چینی سکینڈل،ترین،اومنی،شریف،عمر شہریار سمیت 6گروپ فراڈ میں ملوث،اب قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا،مافیا کیخلاف جنگ جاری رہے گی،کوئی کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو معافی نہیں ملے گی:عمران خان

چینی سکینڈل،ترین،اومنی،شریف،عمر شہریار سمیت 6گروپ فراڈ میں ملوث،اب قانون ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)حکومت چینی بحران پر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی تحقیقاتی رپورٹ کا فرانزک کرنے والے کمیشن کی حتمی رپورٹ منظر عام پر لے آئی جس کے تحت جہانگیر ترین، مونس الٰہی، اومنی گروپ اور عمرشہریار چینی بحران کے ذمے دار قرار دیے گئے ہیں۔فرانزک آڈٹ رپورٹ میں چینی سیکنڈل میں ملوث افراد کیخلاف فوجداری مقدمات درج کرنے اور ریکوری کرنیکی سفارش کی گئی ہے جبکہ رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ ریکوری کی رقم گنے کے متاثرہ کسانوں میں تقسیم کردی جائے۔اس حوالے سے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کہتے ہیں کمیشن نے چینی بحران کا ذمہ دار ریگولیٹرز کو قرار دیا ہے جن کی غفلت کے باعث بحران پیدا ہوا اور قیمت بڑھی، کمیشن نے کیسز نیب، ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن کو بھجوانے کی سفارش کی ہے، عید کے بعد وزیراعظم کی ہدایت پر سفارشات تیار ہوں گی۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ملکی تاریخ کا آج بہت اہم دن ہے، پہلے کسی حکومت کی اتنی ہمت نہیں تھی کہ ایسا کمیشن بنائے۔ شہزاد اکبر نے بتایا کہ وزیراعظم اور کابینہ نے انکوائری رپورٹ کو پبلک کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس تاریخ ساز دن پر ہمیں سراہنا چاہیے، ہم صحیح سمت میں بڑھ رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کمیشن نے چینی بحران کا ذمہ دار ریگولیٹرز کو قرار دیا ہے، جن کی غفلت کے باعث چینی بحران پیدا ہوا اور قیمت بڑھی، کمیشن نے کیسز نیب، وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) اور اینٹی کرپشن کو بھجوانے کی سفارش کی ہے جب کہ کابینہ نے ریکوری کرکے پیسے عوام کو دینے کی سفارش کی ہے اور وزیراعظم نے مجھے اس کی ذمہ داری سونپی ہے۔مشیر برائے احتساب کا کہنا تھا کہ عید کے بعد وزیراعظم کی ہدایت پر سفارشات تیار ہوں گی، ابھی کسی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) پر نہیں ڈالا گیا، کوئی تحقیقاتی ادارہ کہے گا تو کابینہ نام ای سی ایل میں ڈالنے پر غور کرے گی۔شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ انکوائری کمیٹی نے مفصل رپورٹ پیش کی ہے،رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ شوگرملز کسانوں کو امدادی قیمت سے کم قیمت دیتے ہیں اور کسانوں کو گنے کے وزن میں 15 فیصد سے زیادہ کٹوتی کی جاتی ہے،کچی پرچی اور کمیشن ایجنٹ کے ذریعے کم قیمت پر کسانوں سے گنا خریدا جاتا ہے اور اس کی لاگت زیادہ دکھائی جاتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ 2019 میں گنا 140 روپے سے بھی کم میں خریدا گیا اور شوگر ملیں 15 سے 30 فیصد تک مقدار کم کرکے کسانوں کو نقصان پہنچاتی رہیں جب کہ چینی کی قیمتوں میں 33 فیصد اضافہ ہوا، 2018-2017 میں شوگر ملز نے چینی کی فی کلو لاگت 51 روپے رکھی جب کہ اس عرصے میں فی کلو لاگت38 روپے تھی۔شہزاد اکبر نے بتایا کہ 2019-2018 میں اصل لاگت میں ساڑھے 12 روپے فی کلو کا فرق پایا گیاجب کہ 20-2019 میں چینی کی فی کلو لاگت میں 16 روپے کا فرق پایا گیا، کسانوں کے ساتھ مل مالکان اَن آفیشل بینکنگ بھی کرتے رہے ہیں۔