بک شیلف: گم شدہ اسلامی تاریخ

بک شیلف: گم شدہ اسلامی تاریخ
بک شیلف: گم شدہ اسلامی تاریخ

  

میں سمجھتا ہوں کہ اگر شمشیروسناں، تیغ و عَلم کا جہاد ہے تو دفاعی امور پر کالم نگاری قرطاس و قلم کا جہاد ہے۔ دنیا کی تمام بڑی بڑی تہذیبیں جنگ و جدال کی بھٹی سے گزر کر ہی عظیم کہلائیں۔ سرورِ کائنات ﷺ 53برس کی عمر تک مکہ میں مقیم رہے اور زبان سے وعظ و تلقین کا فریضہ ادا فرماتے رہے۔ لیکن جب اپنے چچا کا سایہ سر سے اٹھ گیا اور اپنی محترم رفیقہ ء حیات بھی انتقال فرما گئیں تو اکیلے رہ گئے۔ کفارِ مکہ نے سوچا کہ یہی وقت ہے محمدؐ اور پیغامِ محمدؐ کا خاتمہ کر دیا جائے۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجئے قبل از ہجرت، مکہ اور اس کے قرب و جوار میں کتنے لوگ تھے جو مسلمان ہوئے۔ اگر کوئی تاریخ اس سلسلے میں خاموش ہو تو میں عرض کئے دیتا ہوں کہ ہجرتِ مدینہ سے پہلے مسلمانانِ مکہ (پوشیدہ اور ظاہر ملا کر) کی تعداد ایک سو بھی نہیں تھی۔ آپؐ صادق و امین تھے، منصف و عادل تھے، حلیم و متین تھے، بردبار تھے، شرم و حیا کا پیکر تھے، اخلاقِ مجسم تھے لیکن یہ صفاتِ حسنہ ترویجِ دین میں کیا کام آئیں؟ یہ اخلاقیات، سیرتِ حضورؐ کا جمالی پہلو تھے۔ جمالی پہلوؤں کی پیروی کی انتہا تھی کہ آپ تنگ آکر وطنِ مالوف چھوڑنے پر تیار ہو گئے۔ حضرتِ ابوبکرؓ نے سنا تو فرمایا کہ مجھے ہمراہی کا شرف بخشیں، میں آپؐ کو اکیلا نہیں جانے دوں گا۔ لیکن جب یہ دونوں ہستیاں چپکے سے مکہ سے ”فرار“ ہوئیں تو اس میں حکمِ خداوندی شامل تھا۔ نبی کی کوئی بات اور کوئی امر، امرِ الٰہی کے بغیر ظاہر نہیں ہوتا۔ آپ جس بے بسی اور بے کسی کے عالم میں مکہ سے نکلے اس کیفیت کا تصور کیجئے اور پھر اس کیفیت کا تصور بھی کیجئے جب 8ہجری میں فاتحِ عرب بن کر مکہ تشریف لائے…… زمانہ ء طالب علمی کے یہ چار اشعار اسی تصور کے عکاس ہیں:

سلام اسؐ پر کہ جو مکے سے نکلا نیم جاں ہو کر

فسردہ، دل گرفتہ، بے سہارا، ناتواں ہو کر

سلام اسؐ پر مہاجر بن کے جو پہنچا مدینے میں

مگر اب ہاتھ میں تلوار تھی، قرآن سینے میں

سلام اسؐ پر کہ پھر جس نے عدو سے جنگ فرمائی

بہت سے معرکوں میں تندی ء شمشیر دکھلائی

سلام اسؐ پر کہ لشکر جس کا پھر مکے میں دَر آیا

سلام اسؐ پر کہ فاتح بن کے واپس اپنے گھر آیا

آنحضورؐ کا مکّی دور 53برسوں پر محیط تھا اور حضورؐ نے اپنی عمر کے آخری دس برس مدینے میں گزارے۔ یہ کافروں کے خلاف نبردآزمائی اور کشت و قتال کا دور تھا۔ تبلیغِ دین کو موخر کر دیا گیا اور غزوات و سریات کی پلاننگ اور تکمیل (Execution) مقدم رکھی گئی۔ جو کالم نگار، مقرر اور مورخ تبلیغ کی تعریف و تحسین اور ضرورت بیان کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ ملا کی اذاں اور ہوتی ہے اور مجاہد کی اذاں دوسری ہے۔ مجاہد کی اذاں پر اقبال کا یہ شعر یاد آ رہا ہے:

