علماء، پاک فوج، اور مسلک وغیرہ

علماء، پاک فوج، اور مسلک وغیرہ
علماء، پاک فوج، اور مسلک وغیرہ

  

آپ اتفاق کریں گے کہ کسی فرد یا گروہ کی بدعملی یا خوش اطواری اس پوری برادری کو متاثر کرتی ہے جس سے متعلق وہ شخص ہوتا ہے۔ترکی میں آپ کسی ٹیکسی ڈرائیور کی بد اعمالی کا شکار ہوں تو پوری ترک قوم کو آپ ویسا ہی قرار دے دیں گے۔ ایران میں کسی ہوٹل کے عملے نے آپ کے ساتھ بدسلوکی کی ہو تو پوری ایرانی قوم کے بارے میں آپ کے خیالات اسی سلوک کے اعتبار سے ہوں گے۔یہ غیر سنجیدہ رویہ سائنسی عمل سے کوسوں دور ہے۔ اس کی ایک بڑی مثال تو وہی اسلام اور مسلمانوں کی ہے۔اسلامی تعلیمات پڑھنے سننے والے غیر مسلم کو یہ تعلیمات متاثر کرتی ہیں۔ اسی غیر مسلم کا واسطہ مسلمانوں سے پڑے تو اسے ایک دوسری دنیا نظر آتی ہے۔یہ اصول دنیا بھر میں ایک ہی طرز عمل میں گندھا ہوا ہے۔ ایک دفعہ پھر کہوں گا کہ یہ غیر سائنسی، سنجیدگی سے کوسوں دور اور رواروی میں لتھڑا ہوا رویہ ہے۔لیکن کیا کیا جائے عوامی طرز عمل یہی کچھ ہے۔

بہت پہلے مساجد کے ایک سائنسی سروے سے پتا چلا کہ ملک کی 80 فی صد مساجد کے ائمہ حضرات مطلق ناخواندہ ہیں جہاں کہیں نئی مسجد بنتی ہے تو محلے میں سے وہ صاحب بالآخر امام مسجد بن جانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں جو مسجد کی تعمیر میں ذرا آگے ہو کر حصہ لیتے ہیں۔ وہ کوئی باریش اور مقامی کونسلر قسم کے صاحب ہوتے ہیں، لیڈری کا شوق انہیں دھیرے دھیرے مسجد کی لیڈری کی طرف لے آتا ہے،کیونکہ انتخابات کے ذریعے سے وہ لیڈر نہیں بن سکتے۔ ائمہ مساجد کی بڑی تعداد کچے پکے دینی اور پختہ مسلکی علم کو لے کر مقامی آبادیوں میں اسلام کی شناخت بن بیٹھتی ہے۔ جب لوگ ان سے دینی امور میں رجوع کرتے ہیں تو ان کا علم مسائل کا احاطہ کرنے سے معذور ہوتا ہے اور میں اور آپ اس ہوٹل کے عملے کی بدسلوکی کا شکار ہوکر پورے طبقہ علماء پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ کیا یہ عمل سائنسی ہو گا۔ آپ خود سوچ لیں کہ ایسے کیوں ہے۔ شاید یہ ہمارا اپنا غیر علمی اور غیر سنجیدہ رویہ ہے اور بس۔

عام شخص پیچیدہ معاشرتی مسائل کا تجزیہ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔ دوسری طرف علمائے کرام کی قابل ذکر تعداد ایسی نکل آتی ہے جو معاشرتی عمل کو ناقابل قبول ہوتی ہے۔کچھ لوگ جلد ہی عوام کے پیار کی چاشنی سے محروم ہوجاتے ہیں۔ کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ ماڈل خواتین کے تعاقب میں رہنے والے ہمارے وہ مشہور زمانہ مفتی صاحب کتنی جلدی لوگوں کے دلوں سے اتر کر ٹی وی چینلوں کے ہردلعزیز بن چکے ہیں۔ محترم و مکرم مفتی تقی عثمانی صاحب اور ہمارے برادر بزرگ محسن نقوی صاحب سنجیدگی، متانت اور خالصتاً علمی رویے کی مدد سے اسلام کی ایک خوبصورت علمی شبیہ مصور کرتے ہیں۔ جبکہ سرکار دربار میں حاضر ناظر ہمارے وہ مشہور زمانہ ”مولانا دعا“ ایوان اقتدار کے اپنے ایک ہی دورے اور ایک باآواز جھراٹے سے ٹکڑے ٹکڑے کر کے علماء کے اس باوقار ادارے کو بے توقیر کر کے رکھ دیتے ہیں۔کیا یہی حال ہمارے ہر ادارے کا نہیں ہے؟