مشیر برائے احتساب کا کہنا تھا کہ وزیراعظم ہمیشہ کہتے ہیں کاروبار کرنے والا سیاست میں بھی کاروبار کرے گا، وزیراعظم کی یہ بات سچ ثابت ہوگئی ہے،انہوں نے بتایا کہ چینی کی قیمت میں ایک روپیہ اضافہ کرکے 5.2 ارب روپے منافع کمایا جاتا ہے، پاکستان کی برآمد اور افغانستان کے درآمد ڈیٹا میں فرق آیا ہے،ایک ٹرک 15 سے 20 ٹن لے جاسکتا ہے،یہاں ایک ٹرک پر70 سے80 ٹن چینی افغانستان گئی۔ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف فیملی کی کمپنی میں ڈبل رپورٹنگ ثابت ہوئی، 2018۔2017 میں انہوں نے ایک اعشاریہ 3 ارب روپے اضافی کمائے جب کہ19۔2018 میں انہوں نے 78 کروڑ روپے اضافی کمائے، جب کہ جہانگیر ترین گروپ کی شوگر ملز ڈبل بلنگ اور اوور انوائسنگ میں ملوث نکلی ہیں اور کارپوریٹ فراڈ میں ملوث پائی گئی ہیں۔شہزاد اکبر نے کہا کہ خسرو بختیار کے بھائی کی شوگر مل ہے ان کی اپنی نہیں، خسرو بختیار کے بھائی کے پاس کوئی سیاسی عہدہ نہیں، خسرو بختیار کو عہدہ چھوڑنے کا نہیں کہ سکتے، جو براہ راست ملوث ہوگا اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ فرانزک آڈٹ میں شارٹ لسٹ کی گءِی ملز میں پہلی مل الائنس ہے جو 'آر وائی کے'گروپ کی ملکیت ہے، آر وائی کے گروپ میں مونس الٰہی کے 34 فیصد شیئرز ہیں۔شہزاداکبر نے کہا کہ وزیراعظم کا فیصلہ ہے کہ کمیشن کی رپورٹ من وعن عوام کے سامنے رکھی جائے، وزیر اعظم نے کہا ہے کہ 9 کے بعد اب باقی شوگز ملز کا بھی فرانزک ہوناچاہیے، وزیراعظم نے عید کے فوراً بعد سفارشات طلب کی ہیں اس کیلئے میری ذمہ داری لگائی گئی،آٹے کی مد میں تینوں رپورٹ پی آئی ڈی کی ویب سائٹس پر موجود ہیں، آٹا اور چینی کی مدد میں چوری پر کیسز بھی بن رہے ہیں۔شہزاد اکبر نے بتایا کہ سندھ حکومت نے 9.3 ارب روپے کی سبسڈی دی، کمیشن نے لکھ دیا ہے کہ اومنی گروپ کو فائدہ دینے کیلئے سبسڈی دی گئی، 20-2019 میں وفاق نے کوئی سبسڈی نہیں دی، 2018میں شاہد خاقان عباسی کے دور میں سبسڈی دی گئی۔شہزاد اکبر نے کہا کہ گزشتہ پانچ سال میں شوگر ملز کو 29 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ دواؤں والے معاملے میں انکوائری مجھے سونپی گئی تھی، انکوائری کررہا ہوں کہ کیا جن دواؤں کی اجازت دی گئی وہی درآمد کی گئیں۔اس موقع پر وزیر اطلات شبلی فراز کا کہنا تھا کہ حکومت کا منشور تبدیلی لانا اور مافیا کو بے نقاب کرنا ہے، غیر منتخب کابینہ ارکان بھی اپنے اثاثے ڈیکلیئر کریں گے، وزیراعظم نے غیر منتخب مشیران اور معاونین کے اثاثے بھی ظاہر کرنے کی ہدایت دی ہے۔اس سے قبل وفاقی کابینہ نے چینی بحران کے ذمہ داروں کے خلاف کیسز نیب اور ایف آئی اے کو بھجوانے کا فیصلہ کیا وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس ہوا جس میں چینی بحران پر تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ پیش کی گئی، اجلاس میں کابینہ نے شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ پبلک کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے رپورٹ میں ذمہ قرار دیے جانے والوں کے خلاف کیسز نیب اور ایف آئی اے کو بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے، اس کے علاوہ کابینہ نے مفادات کے ٹکراؤ کا قانون جلد نافذ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق کابینہ نے ٹیکس چوری میں ملوث شوگر ملز کے خلاف فوجداری مقدمات قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور آٹا بحران رپورٹ پر بھی مزید تحقیقات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔۔کمیشن کی رپورٹ میں ایس ای سی پی سمیت دیگر ریگولیٹرز کو بھی ذمہ دار قرار دیا گیا ہے، تحقیقاتی کمیشن نے 9 شوگر ملز کا آڈٹ کیا جبکہ مسابقتی کمیشن چینی کی قیمتیں ریگولیٹ کرنے میں ناکام رہا، شوگر ملز نے کسانوں کے ساتھ زیادتی کی اور نقصان پہنچایا، شوگر ملز نے کسانوں سے سپورٹ پرائس سے کم دام پر گنا خریدا، ملز نے کسانوں سے کچی پرچیوں پر گنا خریدا۔

