فوج اور عوام میں یکجہتی دشمنوں کو گوارا نہیں

فوج اور عوام میں یکجہتی دشمنوں کو گوارا نہیں
فوج اور عوام میں یکجہتی دشمنوں کو گوارا نہیں

  

کچھ عرصہ پہلے قاسم بیلہ ملتان کینٹ کی حدود میں واقع فوجی ناکے پر مجھے روکا گیا، تو میں نے حسبِ معمول اپنا شناختی کارڈ دکھایا وہاں موجود اہلکار نے پوچھا ”سر آپ کے پاس کیمرہ تو نہیں ہے؟“ اس کے اس سوال پر میں حیران رہ گیا، میں نے کہا کیا کیمرہ لے جانے پر پابندی لگا دی گئی ہے، پھر میں نے اپنا موبائل اٹھا کر اسے دکھایا کہ اس میں کیمرہ موجود ہے اور ایسا کیمرہ اب تقریباً ہر پاکستانی کے پاس ہے، اس پر وہ لاجواب ہو گیا اور مجھے جانے دیا۔ معلوم نہیں وہ اپنے طور پر یہ سوال پوچھ بیٹھا تھا یا اسے کہا گیا تھا۔ یہ واقعہ آج اس لئے یاد آیا کہ موٹر وے پر ایک ناکہ توڑنے کی ویڈیو نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا رکھا ہے جس میں مبینہ طور پر ایک حاضر سروس فوجی افسر کی اہلیہ زبردستی رکاوٹیں ہٹا کر نکل جاتی ہیں اور ناکے پر کھڑے اہلکاروں کو سخت الفاظ میں تنبیہ بھی کرتی ہیں۔ یہ ایک فرد کا انفرادی عمل ہے مگر بدقسمتی سے اسے فوج کا مجموعی رویہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ لیکن مجھے جس بات پر حیرت ہو رہی ہے وہ اس خاتون کا اس حد تک لاپرواہ ہونا ہے کہ وہ ویڈیو بنتے دیکھ رہی ہے مگر اس کے باوجود اپنا قانون شکن عمل جاری رکھتی ہے، کبھی سامنے پڑے ڈرم کو ہٹاتی ہے اور کبھی بیریئر کو زبردستی نیچے گرانے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ معاملہ کئی منٹ تک جاری رہتا ہے اور وہ خاتون مسلسل کیمرے کی زد میں رہتی ہے گویا اس کے عمل کی گواہی ریکارڈ ہو رہی ہے اور اسے اس کی پروا ہی نہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ لوگ اخباری فوٹو گرافر کے کیمرے کو دیکھ کر ڈر جاتے تھے لیکن اب تو کوئی بھی چیز، کوئی بھی واقعہ کیمرے کی آنکھ سے محفوظ رہا ہی نہیں، کہیں سی سی ٹی وی کیمرے اور کہیں موبائل فون کیمروں نے ساری زندگی کو اپنے نرغے میں لے لیا ہے جس طرح وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اب ہمیں ویکسین کی تیاری تک کورونا کے ساتھ جینا ہے، اسی طرح اب ہمیں اُن دس بارہ کروڑ موبائل کیمروں کے درمیان زندگی گزارنی ہے، جو ہمارے اردگرد موجود ہیں اب ہمارا کوئی عمل بھی اپنا ذاتی نہیں رہا بلکہ وہ معاشرے کی امانت بن چکا ہے۔

یہ کوئی انہونی بات نہیں ہوتی کہ معاشرے کے کسی طاقتور طبقے سے تعلق رکھنے والے ایک فرد نے شعوری یا لا شعوری طور پر ایسے طرز عمل کا مظاہرہ کیا ہو، جو خود اس کے اور ادارے کے لئے شرمندگی کا باعث بنا ہو۔ ایسے سینکڑوں واقعات پہلے سے موجود ہیں کہ کسی وزیر کسی رکنِ اسمبلی کسی سرمایہ دار یا کسی مراعات یافتہ طبقے سے تعلق رکھنے والے فرد نے سڑک پر قانون کو توڑا، ایسے واقعات کی ویڈیوز بھی وائرل ہوئیں اور مذمت بھی کی گئی۔ حقیقت یہی ہے کہ ایسے رویے ابنارمل لوگوں کے ہوتے ہیں انہیں عمومی رویئے نہیں کہا جا سکتا۔ مجھے یہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ ایک خاتون کے انفرادی عمل کو بنیاد بنا کر قومی ادارے پر تنقید کے نشتر چلائے گئے۔ ایسا لگا کہ بعض طبقوں کو فوج کے بارے میں بھڑاس نکالنے کا موقع مل گیا۔ وہ دیدہ و نادیدہ قوتیں جن کا ہمیشہ یہ ایجنڈا رہا ہے کہ پاک فوج اور عوام کے درمیان دوریاں پیدا کی جائیں، جن کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ ایسا چہرہ سامنے لایا جائے جس سے عالمی سطح پر پاکستان کا ایک منفی امیج سامنے آئے، انہوں نے اس واقعہ کو اس تیزی سے اچھالا کہ یہ سوشل میڈیا کا ٹاپ ٹرینڈ بن گیا کسی نے اس بات کی تصدیق تک نہیں کی کہ جو خاتون کرنل کی بیوی ہونے کا دعویٰ کر رہی ہے، وہ ہے بھی یا نہیں، سب جانتے ہیں کہ فوج کا ڈسپلن بہت سخت ہے۔ ناکوں پر کھڑے ہوئے فوجی اہلکار بھی تہذیب و شائستگی کے دائرے میں رہ کر بات کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ عوام ان کا پولیس والوں سے زیادہ احترام کرتے ہیں مجھے یہ بھی یقین ہے کہ فوج اپنے خود احتسابی نظام کے تحت اس واقعہ کا بھی سنجیدہ نوٹس لے چکی ہو گی اور اس واقعہ کو سامنے رکھ کر نئے احکامات بھی جاری کئے جا چکے ہوں گے۔ کیونکہ اس روپے اور قانون سے بالا تر ہونے کے اس عمل کو کسی قیمت پر قبول نہیں کیا جا سکتا لیکن ایک ایسے واقعہ کو جس میں کسی ادارے کا براہ راست ملوث ہونا ثابت نہیں ہوتا، بنیاد بنا کر اس قومی ادارے کے خلاف گھٹیا مہم چلائی جا سکتی ہے۔؟