ناگاہ فضا بانگِ اذاں سے ہوئی لبریز

وہ نعرہ کہ ہل جاتا ہے جس سے دلِ کہسار

جہاد و تبلیغ میں تقدیم و تاخیر کا مسئلہ برصغیر کی مجہول سیاسیات میں ایک عرصے سے زیر بحث چلا آ رہا ہے۔ تبلیغِ دین کا فریضہ اسلام کے اہم ترین فرائض میں سے ایک ہے لیکن اگر عصا نہ ہو تو کارِ کلیم بے بنیاد ہوتا ہے۔آپ کو یاد ہو گا کچھ روز پہلے وزیراعظم عمران خان نے اپنے کسی خطاب میں ایک کتاب کا ذکر کیا تھا اور سفارش کی تھی کہ اس کا مطالعہ ضرور کیا جائے۔ اس کا نام ”گمشدہ اسلامی تاریخ“ (Lost Islamic History) تھا جس کا مصنف فراس الخطیب ہے۔ اس کا پہلا ایڈیشن 2014ء میں لندن سے شائع ہوا اور اس کے پبلشرز کا نام (C. Hurst & Co) تھا۔ بعد میں کئی ایڈیشن نکلے۔اس کے صفحات کی تعداد 167 ہے جس میں آخری دو صفحات کتابیات اور حوالہ جات کے بارے میں ہیں۔

یہ کتاب واقعی دلچسپ بلکہ چشم کشا ہے۔ اس کے گیارہ ابواب (Chapters) ہیں جن کے عنوانات یہ ہیں:

1۔ اسلام سے پہلے کا جزیرہ نمائے عرب

2۔حضرت محمدؐ کی حیاتِ طیبہ

3۔خلفائے راشدین کا دور

4۔اسلامی ریاست کا قیام

5۔اسلام کا انٹلکچوئل سنہری دور

6۔اکھاڑ پچھاڑ

7۔اندلس (سپین)

8۔اسلام کی برتری

9۔نشاۃ ثانیہ

10۔زوال

11۔قدیم و جدید افکار

یہ کتاب پہلے میری نظر سی نہیں گزری تھی اس لئے اس کا مطالعہ ضروری سمجھا۔ اور چونکہ موجودہ دور لاک ڈاؤن کا دور ہے اس لئے گھر میں نظر بندی کے لمحات میں ایسی کتابوں کا مطالعہ میری گویا اولین ترجیح بن گیا۔ فہرستِ مضامین پر عائرانہ نظر دوڑانے سے معلوم ہوا کہ کوئی نئی چیز نہیں۔ لیکن پھر عمران خان کی ”سفارش“ یاد آئی تو اچٹتی سی نگاہیں پہلے باب پر ڈالیں جس میں عریبیا کا جغرافیہ پڑھا تو معلوم ہوا کہ مصنف نے دریا کو کو کوزے میں بند کر دیا ہے۔ جوں جوں آگے بڑھا ہر باب کا کوزہ، مٹی کا کوزہ نہیں بلکہ سنہری کوزہ بن گیا۔ فراس الخطیب کی وسعتِ مطالعہ قابلِ داد ہے۔ وسطانی ابواب (اکھاڑ پچھاڑ، اندلس، اسلام کی برتری، نشاۃ ثانیہ اور زوال) حد درجہ اہم اور سبق آموز ہیں۔ اندلس سے انڈیا تک اسلامی فتوحات اور اسلامی تہذیب و تمدن کے ارتقاء کو مصنف نے اگرچہ اختصار سے بیان کیا ہے لیکن اگر وہ ایسا طرزِ تحریر اختیار نہ کرتے تو صرف ڈیڑھ سو صفحات میں اسلام کے عروج و زوال کی تاریخ کیسے بیان کی جا سکتی تھی؟……

