الوداع رمضان کریم

الوداع رمضان کریم
الوداع رمضان کریم

  

نیکیوں کا موسم بہار/ رمضان المبارک اِس سال کورونا کے نرغے میں رہا، حکومت پابندیاں ہر مرحلے میں آڑے آتیں رہیں / رمضان المبارک کے آغاز پر حکومت اور علماء اکرام کے درمیان ہونے والے معاہدے نے مکی سطح پر یکجہتی کی مثال قائم کی، افسوس سندھ حکومت کی طرف سے لاک ڈاؤن پر سیاست کرنے اور یوم علی پر جلوس کی اجازت دینے اور وزراء کی طرف سے جلوس میں شرکت نے حکومتی موقف کو سبوتاز کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا نے حرمین شریفین کی بندش کو بنیاد بنا کر جس انداز میں مساجد کو ٹارگٹ کیا اس سے میڈیا کی نیک نامی میں اضافہ نہیں ہوا۔اہل ِ پاکستان کو دوسرا سب سے بڑا نقصان سوشل میڈیا کے تجزیہ نگاروں نے پہنچایا ہے۔ ایک ہزار سے زائد ہلاکتوں کے باوجود سوشل میڈیا پر سوال کئے جا رہے ہیں آپ کے کسی قریبی عزیز یا دوست کو کورونا ہوا ہے اس کا نام لکھیں اس سے بڑی زیادتی کیا ہو گی، دُنیا بھر میں سوا تین لاکھ ہلاکتیں ہو گئی ہیں، پاکستان میں مرنے والوں کی تعداد ایک ہزار کو کراس کر گئی ہے، 50ہزار افراد کو کورونا ہونے کی تصدیق ہو گئی ہے، افسوس اس کے باوجود ہم عالمی وبا کو متنازعہ بنانے کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں۔

سندھ حکومت کی طرف سے علماء اکرام کے معاہدے ایس او پیز پر عمل درآمد کروانے کی یقین دہانی کروانے کے باوجود پورے صوبے کی مساجد اور مدارس کو دوپہر12بجے سے3بجے تک زبردستی بند کروانے اور جمعتہ المبارک کی نماز پر پابندی نے اہل ِ پاکستان کے دِل دُکھی کئے ہیں۔سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو بالعموم اور سندھ حکومت کو بالخصوص شیشہ دکھایا ہے، مگر سندھ حکومت کی طرف سے مخصوص فرقے کو جلوس کی اجازت دینے کے فیصلے نے ملک بھر کی ایک ماہ سے قید عوام اور تاجروں کو بغاوت پر اُکسایا ہے۔علماء اکرام مبارک باد کے مستحق ہیں ان کی برد باری نے رمضان کریم میں نمازوں کی ادائیگی اور نماز تراویح میں سختی سے ایس او پیز پر عملدرآمد کر کے اپنی نیک نامی میں اضافہ کیا ہے اب جبکہ رمضان کریم کل یا پرسوں الوداع ہو رہا ہے۔علماء اکرام کو بردباری اور استقامت کا دامن نہیں چھوڑنا ہو گا، آج جمعتہ الوداع اور نمازِ عیدکے اجتماعات کو حکومتی ایس او پیز کے مطابق کروا کر نئی تاریخ رقم کرنا ہو گی، کسی صوبے کی حکومت یا کسی فرد کے پروپیگنڈے کا حصہ بننے کی بجائے اَنا کا مسئلہ بنا کر جمعتہ الوداع اور نمازِ عید کے اجتماعات کے انعقاد کو اَنا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہئے۔ کورونا امریکہ کی سازش ہے یا چائنہ کی، بل گیٹس کی ہے یا کسی طاغوی قوت کی، ایک بات طے ہے کورونا حقیقت ہے، افسانہ نہیں۔ سو ممالک کی طرف سے کورونا کِٹس کی تحقیقات کروانے کا مطالبہ بھی غلط نہیں ہو گا، مگر ہمیں کورونا کی گزشتہ ایک ماہ کی تباہ کاریوں کو سامنے رکھنا ہو گا اور ڈھٹائی دکھانے کی بجائے زندگی کو کورونا کے ساتھ گزارنے کی عادت ڈالنا ہو گی، بات کرنی تھی رمضان کریم کی فیوض برکات سمیٹنے اور رمضان کریم الوداع ہونے کی وجہ سے پیدا ہونے والی اُداسی کی، مگر بات دوسری طرف نکل گئی۔

حرمین شریفین کی بندش کو عام معاملہ نہ لیا جائے یہ اُن سے پوچھا جائے جو سالہا سال سے رمضان کریم کا پورا مہینہ یا کم از کم آخری ایک یا دو عشرے حرمین شریفین میں گزارتے تھے، لاکھوں افراد حرم شریف اور مسجد ِ نبوی میں سرسجود ہوتے تھے اور ہزاروں افراد حرم شریف اور مسجد ِ نبوی میں اعتکاف کے مزے لیتے تھے۔حرمین شریفین کی بندش کا ان سے پوچھے جو استطاعت نہ ہونے کی وجہ سے حرمین شریفین نہیں جا سکتے،مگر پاکستان میں اپنے گھروں میں آٹھ بجے ہی ٹی وی کے آگے بیٹھ جاتے ہیں اور پھر نمازِ تراویح اور وتروں کی دُعا براہِ راست سنے بغیر ٹی وی کے آگے سے نہیں اُٹھتے تھے کورونا کی تباہ کاریاں وہ معیشت کے حوالے سے ہوں یا ٹورسٹ ممالک کے مستقبل کو مخدوش بنانے کے حوالے سے یا غریب ممالک کی آبادی کم کرنے کا منصوبہ ہو یا پوری دُنیا کو غلام بنانے کا آغاز آج کی نشست میں اس پر بات نہیں کرنی۔ کورونا سے کس طرح نمٹنا ہے، حکومت کو لائحہ عمل دینا چاہئے اور عوام کو جذباتی پن کا مظاہرہ کرنے کی بجائے حکومتی ایس او پیز پر عملدرآمد کو من و عن یقینی بنانا چاہئے۔ رمضان کریم کو الوداع کرتے ہوئے حرمین شریفین میں گزارے ہوئے لمحات کو تازہ کرنا ہے اور اللہ کی ناراضگی کی وجہ تلاش کرنا ہے،میرے دوست نے باپ بیٹے کی آپس میں سخت ناراضگی کی مثال دیتے ہوئے کہا ہے جب نافرمان بیٹا باپ کی بات نہیں مانتا اور مسلسل نافرمانی کرتا چلا جاتا ہے، تو باپ غصے میں آ کر بیٹھے کو غضب ناک دھمکی دے کر کہتا ہے تم راہِ راست پر نہ آئے تو مَیں تمہیں اپنے گھر سے نکال دوں گا، والد گھر سے اپنے لخت ِ جگر کو نکالنا نہیں چاہتا، مگر اس کی اصلاح اور پٹڑی پر چڑھانے کے لئے دِل پر پتھر رکھ کر ایسا کر گزرتا ہے۔حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے وہ اپنے بچے کو تنبیہہ کرنا چاہتا ہے خالی حرم شریف اور خالی مسجد ِ نبوی دیکھ کر پوری دُنیا کے عالم ِ اسلام کے لئے حرمین شریفین کے دروازے بند ہونے کو بھی یہی سمجھا جائے اللہ ہم سے ناراض ہو گیا ہے، جن کو نکالا ہے وہ کرب محسوس کر سکتا ہے۔دوست کہتا ہے وہ بیٹا جسے گھر سے نکالا گیا ہو وہ خود کفیل نہ ہو تو ساری فیملی کی ہمدردیاں اس کے ساتھ ہوتی ہیں، سارا خاندان بیٹے کی واپسی کے لئے اس کے باپ کو منانے میں لگ جاتا ہے افسوس ہماری دلجوئی کرنے والا بھی کوئی نہیں ہے۔

عشرہئ رحمت گزر گیا، عشرہئ مغفرت گزر گیا، دوزخ سے نجات کا عشرہ بھی الوداع ہو رہا ہے۔حرمین شریفین نہ کھل سکا، اُمت مسلمہ کی اضطراری کیفیت جاری ہے۔ آج رمضان کریم کی آخری طاق رات ہے ہمیں رخصت ہوتے رمضان کریم سے فائدہ اٹھانے کے لئے29ویں رات کو شب ِ قدر کی رات سمجھ کر اللہ کو راضی کرنا ہو گا تاکہ بندوں سے اس کی ناراضگی ختم ہو سکے اور دوبارہ حرمین شریفین کے ساتھ ساتھ مساجد کی رونقیں بحال ہوں، آخر میں رمضان کریم کے باقی دو دِنوں میں اتفاق کرنے والوں کو درخواست کرنی ہے کہ خیراتی ادارے سال بھر رمضان کا انتظار کرتے ہیں کہ زکوٰۃ کا مہینہ آئے گا تو دینی مدارس اور خدمت کرنے والے سماجی اداروں کی مدد ہو سکے گی،ایدھی، الخدمت فاؤنڈیشن پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے البتہ ہیلپ لائن، الغزالی فاؤنڈیشن، سندس فاؤنڈیشن پر نہیں لکھ سکا، تمام ادارے ہماری توجہ کے طالب ہیں آخری دو دِنوں میں ہمیں اپنے صدقات اور فطرانہ ان کو دے کر ان کی دلجوئی کرنا ہو گا۔

مزید :

رائے -کالم -