والدین مجھے اور میری بیٹی کو پال پال کرتھک چکے،خود کو آگ لگا دوں گی،لاپتہ شخص کی اہلیہ کا عدالت میں بیان

والدین مجھے اور میری بیٹی کو پال پال کرتھک چکے،خود کو آگ لگا دوں گی،لاپتہ شخص ...
والدین مجھے اور میری بیٹی کو پال پال کرتھک چکے،خود کو آگ لگا دوں گی،لاپتہ شخص کی اہلیہ کا عدالت میں بیان

  


کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن)سندھ ہائیکورٹ میں لاپتہ افراد سے متعلق کیس میں خاتون نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ تیسری عید آرہی ہے لاپتا شوہر گھر واپس نہیں آیا،والدین مجھے اور میری بیٹی کو پال پال کرتھک چکے،خود کو آگ لگا دوں گی۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں لاپتہ افرادسے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، ایک لاپتہ شخص کی والدہ نے عدالت میں بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہ بیٹے جمیل کی گمشدگی میں پولیس اہلکار جان محمد اور راجا طارق ملوث ہیں، دونوں اہلکاروں نے بیٹے کی بازیابی کیلئے 50 ہزار روپے مانگے، عدالت نے کراچی پولیس چیف کو دونوں اہلکاروں سے خود تفتیش کرنے کا حکم دے دیا۔

جبکہ لاپتہ شہری محمود علی کی اہلیہ نے کہا کہ تیسری عید آرہی ہے لاپتا شوہر گھر واپس نہیں آیا، والدین مجھے اور میری بیٹی کو پال پال کرتھک چکے، خود کو آگ لگا دوں گی،جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹونے کہا کہ مایوس نہیں ہوں، آپ کے شوہر بھی واپس آجائیں گے، اب لاپتا افراد واپس آنا شروع ہوگئے ہیں، جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹونے کہا کہ آج بھی 15،10 لاپتا افراد کے گھر واپس آنے کی رپورٹ آئی ہے۔

عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ کیا تیر مار کرآئے ہو؟ تفتیش میں کیا پیش رفت ہوئی؟ جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹونے کہا کہ ہر پیشی پر ایک جیسی رپورٹ لے آتے ہو، لوگ پریشان ہورہے ہیں رو رہے ہیں۔عدالت نے ظفر اقبال، محمد یاسین اور دیگر کی گمشدگی سے متعلق رپورٹ طلب کرلی،عدالت نے آئی جی سندھ، ڈی جی رینجرز، وفاقی سیکرٹری داخلہ اور دیگر سے رپورٹ طلب کرلی، عدالت نے 22 اگست کولاپتا افراد کو بازیاب کراکر رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

مزید : قومی /علاقائی /سندھ /کراچی