نوازشریف ڈیل یا ڈھیل نہیں چاہتے ، چوہدری نثار کی مسلم لیگ ن میں واپسی مشکل مگر ناممکن نہیں:راجہ ظفر الحق

نوازشریف ڈیل یا ڈھیل نہیں چاہتے ، چوہدری نثار کی مسلم لیگ ن میں واپسی مشکل ...
نوازشریف ڈیل یا ڈھیل نہیں چاہتے ، چوہدری نثار کی مسلم لیگ ن میں واپسی مشکل مگر ناممکن نہیں:راجہ ظفر الحق

  


اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین سینیٹر راجہ ظفر الحق نے کہا ہے کہ نوازشریف ڈیل یا ڈھیل نہیں چاہتے ، ماضی میں ڈیل کرنے کی باتیں متنازع ہیں،حکومت عدم واستحکام کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے،مسلم لیگ ن میں لوٹوں کی گنجائش ختم ہوتی جارہی ہے،چوہدری نثار نے وزیراعظم بننے کی خواہش کا اظہار نہیں کیا جب کہ ان کی واپسی مشکل ہے مگر ناممکن نہیں، چوہدری برادران کو مسلم لیگ میں واپسی سے روکا گیا اور ان کے واپس آنے سے مسلم لیگ مزید متحد ہوجاتی،اگر نواز شریف باہر گئے تو زیادہ عرصے کے لیے نہیں جائیں گے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام’’پرائم ٹائم وِد ٹی ایم‘‘ میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے راجہ ظفرالحق کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی نواز شریف کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا گیا،نواز شریف کے معاملے میں اسٹیبلشمنٹ سے رابطے کی گنجائش نہ تھی کیونکہمسلم لیگ ن ایک خالص جماعت ہے۔ انہوں نے کہا کہشہباز شریف کو فیصلوں پر اختلاف ہوتا تھا تو وہ اکیلے میں بات کرتے تھے جبکہ شاہد خاقان عباسی کو مشاورت کے بعد وزیراعظم بنایا گیا،میرے کہنے پر شاہد خاقان عباسی وزیراعظم بننے پر راضی ہوئے تھےاور وہ مختصر مدت کے لیے وزیراعظم نہیں بننا چاہتے تھے۔راجہ ظفرالحق کا کہنا تھا کہجنرل مشرف نے مجھے وزیراعظم بننے کی پیشکش کی اور  کہا کہ آپ جسے چاہیں گے وہ اسمبلی پہنچے گا۔انہوں نے کہا کہ چوہدری برادران نے مسلم لیگ ن میں واپسی کے لیے خود کہا اور وقت طے کرکے نہیں آئے،چوہدری برادران کو مسلم لیگ ن میں واپسی سے روکا گیا اور ان کے واپس آنے سے مسلم لیگ ن مزید متحد ہوجاتی،ابمسلم لیگ ن میں لوٹوں کی گنجائش ختم ہوتی جارہی ہے۔

سینیٹر راجہ ظفر الحق نے کہا کہ شہباز شریف کو فیصلوں پر اختلاف ہوتا تھا تو وہ اکیلے میں بات کرتے تھے،چوہدری نثار نے وزیراعظم بننے کی خواہش کا اظہار نہیں کیا جب کہ ان کی واپسی مشکل ہے مگر ناممکن نہیں ہے۔سینیٹر راجہ ظفر الحق نے کہا کہوزیراعظم عمران خان اشاروں کے منتظر رہتے ہیں،عمران خان سٹیج اور کنٹینر پر چڑھ کرغیرذمہ دار انہ بیان دے دیتے ہیں ،حکومت عدم واستحکام کی طرف تیزی سے جارہی ہے،ملکی حالات کے پیش نظر ن لیگ مزاحمتی سیاست کی طرف جاسکتی ہے،ماضی میں اپوزیشن کے اتحاد کے مقاصد کافی حد تک پورے ہوئے ہیں۔

مزید : قومی