جو ہو گا، ذمہ دارکون عوام یا حکومت؟

جو ہو گا، ذمہ دارکون عوام یا حکومت؟
جو ہو گا، ذمہ دارکون عوام یا حکومت؟

  

کئی دنوں کے بعد آج گھر سے نکلنا ہوا کہ دفتر آنا تھا، باہر آتے ہوئے ہاتھ دھوئے سینی ٹائزر سے خشک کئے اور میڈیکل گلوز پہن کر ماسک بھی لیا، دور اور نزدیک کا چشمہ لگانا تو بہرحال مجبوری ہے۔ صاحبزادے کو گزشتہ شب ہی بتا دیا تھا کہ صبح دفتر جانا ہوگا، چنانچہ وہ تیار ہو کر آ گیا اور گاڑی نکال لی، باہر آئے تو محلہ معمول کے مطابق تھا، جونہی وحدت روڈ کے لئے مصطفےٰ ٹاؤن کی دو رویہ سڑک کی طرف مڑے تو پہلا جھٹکا لگا کر مرکزی گرین بیلٹ پر قریباً دو درجن تگڑی بھینسیں پیٹ پوجا کر رہی تھیں، دو نوجوان نگرانی کے لئے بھی کھڑے تھے۔یہ گرین بیلٹ اتنی بدقسمت ہے کہ ہر سال دو بار یہاں نئے پودے لگائے جاتے اور ان کی خوراک کا انتظام ہو جاتا ہے۔ اس بار بھی موسم بہار کی شجر کاری کے لئے جو مہم چلائی گئی تو وحدت روڈ کے دونوں اطراف کے علاوہ اس گرین بیلٹ پر بھی اس مرتبہ معمول سے زیادہ پودے لگائے گئے کہ یہ سب سرسبز پاکستان اور پنجاب کا حصہ ہے۔ تاہم ان بھینسوں کی موجودگی نے بتا دیا کہ یہ پودے بھی انہی مویشیوں کے لئے ہی ہیں۔ صاحبزادے نے بتایا کہ یہ صاحبان تو لاک ڈاؤن کے دنوں میں زیادہ مزے سے ”چراگاہ“ استعمال کررہے تھے اور اب تک ان کو کسی نے نہیں روکا، آگے بڑھے اور وحدت روڈ پر آئے تو دو رویہ سڑک کے دونوں اطراف فٹ پاتھوں اور گرین پارک کے درختوں کے ساتھ رسیاں باندھ کر ریڈی میڈ کپڑوں کی دکانیں سجی ہوئی تھیں۔ سڑک کے کنارے کاروں اور ویگنوں کی بھی قطار تھی اور یہ بھی کپڑوں کی دکانیں ہی تھیں یوں دفتر (جیل روڈ) تک آتے آتے ٹریفک معمول پر آئی ہوئی تھی اور یہاں کاروں کے شو روم بھی کھل چکے تھے۔ یوں عملی طور پر لاک ڈاؤن ختم ہو گیا ہے اور لوگ کسی پریشانی کے بغیر کاروبار اور معمولات زندگی شروع کر چکے ہیں، وزیراعظم کے فرمان پر عمل ہو رہا ہے کہ لوگوں کو بھوک سے نہیں مرنے دیا جا سکتا۔

یہ سب دیکھ کر ہی سوشل میڈیا پر جاری مہم کا مقصد اور مطلب سمجھ میں آیا، یہ کراچی سے شروع ہوئی۔ اس کے مطابق جو پوسٹ لگائی گئی وہ یوں تھی۔”ڈرنا نہیں، لڑنا ہے“ اور ساتھ ہی کراچی کے ایک بازار کی ویڈیو تھی جس کے مطابق مرد و خواتین اور بچے تک تھے، کھوے سے کھوا چھل رہا تھا کسی تحفظ کا کوئی اہتمام نہیں تھا ساتھ ہی یہ فقرہ بھی تھا، یہ کورونا سے جنگ کرنے نکل آئے اور کورونا ان کے درمیان پس کر بھاگ گیا ہے۔

