کورونا، لاک ڈاؤن اور عیدالفطر!

کورونا، لاک ڈاؤن اور عیدالفطر!
کورونا، لاک ڈاؤن اور عیدالفطر!

  

کورونا کا خوف اگرچہ ابھی ختم نہیں ہوا لیکن لاک ڈاؤن کی وجہ سے جو لوگ گھروں میں مقید تھے اب لاک ڈاؤن میں نرمی کی وجہ سے گھروں سے باہر نکل آئے ہیں اور حکومت کی طرف سے مقررہ اوقات کے دوران بازاروں میں عید کی تیاری کی وجہ سے رش لگ گیا ہے۔مارکیٹوں میں اس طرح سے رش لگا ہوا ہے جیسے لوگ نئے نئے شہر میں آئے ہوں یامجبوری کی وجہ سے گھروں میں مقید تھے۔۔۔سچ تو یہ ہے کہ کورونا کی پاکستان آمد کے بعد سے ہی بہت سے خدشات و تحفظات موضوع بحث بنے رہے۔اس وبا کو پاکستان آئے تین ماہ ہوئے کچھ باتیں افواہیں ثابت ہوئیں اور کچھ وقت گزرنے کے ساتھ دم توڑ گئیں۔ یورپ میں اس نے زیادہ تباہی مچائی ہے اور اس کا اس قدر خوف ہے کہ تین ماہ گزرنے کے باوجود لوگ بہت زیادہ احتیاط کر رہے ہیں۔

امریکہ، سپین اور اٹلی کی تباہ کن صورتحال کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ وطن عزیز میں اس وبا کی موجودگی کی تصدیق ہونے کے بعد ہی ماہرین کی بہت سی رائے سامنے آئیں جن میں زیادہ تر کا اس بات پر اتفاق تھا کہ یہ وائرس پوری دنیا میں ایک سا نہیں ہے بلکہ مختلف ممالک میں اس کے الگ ہی ڈھب ہیں کہیں اس کی شدت انتہائی خطرنا ک ہے تو کہیں اس کی شدت درمیانی درجے کی ہے اور کئی ممالک میں یہ بالکل بے ضرر بھی محسوس کیا گیا ہے۔

امرواقع یہ ہے کہ پوری دنیا میں کورونا سے نمٹنے کے لیے سخت لاک ڈاؤن کیا گیا اور اس کے نتیجے میں کئی ممالک اب اس وبا کے شکنجے سے باہر آرہے ہیں۔ اس کے برعکس ہم یہی سوچ رہے ہیں کورونا ہے کہ نہیں ہے۔ دکانیں، مارکیٹیں سب ہی کسی نہ کسی طریقہ سے کھلے رہے، کئی سٹورز کو کوتاہی برتنے پر سیل کیا گیا پھر کھول دیا گیا دکانیں بند کی گئیں پھر کھول دی گئیں معاملات اس نہج پر آپہنچے کہ صبح آٹھ بجے سے شام 5 بجے اور بعض دکانوں کو رات آٹھ بجے تک کھولنے کی اجازت دے دی گئی۔

اس وبا سے ہلاکتوں کو دیکھیں تو کئی ممالک ایسے ہیں جہاں نہ صرف سخت لاک ڈاؤن رہا۔ تاہم ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ رمضان کا مہینہ بہت ساری برکتیں لے کر آتا ہے۔انسان خوش ہو یا غمگین مگر اس کی برکتیں جاری رہتی ہیں۔ جب سے لاک ڈاؤن میں نرمی ہوئی ہے۔ تو اشیاء کی خریداری کیلئے گہما گہمی دکھائی دی، یو ں لگ رہا ہے جیسے لوگ کورونا کوبھول گئے ہیں اور مارکیٹوں میں خرچ کرنے کے لئے گھس آئے ہیں۔درحقیقت کچھ لوگوں نے ماسک پہنا ہوتا ہے اور کچھ بغیر ماسک کے خریداری کر رہے ہوتے ہیں۔وہ فاصلہ رکھنا بھی بھول جاتے ہیں اس وقت کوئی احتیاط نظرنہیں آتی۔تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ غرباء اس کو مانتے ہی نہیں کہ یہ بیماری اتنی جان لیوا ہے اور اس کے بارے میں مزید کچھ جاننا بھی نہیں چاہتے۔ انہیں بس اپنی روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں، لوگوں کے رویوں میں ذرا بھر بھی فرق نہیں آیا۔ جھو ٹ، فریب،چوری، ڈکیتیاں اور ناپ تول میں بے ایمانی، یہ سب ”بیماریاں“ بھی معاشرے میں بدستور موجود ہیں۔

اس امر سے انکار ممکن نہیں کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ کورونا کے خاتمے کا امکان نہیں،اس کے ساتھ جینے کا ڈھنگ سیکھنا ہو گا۔ادارے کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اور ہنگامی حالات پروگرام کے ڈائریکٹر مائیک ریان نے کہا کہ آگہی اور احتیاطی تدابیر کے ذریعے اس وائرس کی ہلاکت خیزی کا مقابلہ کرنا ہو گا، وبا پر کنٹرول کے لئے طویل سفر ابھی باقی ہے،اِس لئے جلد بازی ہلاکت کا پیش خیمہ ہوسکتی ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ویکسین کب تک دستیاب ہوگی۔اس حوالے سے کبھی کہا جاتا ہے کہ ڈیڑھ سال لگے گا کبھی اس سے کم اور زیادہ مدت بتائی جاتی ہے۔اب تو یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ویکسین تیار ہوچکی ہے پاکستان کو بھی اس کی تیاری اور ایکسپورٹ کے رائٹس مل گئے ہیں تاہم یہ ابھی تک سو فیصد کار گر نہیں ہوگی۔

اس سلسلے میں عوام کا حکومت سے تعاون کرنا ضروری ہے اور طبی حوالے سے ڈاکٹروں کی تجویز پر عمل کرنا از حد ضروری ہے۔ یہ درست ہے کہ حکومت کے لئے طویل لاک ڈاؤن ناممکن ہے،ایک طرف معاشیات ہے اور دوسری طرف لوگوں کی جان کی پروا کرنا اور حفاظت لازمی امر ہے۔ حکومت ان دو چیزوں کے درمیان معلق دکھائی دیتی ہے۔ ان حالات میں ہر شہری کا فرض ہے کہ وہ اپنی صحت کی حفاظت کرے اور حکومت کا فرض ہے کہ ہر وہ قدم اٹھائے جس میں شہریوں کے حقوق کی پاسداری نظر آئے اور عوام کی صحت کیلئے ہر ممکن قدم اٹھائے۔ خدا کرے کہ میرے وطن کا ایک ایک فرد اس وبا سے محفوظ رہے اور زندگی پھر سے رواں دواں ہوجائے لیکن ایک بات ذہن میں ضرور رکھیں احتیاط لازم ہے اور احتیاط ہر صورت کریں۔

مہنگائی کو کم کیے بغیر اور طبی عملے و عوام کو حفاظتی سامان مہیا کیے بغیر تمام کوششیں ناکامی سے دوچار ہوں گی۔ اس وقت حکو مت کوڈاکٹروں کے مشوروں پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔امریکہ، بر طا نیہ کے پاس اتنے وسائل ہیں کہ وہ سال بھر اپنے عوام کو کھلا سکتے ہیں، اگر یہ ممالک دفاع اور پولیس کے بجٹ کو ہسپتالوں، ڈاکٹروں اور نرسوں پر خرچ کر دیں تو ہما رے ملک میں وبائی اموات اور بیروزگاری کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔بہتر یہ ہے کہ ہم کاروبار کھولیں اور ایس او پیز پر عمل کریں۔ تاجروں پر بھی بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی صفوں میں موجود منافع خوروں اورگراں فروشوں کو بھی نکال باہرکریں،تاہم قابل ذکر بات یہ ہے کہ ہمیں اس گھڑی میں جلد بازی نہیں بلکہ احتیاط کا دامن تھامے رکھنا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -