دفتر کی صفائی کرنے والا وہ سویپر جو اُسی کمپنی کا مالک بن گیا، کامیابی کی بے مثال داستان

دفتر کی صفائی کرنے والا وہ سویپر جو اُسی کمپنی کا مالک بن گیا، کامیابی کی بے ...
دفتر کی صفائی کرنے والا وہ سویپر جو اُسی کمپنی کا مالک بن گیا، کامیابی کی بے مثال داستان

  

دبئی(مانیٹرنگ ڈیسک) لوگ اپنی کاہلی اور سستی کو نصیب کے کھاتے میں ڈال کر ناکامی کا رونا روتے رہتے ہیں لیکن کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو صفر سے نہیں بلکہ منفی سے کام شروع کرتے اور ایک امپائر کھڑا کر دیتے ہیں۔ بال کرشن نامی یہ بھارتی شہری بھی انہی میں سے ایک ہے جو کبھی ایک کمپنی میں سویپر تھا اور اب اسی کمپنی کا مالک ہے۔ خلیج ٹائمز کے مطابق 1993ءمیں بال کرشن دبئی گیا تھا تو وہ ایک ہوٹل میں روم بوائے اور دوسرے میں بیل بوائے کی نوکری کرتا رہا۔ پھر دو سال تک اس نے لوڈر کی نوکری کی ۔

بال کرشن کا کہنا تھا کہ جس روز میں فجیرہ میں ہوائی جہاز سے اترا تو میرے پاس ٹیکسی کے پیسے نہیں تھے۔میں کئی گھنٹے ایک پٹرول پمپ پر کھڑا رہا اور شام کے وقت مجھے ایک کار والے نے لفٹ دی اور میں دبئی پہنچا۔ میں ریاضی اور حساب کتاب میں بہت تیز تھا اور لوگ میری اس صلاحیت سے بہت متاثر ہوتے تھے۔ بڑے بڑے مشکل سوال میں سیکنڈز میں حل کر دیتا تھا۔ 1997ءمیں میں ایک یورپین بینک منیجر سے ملا جو میری اس صلاحیت سے بہت متاثر ہوا اور تجویز دی کہ مجھے کسی فنانشل انسٹیٹیوشن میں قسمت آزمانی چاہیے۔ میں نے اس کی تجویز کو بہت سنجیدہ لیا اور اپنی ہوٹل میں روم بوائے کی نوکری چھوڑ کر سنچری فنانشل نامی کمپنی میں نوکری کے لیے درخواست دے دی۔ لیکن ان کے چپراسی بھی مجھ سے زیادہ تعلیم یافتہ تھے چنانچہ انہوں نے مجھے نوکری دینے سے انکار کر دیا۔ میں اس پر مایوس نہیں ہوا اورایک پلان بنایا۔ میں ایک پلے کارڈ لے کر ان کے آفس کے باہر کھڑا ہو گیا ، جس پر لکھا تھا کہ میں 6ماہ تک بغیر تنخواہ کے کام کرنے کو تیار ہوں۔“

بال کرشن نے مزید بتایا کہ ”میری یہ حرکت سنچری فنانشل کے چیئرمین سلیمان باقر مہیبی کی نظروں میں آ گئی اور انہوں نے مجھے سویپر کی نوکری دے دی۔ میری نوکری کمپنی میں فرنیچر صاف کرنے کی تھی۔ اس وقت مجھے کچھ معلوم نہیں تھا کہ سٹاک مارکیٹ کیسے کام کرتی ہے اور اس میں کیسے سرمایہ کاری ہوتی ہے۔ میں کمپنی میں ہونے والے تمام کام بغور دیکھتا رہا۔ جب مجھے احساس ہوا کہ اب میں اس کام کے متعلق کافی کچھ سیکھ چکا ہوں تو میں چیئرمین کے پاس گیا اور سیلز میں نوکری دینے کی درخواست کر دی۔ انہوں نے مجھے کچھ مشکوک نظروں سے دیکھا۔ میں نے کہا کہ میں اسی تنخواہ پر ہی کام کر لوں گا اور میرے ذریعے کمپنی جو کمائے گی اس کا 25فیصد کمیشن لوں گا۔ میری اس بات پر وہ متفق ہو گئے اور مجھے سیلز میں نوکری دے دی۔ وہ دن او ر آج کا دن، میں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔“ رپورٹ کے مطابق بال کرشن نے اس کے بعد سنچری فنانشل میں رہتے ہوئے ہی اس قدر ترقی کی کہ آج وہ اس کمپنی کا مالک ہے۔

مزید :

عرب دنیا -