جج کی بیوی سے فون پر بات کرنے کی سزا، بینک ملازم پر خوفناک ترین تشدد

جج کی بیوی سے فون پر بات کرنے کی سزا، بینک ملازم پر خوفناک ترین تشدد
جج کی بیوی سے فون پر بات کرنے کی سزا، بینک ملازم پر خوفناک ترین تشدد

  

راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک) راولپنڈی میں ایک جج نے بیوی سے فون پر بات کرنے کے ’جرم‘ میں ایک بینک ملازم کو اغواءکروا کے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ ویب سائٹ ’پڑھ لو‘ کے مطابق اس جج کا نام ’طارق زرغام‘ ہے جس نے ایچ بی ایل کے ملازم محمد طیب کو دو پولیس اہلکاروں اور چند دیگر نامعلوم افراد کی مدد سے اغواءکروایا۔ ان لوگوں نے اسے اس وقت اغواءکیا جب وہ بینک سے ڈیوٹی ختم کرکے گھر واپس جا رہا تھا۔ یہ لوگ اسے طارق زرغام کے گھر پر لے گئے جہاں اسے برہنہ کرکے الٹا پنکھے سے لٹکا دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق ان تمام ملزمان نے ہاتھوں میں ڈنڈے اور چمڑے کے بیلٹ لے لیے اور طیب کو پیٹنا شروع کر دیا۔ حتیٰ کہ اس کا پورا جسم زخموں سے چور ہو کر سیاہ پڑ گیا۔ پھر اسے بجلی کے جھٹکے دیتے رہے۔ غرض اسے اس قدر تشدد کا نشانہ بنایا کہ وہ بے ہوش ہو گیا۔ بے ہوش ہوجانے پر اسے گاڑی میں ڈال کر اس کے گھر کے باہر پھینک گئے جہاں سے اس کے گھر والوں نے اٹھا کر اسے ہسپتال منتقل کیا۔

اس سارے قضیے کی وجہ محمد طیب کا جج طارق زرغام کی بیوی سے فون پر بات کرنا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل طارق زرغام کی بیوی بینک میں اکاﺅنٹ کھلوانے آئی تھی جہاں اس نے طیب کا فون نمبر لے لیا اور اس کے بعد گاہے اپنے بینک اکاﺅنٹ کے متعلق اس سے بات کرتی رہی۔ طارق زرغام نے بیوی کے فون میں طیب کا نمبر اور ان کی کال ہسٹری دیکھ لی اور اسے غلط فہمی ہوئی کہ ان دونوں کا ناجائز تعلق چل رہا ہے۔ چنانچہ اس نے طیب کو اغواءکروا کے اسے ادھ موا کرکے گھر کے باہر پھینک دیا۔ واقعے کی رپورٹ درج کروا دی گئی ہے اور ایس ایچ او راجا راشد کا کہنا ہے کہ ’طیب کا میڈیکل ایگزامینیشن مکمل کر لیا گیا ہے اور رپورٹس دیکھی جا رہی ہیں۔ڈاکٹروں کی طرف سے دی جانے والی میڈیکل رپورٹس کی بنیاد پر ہی مقدمہ درج کیا جائے گا۔

مزید : علاقائی /پنجاب /راولپنڈی