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی سربراہی میں فوج نے شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں باجوہ ڈاکٹرائین میں اس بات کی ہمیشہ بڑی اہمیت رہی ہے کہ فوج اور عوام کے درمیان مضبوط تعلق استوار کیا جائے ہر مشکل گھڑی میں فوج نے عوام کی مدد کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ فوج کے اجتماعی رویئے کی طرف سے کوئی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا، جس میں فوج نے عوام کے خلاف کوئی قدم اٹھایا ہو۔ سول حکومت سے بھی فوج کے تعلقات مثالی ہیں اور یہ بات اب خواب و خیال بن گئی ہے کہ فوج جمہوریت کے خلاف کوئی شب خون مار سکتی ہے۔ فوج کے اندر ایک سخت نظم و ضبط کا نظام رائج ہے جس کی مثالیں سامنے آ چکی ہیں کہ بریگیڈیئر اور جنرل رینک کے افسران کو بھی سزائیں دی گئیں۔ فوج کا انٹیلی جنس سسٹم اس بات کی بھی کھوج میں رہتا ہے کہ کوئی فوجی افسر یا اہلکار سول معاملات میں اپنی وردی کا ناجائز فائدہ تو نہیں اٹھا رہا۔ ایسے کسی عمل کو برداشت نہیں کیا جاتا۔ میں خود کینٹ کے علاقے میں رہتا ہوں اور اکثر دیکھتا ہوں کہ ایم پی والے کسی فوجی گاڑی کو روک کر پوچھ گچھ کر رہے ہوتے ہیں کہ وہ اجازت لے کر استعمال کی جا رہی ہے یا کوئی افسر اسے ذاتی مقاصد کے لئے استعمال کر رہا ہے۔ گاڑیوں کے معاملے میں بھی اس قدر محتاط ادارہ بھلا یہ کیسے اجازت دے سکتا ہے کہ اس کی فورس سے تعلق رکھنے والے قانون شکنی کریں یا یہ تاثر دیں کہ وہ معاشرے کے قوانین سے بالا تر ہیں۔

سوشل میڈیا پر فوج مخالف قوتیں جن میں پی ٹی ایم جیسی تنظیمیں بھی شامل ہیں ایک خاتون کی اس ویڈیو کو بنیاد بنا کر خوب کیچڑ اچھال رہی ہیں حالانکہ اس کا فوج کے ساتھ کوئی تعلق بنتا ہی نہیں ہاں اگر ایسا ہوا ہوتا کہ وہ خاتون فون کر کے اپنے شوہر کو بلا لیتی اور وہ باوردی اپنے سپاہیوں کے ساتھ وہاں پہنچ کر کوئی کارروائی کرتے تو اسے ایک سنگین واقعہ قرار دیا جاتا۔ ایسا تو کچھ بھی نہیں ہوا، ایک خاتون اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر کے اگر ناکے سے نکل گئی تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کا مطالبہ ضرور کیا جانا چاہئے، لیکن یہ تاثر دینا انتہائی نا مناسب ہے کہ یہ فوج کا مجموعی رویہ ہے کہ وہ ملکی قوانین کو نہیں مانتی، اس پروپیگنڈہ مہم کے پیچھے ملک دشمنوں کا ہاتھ ہے۔ ہر پاکستانی کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ فوج ہمارا سب سے اہم ادارہ ہے جس نے ہزاروں جانوں کی قربانی دے کر قومی سلامتی پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جو آج بھی پاکستان کی سلامتی کے در پے اندرونی اور بیرونی قوتوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا ہوا ہے۔ اسے متنازعہ بنانے یا کمزور کرنے کا ایجنڈا بہت پرانا ہے، مگر عوام کی فوج کے ساتھ محبت ایسے ہر عمل کو ناکام بنا دیتی ہے۔ اس یکجہتی کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے اور یہی وقت کا تقاضا بھی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -