی شخصیات کو نیب طلب کر چکا ہے ، یہ بھی پتہ چلا ہے کہ خیبر کے کئی بیورو کریٹس بھی نیب کو مطلوب ہیں جن میں سے اکثر پر یہ الزام ہے کہ وہ بی آر ٹی میں خدمات کے دوران اپنی اصل تنخواہ سے کئی گنا زیادہ الاﺅنسز وصول کرتے رہے اور شاید میٹرو کی بر وقت تکمیل نہ ہونے کا اصل سبب بھی یہی ہے کیونکہ اگر یہ منصوبہ مقررہ وقت میں مکمل ہو جاتا تو ان الاﺅنسز کا کیا بنتا جو ایک افسر آج تک کروڑوں میں وصول کر چکا ہے۔ نیب آج کل بی آر ٹی پشاور کی مختلف فائلوں کا جائزہ بھی لے رہا ہے اور یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس معاملے میں وفاق میں تعینات خیبر کے سابق چیف سکریٹری بھی ملوث ہیں۔

بی آر ٹی کی تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ اس کے کوریڈور میں ایمرجنسی کے دوران سات م±ختلف مقامات سے گاڑیاں داخل ہوسکتی ہیں۔یہ کوریڈور مکمل ہے تاہم تمام سٹیشن پر کام جاری ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -