قومی مالیاتی کمیشن کی تشکیل، خرم دستگیر کی درخواست پر سماعت 28 مئی تک ملتوی

  قومی مالیاتی کمیشن کی تشکیل، خرم دستگیر کی درخواست پر سماعت 28 مئی تک ملتوی

  

اسلام آبا د(این این آئی)دسویں قومی مالیاتی کمیشن کی تشکیل کے خلاف انجینئر خرم دستگیر کی درخواست پر سماعت 28 مئی تک ملتوی کر دی گئی۔ جمعرات کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے سماعت کی۔درخواست گزار کی جانب سے عمر گیلانی ایڈووکیٹ نے دلائل دئیے، جسٹس میاں گل حسن اور نگزیب نے کہاکہ آپ کی مرکزی استدعا یہی ہے کہ مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کمیشن کے ممبر نہیں ہو سکتے؟۔ عمر گیلانی ایڈووکیٹ نے کہاکہ یہ صرف ایک گراؤنڈ ہے کہ وزرا کے علاوہ تمام ممبرز کے لیے گورنرز سے مشاورت ضروری ہے، آئین کے تحت قومی مالیاتی کمیشن کے اجلاس میں تمام ارکان کی موجودگی ضروری ہے۔ وکیل درخواست گزار کے مطابق صدر نے وزیر خزانہ کی غیر موجودگی میں مشیر خزانہ کو قومی مالیاتی کمیشن کے اجلاس کی سربراہی کا اختیار دیا، وزیراعظم نے وزیر خزانہ کا عہدہ اپنے پاس رکھا ہوا ہے امکان ہے کہ وہ اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے۔وکیل نے کہاکہ وزیراعظم نے وزیر خزانہ کا عہدہ اپنے پاس رکھا ہوا ہے امکان ہے کہ وہ اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے۔ عدالت نے کہاکہ آپ کی یہ باتیں مفروضوں پر مبنی ہیں، اجلاس ہونے دیں، کوئی غیر آئینی بات ہو تو بتائیں۔ عمر گیلانی ایڈووکیٹ نے کہاکہ قومی مالیاتی کمیشن کو وہ فرائض بھی سونپ دیے گئے جو اس کے دائرہ اختیار میں نہیں، سیکورٹی اور قدرتی آفات کی صورت میں اخراجات کے تخمینے کا اختیار بھی دے دیا گیا، سپریم کورٹ نے کورونا از خود نوٹس کیس میں وفاق کے اختیارات سے متعلق آئین کے آرٹیکل 149 کی تشریح کی، درخواست پر نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ سپریم کورٹ کے آرڈر کی روشنی میں کریں گے،آپ بھی وہ آرڈر پڑھ کر آئیں، عید کی چھٹیوں کے بعد پہلے ورکنگ ڈے پر اس کیس کو سنیں گے۔ بعد ازاں کیس کی سماعت 28 مئی تک ملتوی کر دی گئی۔

مزید :

صفحہ آخر -