چینی سکینڈل

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ کوئی چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، جرم کی معافی نہیں ملے گی۔ قانون اپنا راستا اختیار کرے گا۔ وزیراعظم عمران خان نے شوگر کمیشن کے سربراہ واجد ضیا کو شاباش دیتے ہوئے کہا ہے کہ آپ نے تحقیقات کے دوران بہترین کام کیا۔ وزیراعظم اور کابینہ اراکین نے کہا کہ پوری تحقیقاتی رپورٹ میں کوئی ابہام نہیں ہے۔وزیراعظم نے ایک بار پھر اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ مافیا کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے۔ ان مافیاز کے خلاف لمبی جدوجہد کی ہے، کسی صورت موقف سے یچھے نہیں ہٹوں گا۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ حکومت میں آکر پتا چلا کہ ملک مافیاز کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، جس طرف دیکھو مافیا سرگرم ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کوئی چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، اسے جرم کی معافی نہیں ملے گی۔ ملک کو بری طریقے سے لوٹا گیا ہے، مگر اب قانون اپنا راستا اختیار کرے گا۔عمران خان نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ پوری کابینہ کرپشن کے خلاف جنگ میں میرے ساتھ ہے، میں وہی کام کر رہا ہوں جو عوام کیلئے بہتر ہے۔وزیراعظم عمران خان نے بھارتی خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں دہرا رہا ہوں کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی سے دنیاکی توجہ ہٹانے کیلئے فالس فلیگ آپریشن کرے گا، 9 لاکھ بھارتی فوجی کشمیریوں پر مظالم ڈھارہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مودی سرکار مقبوضہ کشمیر میں جنگی جرائم کررہی ہے، بھارت مقبوضہ کشمیرمیں نسل کشی سے دنیا کی توجہ ہٹاناچاہتا ہے، میں دہرا رہا ہوں،بھارت توجہ ہٹانے کیلئے فالس فلیگ آپریشن کریگا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ قابض افواج نے گزشتہ روزسرینگرمیں 15گھروں کو جلادیا، 9 لاکھ بھارتی فوجی کشمیریوں پر مظالم ڈھارہے ہیں، مودی سرکار کی جانب سے کشمیرمیں آبادی کاتناسب بدلنے کی کوشش جنیواکنونشن کی خلاف ورزی ہے۔وزیر اعظم عمران خان سے سینئر ووزیر خوراک پنجاب عبدالعلیم خان نے اسلام آباد میں ملاقات کی جس میں اہم محکمانہ و دیگر امور پر تبادلہ خیال کیاگیا۔اجلاس میں وزیر اعظم نے عید الفطر کے بعدوفاقی سطح پر خوراک کے شعبے م میں نئی پالیسیاں لانے کے حوالے سے اجلاس بلانے کا عندیہ دیا جس کی وہ خود صدارت کریں گے۔عبدالعلیم خان نے وزیر اعظم عمران خان کو گندم کی خریداری کے موجودہ نظام اور اس میں مجوزہ تبدیلیوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔ عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ آٹے،چینی یا کسی بھی پراڈکٹ پر سبسڈ ی کا طریقہ کار تبدیل ہونا چاہیے اور سبسڈی کا فائدہ ملز یا اداروں کی بجائے بلاواسطہ عوام کو ہونا چاہیے جس میں متوسط طبقے کی ضروریات کو اولین ترجیح دی جا سکے۔ سینئر وزیر پنجاب عبدالعلیم خان نے وزیر اعظم عمران خان کو پنجاب میں گندم کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف کی گئی کاروائیوں کے بارے میں بتایا۔