مصنف نے بعض واقعات قلمبند کرتے ہوئے شائد زیادہ تحقیق و جستجو سے کام نہیں لیا۔ مثلاً آنحضورؐ کی مدنی حیاتِ مبارکہ میں جب غزوۂ بدر کا ذکر کیا ہے تو اس میں اسلامی لشکر کے کمانڈر کو حضرت امیر حمزہؓ لکھ دیا ہے۔ (دیکھئے کتاب کے صفحہ نمبر21 کی آخری سطور)…… کسے معلوم نہیں کہ اس غزوے میں اسلامی لشکر کی کمانڈ خود آنحضورؐ کے ہاتھ میں تھی۔ ان کا خیمہ ایک نسبتاً بلند تر مقام پر بنایا گیا تھا جہاں سے آپ نے اس لڑائی (Battle) کے تمام مراحل کی خود کمانڈ کی اور مختلف دستوں کو آگے پیچھے Move کروانے کے احکامات صادر فرمائے۔ بدر سے لے کر غزوۂ تبوک تک کے معرکوں کو صرف چار صفحات میں سمو دیا گیا ہے اور پھر جب حضورؐ کا وصال ہوا اور حضرت ابوبکر صدیقؓ خلیفہ ء اول بنے تو انہوں نے ”فتنہء ارتدار کی سرکوبی میں مسیلمہ کذاب کے ساتھ جو لڑائیاں لڑیں ان کو نہائت تفصیل سے بیان کیا ہے۔ اسی طرح جنگ جمل کو بیان کرنے میں بھی حد درجہ اختصار سے کام لیا ہے۔(اور میرا خیال ہے، اچھا کیا ہے)۔لیکن خلافتِ عباسیہ کے دور کو اتنا کھینچا ہے کہ بعض اوقات دورانِ مطالعہ کوفت ہونے لگتی ہے۔ میرے نزدیک سب سے اچھا باب وہ ہے جس میں مسلمانوں کی 300سالوں پر پھیلی اولیں فتوحات کے بعد 300 سالوں کے اس دور کی تفصیل بیان کی ہے جس میں اسلامی جنگ و جہاد کا سلسلہ تو منقطع ہو گیا لیکن اینٹلکچوئل ”فتوحات“ نے ان کی جگہ لے لی۔ الخطیب نے ریاضی، جیومیٹری، الجبرا،فلکیات، علمِ نجوم، جغرافیہ، ادویات، تاریخ، فزکس، فقہ، حدیث، اسلامیات اور شیعہ ازم پر 20صفحات میں بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ اس موضوع پر قبل ازیں میں نے کئی کتابوں کا مطالعہ کیا ہے لیکن مصنف نے ان صفحات میں اختصار و تفصیل کا ایک ایسا امتزاج پیش کیا ہے جو پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ ”انڈیا‘ کے ذیلی عنوان سے اگرچہ 711ء سے لے کر قیامِ پاکستان تک کے دور کا احاطہ کیا ہے لیکن اس کے لئے صرف سات صفحات کافی سمجھے ہیں جبکہ شام، عراق، ایران، مصر اور عرب پر کئی صفحات لکھے گئے ہیں۔

میرے نقطہ ء نظر سے کتاب کا دسواں باب سبق آموز ہے جس میں 17،18 صفحات میں یہ بحث کی گئی ہے کہ اسلام کا سنہری دور وہ تھا جو خلافتِ راشدہ، امیہ،عباسیہ اور عثمانیہ کا دور تھا۔ اور یہی دور اسلامی فتوحات کا دور ہے۔ سارا مشرق وسطیٰ جنگِ عظیم اول سے پہلے خلافِ عثمانیہ کا حصہ تھا لیکن جب یہ جنگ ختم ہوئی تو ترک صرف ترکی تک محدود ہو کر رہ گئے۔ اگر مصطفی کمال گیلی پولی میں برطانیہ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی متحدہ افواج کو عبرت ناک شکست سے دوچار نہ کرتا تو آج ترکی بھی عیسائی یورپ کا حصہ ہوتا اور ترک مسلمانوں کا حشر بھی سربیا کے مسلمانوں اور ان سے پہلے اندلس کے مسلمانوں جیسا ہوتا۔

آج کل ایک ترک ڈرامہ سیریل ہمارے ٹی وی پر دکھائی جا رہی ہے۔ اس پر بہت سے دوستوں نے کالم لکھے ہیں۔ کئی سیاستدانوں نے سوشل میڈیا میں بھی اس ڈرامہ سیریل پر بھرپور تبصرہ و تجزیہ کیا ہے اس کا لب لباب بھی تبلیغِ دین نہیں، تجہیزِ دین ہے۔ یعنی دین اسلام کی اشاعت مقصود ہے تو تبلیغ کو جہاد پر مقدم نہ کرو بلکہ جہاد کو تبلیغ پر مقدم سمجھو۔

بیاں میں نکتہ توحید آ تو سکتا ہے

ترے دماغ میں بت خانہ ہو تو کیا کہیے

سرور جو حق و باطل کی کارزار میں ہے

تو حرب و ضرب سے بیگانہ ہو تو کیا کہیے

جہاں میں بندۂ حر کے مشاہدات ہیں کیا

تری نگاہ غلامانہ ہو تو کیا کہیے

مزید :

رائے -کالم -