اس معاشرتی کجی کی تفہیم ایک دوسری مثال سے شاید بہتر ہوسکے۔ میں نہیں سمجھتا کہ ملکی آبادی میں سے ایک فیصد، کروڑ افراد ہمارے جہادی ادارے یعنی مسلح افواج کے بارے میں کوئی منفی رائے رکھتے ہوں گے۔ جن حالات سے ہم گزر رہے ہیں، ہر شخص اس سے اتفاق کرے گا کہ ہمیں ایک نہایت مضبوط، موثر اور پیشہ ور فوج کی ضرورت ہے۔ فوج محض ایوب خان، یحییٰ خان، ضیا الحق اور پرویز مشرف کا نام تو نہیں ہے۔نہ صرف ایسے نہیں بلکہ ایسا سوچنا بھی اس مقدس ادارے کو بے توقیر کرنے کے مترادف ہے۔

مسلح افواج کے سینکڑوں جرنیل نہایت باوقار انداز میں اپنی پیشہ ورانہ زندگی گزار کر فارغ ہوتے رہتے ہیں۔ لوگ فوج سے محبت کرتے ہیں۔ اس محبت کے مظاہر بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ صرف ایک ائرمارشل نور خان کا ذکر کیے دیتا ہوں جنہیں میں عملی زندگی میں اپنا آئیڈیل قرار دے چکا ہوں۔ آپ ایئر فورس، پی آئی اے، ہاکی فیڈریشن اور محکمہ تعلیم میں ربط تلاش کریں، میں آپ کو کچھ اور یاد کرائے دیتا ہوں۔ 1965ء کی جنگ شروع ہونے کے 24 گھنٹوں میں ایئر مارشل نور خان کی قیادت میں پاکستان ایئر فورس آدھے سے زیادہ بھارتی ہوائی اڈوں کو کھنڈر بنا چکی تھی۔غالبا ہلواڑا کا ہوائی اڈا تو 12 کے لگ بھگ بھارتی جنگی جہازوں کا قبرستان بن چکا تھا۔ ایک ہی دن میں اس نابغہ روزگار ایئر مارشل نے دشمن کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ اس نے پی آئی اے سنبھالی تو اس کا شمار دنیا کی پانچ بہترین ایئرلائنوں میں ہونے لگا۔ ہاکی فیڈریشن کے صدر مقرر ہوئے تو پاکستان نے اپنے ایک حریف کو 17 بمقابلہ ایک گول سے ہرایا۔ کسی نے مبارکباد دی۔ ایئرمارشل کاغذ پر اپنی کھینچی ہوئی آڑی ترچھی لکیروں پر سے نظر اٹھا کر بولے: ”تمہیں مبارکباد سوجھ رہی ہے میں تو یہ سوچ کر ہلکان ہو رہا ہوں کہ پاکستان کے خلاف یہ ایک گول ہوا تو کیوں ہوا“۔ پھر قومی تعلیمی کمیشن قائم ہوا، علمی دنیا کے میرے آئیڈیل ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم نے 2007ء میں مجھے خود بتایا: ”آج تک جتنے کمیشن بنے ہیں، ان میں سے نور خان تعلیمی کمیشن رپورٹ اور جسٹس شہاب الدین کی آئینی اصلاحات رپورٹ جیسی رپورٹوں کا جواب نہیں ہے“۔

جنرل اعظم خان کے بارے میں جا کر کسی عمر رسیدہ بنگالی سے پوچھ لیں۔ اس کی آنکھیں مارے عقیدت کے پر نم ہوجائیں گی۔دفاعی امور کی باریکیاں نہ سمجھنے والے عام بلوچوں میں جا کر جنرل ناصر جنجوعہ کا نام لے کر دیکھیں۔آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ دلوں پر راج کرنا کسے کہتے ہیں۔ یہ سب اور ان جیسے دیگر بہت سے فوجی نام قائدے، قانون، آئین اور روایات کے اندر رہتے ہوئے اپنا اپنا کام کرکے نیک نامی کے ساتھ ادارے سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ میرے حلقہ احباب کے لوگ میری اس رائے سے بخوبی واقف ہیں کہ مسلح افواج کی داخلی روایات اور کام کاج کے طریق ہائے کار میں سے اگر بیس فیصد بھی سول انتظامیہ اور ہمارے اجتماعی رویوں میں داخل ہو جائیں تو ہماری کایا پلٹ جائے۔ لیکن فقہ اسلامی کے مرکزی دھارے سے منحرف اور جدید سودی نظام کو جائز قرار دینے والے شیخ الازھر کی طرح کوئی ایوب خان غیر آئینی طریقے سے اقتدار پر قبضہ کرے، ملک کا کچھ رقبہ ایران کو اور کچھ زمینی ٹکڑا چین کے حوالے کرے تو یہ کام ساری فوج کی نمائندگی کرتے ہوئے ہوا۔ ماڈل خواتین والے مفتی صاحب کی طرح کا کوئی جنرل یحییٰ خان آئین توڑ کر اقتدار پر قابض ہوجائے تو آئین کی عدم موجودگی میں جب ملک دو لخت ہوا تو کیا یہ کسی حکمت عملی کے تحت ہوا تھا۔ ہمارے ”مولانا دعا“ کے مثل کوئی جنرل ضیاء غیرآئینی حرکت کرے تو اسی پاک آرمی کے جرنیل عشروں تک بھارتی قبضے میں اپنے سیاچن کے پاکباز شہیدوں کی میتوں کو کندھا دینے میں ملازمت پوری کر رہے ہیں۔رہے جنرل مشرف تو کیا کروں، علمائے کرام میں سے مجھے یہی دو تین مثالیں جرنیلوں کے حسب حال ملی ہیں۔ جنرل مشرف تو ہیں بے بدل و بے نظیر۔ علماء کی کیا مجال کہ ان کے سامنے سر اٹھا سکیں۔ کہاں راجہ بھوج اور کہاں گنگو تیلی!

میرا خیال ہے کہ میں اپنے قارئین پر یہ واضح کرنے میں کامیاب ہوگیا ہوں کہ کسی ایک فرد کی بداطواری کی وجہ سے پورے ادارے پر خراشیں ڈالنا غیر سائنسی رویہ ہے۔ ترکی کا بددیانت ٹیکسی ڈرائیور پوری ترک قوم کا نمائندہ نہیں ہے، ہوٹل کا بداخلاق عملہ پورے ایران کا چہرہ نہیں ہے، یہ چاروں مذکورہ جرنیل مسلح افواج کی شناخت نہیں ہیں۔ لیکن عوام کا غیرسائنسی رویہ انہیں پورے ملک کا نمائندہ قرار دے ڈالتا ہے۔ ماڈل خواتین والے مفتی صاحب کے اپنے نفس کے اسیر ہوتے ہی وہ علماء کی چوپال سے نکل کر رنگ و نور (Glamour) کی محفل میں جا بیٹھتے ہیں۔ دعا والے ہمارے محترم مولانا کے راہداری اقتدار میں قدم رکھتے ہی وہ اپنی ہی جماعت کے کوچہ اجنبیت میں بھٹک رہے ہیں۔ لیکن کیا ان سب کی اپنی اپنی جماعت نے ابھی تک ان میں سے کسی سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے؟ شاید نہیں! اس کے باوجود ہم لوگ ایران، ترکی اور فوج سے وہی لگاوٹ رکھتے ہیں جو ان موصوف پائے بد راہ کی تشریف آوری سے پہلے رکھتے تھے۔ قائداعظم نے درست فرمایا تھا کہ عوامی رائے کبھی غلطی پر نہیں ہوتی۔

چنانچہ پہلے مرحلے تو یہ سمجھ لیجیے کہ تمام ائمہ مساجد کا شمار علماء میں نہیں ہوتا۔ مستند میڈیکل ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل اسٹاف اور وکیل اور اس کے منشی کی مثال ہمیشہ ذہن میں رکھ لیں۔پھر بددیانت ترک ٹیکسی ڈرائیور ایرانی ہوٹل کے بدتمیز عملے، جامعہ الازہر کے انحراف زدہ فتوے اور چار مذکورہ آئین شکنوں کو ذہن میں رکھ کر ہی علماء کے بارے میں کوئی رائے قائم کیا کریں۔ فرد کی بدعملی ادارے کی شناخت نہیں بن سکتی۔ تبلیغی جماعت انتخابات میں حصہ نہیں لیتی۔ جماعت اسلامی انتخابی سیاست میں کچھ کامیاب نہیں ہے۔ لیکن کیا تبلیغی جماعت کے بین الاقوامی چہرے کے مقابلے میں کوئی اور تنظیم آپ کو نظر آتی ہے؟ سید مودودی رحمہ اللہ علیہ کی فکر نے ہمارے اور مغربی دنیا کے کس شعبے کو متاثر نہیں کیا؟ اور کیا عبدالستار ایدھی کی وفات کے بعد خدمت خلق کے میدان میں جماعت اسلامی کی الخدمت سے زیادہ کسی ملک گیر تنظیم کا نام آپ کے ذہن میں آتا ہے؟ یہ سب کے سب اللہ والے رنگ و نور سے دور ہماری معاشرتی عمارت کی بنیادوں میں رہ کر اس کا بوجھ اٹھاتے ہیں, نظر نہیں آتے. اندازہ کیجیے کہ اس رمضان کے دوسرے عشرے میں جب ہمارے گلیوں بازاروں میں مجہول مخلوق خدا اسیر ابو بکر و علی تھی تو چوٹی کے ایک شیعہ عالم دین لمبی حسرت آمیز سانس لے کر کیا کہتے ہیں۔ "خاتم النبیین ص ایک روز گذر رہے تھے, دیکھا کہ دو عورتیں آپس میں لڑ رہی ہیں. بعد ازاں ان میں سے ایک نبی کریمؐ کے پاس آئی اور روزے سے متعلق ایک بات پوچھی۔ آپ نے فرمایا: 'تم روزے سے نہیں ہو، تم ابھی فلاں عورت سے لڑ رہیں تھیں، تمام طبقات فکر کے علماء کسی نہ کسی ایشو پر یکم رمضان سے لڑ رہے ہیں۔ کیا ہم نے اپنا رمضان ضائع نہیں کر دیا؟”وہی شیعہ عالم دین پانچ جلدوں میں "فقہ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ“ ملنے پر اپنی خوشی کا اظہار یوں کرتے ہیں کہ کتاب کا سرورق اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر چسپاں کر دیتے ہیں۔ اس کتاب میں فقہ عمر کا موازنہ چوٹی کے دیگر مجتہدین سے کیا گیا ہے۔ تفصیل دیکھنا چاہیں توفیس بک پر جاکر ”محسن نقوی“نکال لیں۔

سطح بحر پر آپ کیا دیکھا کرتے ہیں؟؟؟ خس و خاشاک اور پلاسٹک کے لفافے!!! گرانقدر موتی و گوہر اور صدف کیا سمندر کی تہہ سے حاصل نہیں ہوتے۔ اب اپنا آپ مقام متعین کر لیں۔ اپ اسیر ابوبکر وعلی ہیں تو جائیے گلیوں بازاروں میں گلا پھاڑئیے۔ لیکن یہ عمل کرنے سے قبل محترم محسن نقوی والی مذکورہ حدیث پڑھ کر آپ گلا پھاڑیں گے تو کہیں زیادہ بلند آہنگ صدا آپ کے اندر سے ابھرے گی۔ سننے کے لیے البتہ کچھ دوسری طرح کے کان درکار ہوں گے۔ آپ گلا پھاڑئیے، محرم راز خالق کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی دھیمی سی آواز آپ سے کہہ رہی ہوگی:”تم روزے سے نہیں ہو، تم روزے سے نہیں ہو“ اور ہاں، آپ کی اس ایک دن کی چیخم دھاڑ کے بدلے میں ساٹھ روزے تو آپ کے گلے میں پڑیں گے ناں؟ ماحول کی آلودگی اور فساد فی الارض کے جرائم کی پیمائش دونوں کندھوں پر بیٹھے نادیدہ وجود ہی کرسکتے ہیں۔ کیا ایسے نہیں ہوسکتا کہ ہم سب مل ابوبکر اور علی کی تعلیمات کو گوشہ خولؓ سے نکالیں، ان پر عمل کرکے مقابلہ کریں کہ کون بہتر ہے۔ اس صورت میں مقابلہ کرتے کرتے ہم سب ایک دن محرم راز خالق کائنات کے قدموں میں پہنچ کر بغلگیر ہو رہے ہوں گے۔ جی ہاں! اپنے اپنے ناخواندہ رہنماؤں کی پیروی کرنا ہے یا محرم راز خالق کائنات کی تعلیمات آپ کے پیش نظر ہیں؟ افلا تتفکرون؟؟؟

مزید :

رائے -کالم -