گرانی، بس سے باہر، شرح سود بھی بڑھا دی گئی، کرنسی بے وقعت ہو گئی

گرانی، بس سے باہر، شرح سود بھی بڑھا دی گئی، کرنسی بے وقعت ہو گئی

  

ملتان کی سیاسی ڈائری

شوکت اشفاق

مملکت خدادا کی اندر ہونے والی سیاست پر کیا قلم آزمائی کی جائے سیاستدانوں کے بیانیہ پر کیا تبصرہ کیا جائے سمجھ سے بالا تر ہے حکومتی جماعت اور اس کے کرتا دھرتا بضد ہیں کہ یہ تمام کیا دھرا گزشتہ حکومتوں کا ہے لیکن گزشتہ کے حکمران اور آج کی اپوزیشن والے نہ صرف اس سے انکاری ہیں بلکہ حکمران قیادت کی نااہلی قرار دیتے ہیں کس کے بیانیہ میں کتنا سچ ہے وہ تو صاف ہی نظر آرہا ہے کہ مہنگائی سات فیصد تک بڑھ چکی ہے شرح سود 12.5کی بلند ترین سطح تک پہنچ چکا ہے جو ایک ریکارڈ ہے اسٹاک مارکیٹ 20سالوں کی کم ترین سطح پر سانس لے رہی ہے روپے کی قدر اس قدر گری ہے کہ ایشیاءکی کوئی کرنسی اتنے ریکارڈ عرصہ میں انہیں بے حرمت نہیں ہوئی ہوگی اور سونے پر سہاگہ مقبول ترین عوامی حکومت کا ٹائٹل اپنے ماتھے پر سجانے والی حکمران جماعت نے بھی 9ماہ میں صرف اندرون ملک سے 4800ار ب کے قرضے حاصل کرلئے ہیں زرمبادلہ کے ذخائر کے بارے میں سرکاری بنک خاموش ہیں ۔ اور یہ بھی بتانے کو تیار نہیں کہ سابقہ حکومت نے جاتے ہوئے لگ بھگ 24ارب ڈالر زرمبادلہ کے جو ذخائر چھوڑے تھے وہ کس کام میں لگائے گئے خمیازے کے طو رپر یہ حکمران اب بھی بانسری پر سابقہ حکمرانوں کے لتے لینے والی دھن بجا کر اپنا دامن بچانے میں مصروف ہیں اور خیال تو اپوزیشن کو بھی نہیں ہے جو بیانیہ کی پراکسی جنگ میں یہ بھول رہی ہے کہ جن سے ووٹ لے کر انہیں اقتدار میں آنا ہے ان کے ساتھ کیا بیت رہی ہے کیا کبھی سنا تھا کہ زراعت پر 22ارب کی سبسڈی لینے والی شوگر انڈسٹری چینی 75روپے کلو فروخت کرے گی سبزیاں اتنی قیمتی ہوجائیں گی کہ خرید سے باہر ۔ خربوزہ اور تربوز 150روپے فی کلو فروخت ہوگا جبکہ باقی فروٹ تو اس قدرمہنگا ہوگا کہ اس کی قیمت سنتے ہوئے قلم لرزے گا ۔ رمضان المبارک میں نیکیاں کمانے کی بجاے لوگ برائی کی طرف مائل ہوں گے ، ملکی معیشت کا پہیہ اس قدر جام ہوگا کبھی سوچا بھی نہ تھا کراچی سے خیبر تک مہنگائی کا خوف اور ہو کا عالم ہے ہرشخص دوسرے سے پوچھتا ہے کہ اب کیا ہوگا لیکن انہیں کیا معلوم کہ یہ نیا پاکستان بن رہا ہے اور وہ بھی ایک ایسی جماعت کے ہاتھوں جو سیاسی طو رپر سنجیدہ نہیں ہے وزیراعظم عمران خان سے کس نے کہا تھا کہ وہ زیر سمندر ڈرلنگ ”کیکڑاون “ کے بارے میں قبل از وقت اعلان کریں کہ گیس 50سال تک کافی ہوگی کس نے کہا کہ تھا کہ عوام کو ایسی آس لگا کر اس کی آڑ میں مہنگائی میں اضافہ کردو ۔ وفاقی وزیر فیصل واڈڈا جو اب برطانیہ میں اپنی جائیداد سے مکر گئے ہیں کو کس نے کہا تھا کہ وہ بیان دیں کہ اب نوکریاں ہی نوکریاں ہوں گی ۔ کیا تحریک انصاف کی قیادت اور ان کے وزراءاور مشیران کو اس بات کا ادراک نہیں تھا کہ اس قسم کا چورن بلوچستان کے حوالے سے کافی بک چکا ہے جہاں بتایا گیا کہ دنیا میں قدرتی وسائل کے سب سے بڑے ذخائر موجود ہیں تو وہ انکا کیا ہوا ۔ اس حوالے سے سینئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی درست کہتے ہیں کہ ڈرامہ رچانے کے بعد حکمرانوں نے ملک کو آئی ایم ایف اور عوام کوحسب سابق اللہ تعالیٰ کے حوالے کردیا ۔ حکومت عمران خان نہیں بلکہ کوئی اور چلا رہا ہے یہی وجہ ہے کہ آئی ایم ایف والے سیاسی ،معاشی اور دفاعی شرائط منوارہے ہیں۔

دوسری طرف نیب نے سیاست کے ساتھ معیشت کو بھی تباہ کردیا ہے حالات انتہائی تشویش ناک ہوچکے ہیں عوام کی چیخوں کے بعد اب وزیراعظم عمران خان کی چیخیں نکلنے والی ہیں ۔ سینئر سیاستدان نے اپوزیشن سے اپیل کی وہ عمران حکومت گرانے کی بجائے سہارا دیں ۔ اب یہ ہمارے والی بات تو مخدوم جاوید ہاشمی خود ہی بتا سکتے ہیں کہ انہوں نے کیوں کی ، کیونکہ وہ تو مطالبہ کرتے ہیں کہ عمران خان سے جس قدر جلد ہوسکے جان چھڑالی جائے ۔ لیکن ان کی بات کون مانے گا اس کیلئے وقت کا انتظار کرنا ہوگا ادھر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اپوزیشن کو مخاطب کیا ہے کہ اگر احتجاج سے ملک کو فائدہ ہوتا ہے تو کرکے دیکھ لیں یہ بات وہ ایسے موقعہ پر کہہ رہے ہیں کہ جب انہوں نے ن لیگ حکومت کے خلاف 6ماہ سے زائد عرصہ اسلام آباد میں کنٹینر پر کھڑے ہوکر احتجاج کیا تھا اور حکومت کو گرانے کی کوشش کی تھی اب اس وقت کس کو اس کا فائدہ ہوا تھا یہ ابھی تک راز ہے تاہم اس کا نقصان آج پوری پاکستانی قوم بھگت رہی ہے ادھر سرائیکی قوم پرست رہنماﺅں نے ڈی آئی خان ، ٹانک ، میانوالی ، بھکر اور جھنگ کے بغیر صوبہ قبول کرنے سے انکار کردیا ہے اور وزیراعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صوبہ بننے سے پہلے وسیب کو بے شناخت کرنے کی کوشش نہ کریں ۔

مزید :

ایڈیشن 1 -