یہ سب نظارہ یا نظارے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی نئی پالیسی ہے۔ تاجروں اور عید کمانے والوں کے دباؤ کے تحت سب کچھ ہی کھول دیا گیا، ریل چل پڑی، بسیں رواں ہیں، رکشا اور ٹیکسی سروس شروع ہے، بازار، مارکیٹیں اور شاپنگ مالز کھل گئے ہیں، ہر جگہ ہجوم ہے، کسی کو کورونا ورونا کی کوئی فکر نہیں، ان سب کے نزدیک ہم سب بے وقوف ہیں جو احساس تحفظ کے مارے گھروں میں بند یا اس ساری مشق کو افسوس کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔ یہ سب یوں بھی عدالت عظمیٰ میں از خود نوٹس کی سماعت کے بعد ہوا اور اب اسی کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے، میں نے طویل وقت عدالتی رپورٹنگ میں بھی گزارا اس لئے عدالتی امور پر بات کرتے ہوئے عام لوگوں سے زیادہ احتیاط کا قائل ہوں اس لئے عدالت عظمیٰ کے حوالے سے کچھ نہیں کہوں گا لیکن جو آثار ہیں، ان کے مطابق اس کھلی فضا سے جو اثرات مرتب ہوں گے ان کا بوجھ بہرحال اسی طرف منتقل کیا جائے گا۔

یہ جو صورت حال نظر ائی اس کے مطابق سندھ حکومت کا یہ فیصلہ بھی اچھا لگے گا کہ جمعتہ الوداع اور عید کے اجتماعات کی بھی اجازت دے دی گئی اور نمازوں کا اہتمام کرنے والی انتظامیہ اور نمازیوں پر چھوڑ دیا گیا کہ وہ اپنی حفاظت خود کریں، ”جاگدے رینا، ساڈے تے نہ رینا“ والی بات ہے۔ یقینا پنجاب میں بھی آج (جمعتہ الوداع) بڑے اجتماع ہو جائیں گے کہ یہاں تو لوگ پہلے ہی احتجاج کر رہے تھے۔ ان حضرات کے مطابق موت کا اک دن معین ہے اور جسے آنا ہے، اسے کوئی روک نہیں سکتا، اب جو معروضی صورت حال ہے، اس کے مطابق تو کوئی کورونا، شرونا نہیں ہے، عید، عید کی کمائی ہمارا مقصد ہے۔

یہ تو رپورٹر والی حس تحریر کی، تاہم فکر کی بات یہ ہے کہ کورونا متاثرین کی تعداد بڑھ رہی ہے، اموات بھی زیادہ ہو گئی ہین، یہ سب جو ہو رہا ہے کسی بھی حفاظتی انتظامات کو خاطر میں لائے بغیر ہو رہا ہے، حکومت کیا حکومتیں (صوبائی سمیت) سب تسلیم کرتی اور کہتی ہیں کہ احتیاط کی جائے۔ کورونا چھونے سے دوسرے کو چمٹ جاتا ہے اور فضا میں بھی موجود رہتا ہے اور اس سے ہونے والی موت بھی بہت تکلیف دہ ہے، صرف موت ہی پر کیا منحصر، تدفین بھی ایک المیہ ہے کہ جنازہ بھی پوری طرح نہیں پڑھا جا سکتا اور تدفین بھی مخصوص طریقے سے حفاظتی لباس والوں کے ذریعے ہوتی ہے۔ مسلمانو! یہ عبرت ناک منظر ہے۔ بادشاہ ظفر یاد آتے ہیں، ”ہوئے مر کے ہم جو رسوا، ہوئے کیوں نہ غرق دریا، ”نہ کوئی جنازہ اٹھتا نہ کوئی مزار ہوتا“ لیکن ہم ہیں کہ موت کو کھلے بندوں آواز دے رہے اور پکار رہے ہیں، اے فرشتہ اجل، ہمت ہے تو آ اور ہمارا جو بگاڑنا ہے، بگاڑ لے۔

مجھے تو ایسا محسوس ہوا کہ غریبوں کی بھوک کے درد کی آڑ میں یہی سوچا گیا کہ چلو جو ہونا ہو جائے، جتنے غریب کم ہوں گے، اتنی ہی غربت کی شرح کم ہو جائے گی۔ اور لوگ ہیں کہ کسی فکر کے بغیر مرنے کو تیار ہیں، جو لوگ، معاف کیجئے ”جہالت“ کی بناء پر یہ سب کر رہے ہیں، ان کو چھوڑیئے ذرا اس مڈل کلاس ذہنیت کا اندازہ لگائیں، جو خواتین اپنی بچیوں کو ساتھ لے کر شاپنگ مالز کے باہر لمبی لمبی قطاروں میں اندر جانے کی منتظر کھڑی ہیں اور سماجی فاصلہ بھی نہیں، یہ سب پڑھی لکھی فیملیوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ ہمارے شہر میں بھی درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔38تک پہنچ گیا اور 40سینٹی گریڈ تک بھی چلا جائے گا اور مزید بڑھے گا، شائد یہ خیال کیا گیا کہ دھوپ سے ہی کورونا وائرس مرے گا، اللہ ہمیں آنے والے وقت سے محفوظ رکھے، یہ یوں ہے کہ جو کچھ ہوا، تمہاری (عوام) گور گردن پر؟

مزید :

رائے -کالم -