وزیر اعظم عمران خان نے پنجاب میں گندم کی ریکارڈ خرید پر اطمینان اور مسرت کا اظہار کیا اور سینئر وزیر عبدالعلیم خان کی کارکردگی کو اس حوالے سے خصوصی طور پر سراہا۔ ملاقات میں بعض اہم سیاسی اور محکمانہ امور پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی۔وزیرِ اعظم عمرا ن خان نے کہاہے کہ غیر ضروری اخراجات میں کمی کے لئے ادارہ جاتی اصلاحات کا عمل تیز کیا جائے،کورونا کے پیش نظر صوبے کی معاشی صورتحال سے عوام کو مکمل طور پر باخبر رکھا جائے، مشکل حالات کے باوجود ہر ممکنہ کوشش کی جائے کہ ترقیاتی اخراجات کم سے کم متاثر ہوں اسی طرح آئندہ بجٹ میں ترقیاتی اخراجات کے حوالے سے آؤٹ آف باکس سلوشن پر توجہ دی جائے، انضمام شدہ علاقوں کی ترقی موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے، حکومت اس مقصد کے حصول کے لئے تمام مطلوبہ وسائل فراہم کرنے کے لئے پرعزم ہے۔ جمعرات کو وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت صوبہ خیبرپختونخوا کے ترقیاتی امور، آئندہ بجٹ کے حوالے سے اصلاحات، کورونا وائرس کے تناظر میں صوبائی معاشی صورتحال خصوصا صوبائی آمدن و اخراجات، وسائل کے حوالے سے درپیش مسائل پر قابو پانے کے لئے مستقبل کے لائحہ کے حوالے سے اعلی سطحی اجلاس ہوا جس میں رشکئی خصوصی اقتصادی زون کے قیام میں پیش رفت، سوات موٹروے فیز ٹو منصوبے پر عمل درآمد اور توانائی کی پیداوار کے حوالے سے صوبے کی استعداد اور مستقبل کے منصوبوں پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ اجلاس میں وزیر توانائی عمر ایوب خان، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، چیئرمین سی پیک لیفٹیننٹ جنرل (ر)عاصم سلیم باجوہ جبکہ صوبائی حکومت کی جانب سے وزیرِ اعلی خیبر پختونخواہ محمود خان، صوبائی وزیرِ خزانہ تیمور سلیم خان جھگڑا، چیف سیکرٹری خیبرپختونخواہ ڈاکٹر کاظم نیاز و دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔اس دوران صوبائی وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ کورونا وائرس کی وبا کے باعث صوبے کی آمدن و اخراجات میں توازن متاثر ہواہے لہذا آئندہ بجٹ میں اس خسارے پر قابو پانے کے لئے وفاقی حکومت کی معاونت درکار ہوگی تاکہ ترقیاتی عمل میں کسی قسم کا تعطل نہ آئے۔ وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غیر ضروری اخراجات میں کمی کے لئے ادارہ جاتی اصلاحات کا عمل تیز کیا جائے۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ کورونا کے پیش نظر صوبے کی معاشی صورتحال سے عوام کو مکمل طور پر باخبر رکھا جائے۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ مشکل حالات کے باوجود ہر ممکنہ کوشش کی جائے کہ ترقیاتی اخراجات کم سے کم متاثر ہوں اسی طرح آئندہ بجٹ میں ترقیاتی اخراجات کے حوالے سے آؤٹ آف باکس سلوشن پر توجہ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے فروغ پر بھرپور توجہ دی جائے تاکہ جہاں ایک طرف ترقیاتی ضروریات پوری کی جا سکیں وہاں ترقیاتی عمل میں نجی شعبے کے کردار کو بڑھا کر حکومتی بوجھ میں کمی لائی جا سکے۔ توانائی سے متعلقہ معاملات پر غور کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ حل طلب معاملات خصوصا توانائی کے ضمن میں صوبے کی استعداد کو برے کار لانے کے حوالے سے مستقبل کے لائحہ عمل کو وزارتِ توانائی کی مشاورت سے مرتب کیا جائے۔ اجلاس میں رشکئی خصوصی اقتصادی زون کے قیام میں پیش رفت کا جائزہ بھی لیاگیا اور سوات موٹر وے فیز ٹو منصوبے اور مختلف دیگر ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد خصوصا ان منصوبوں کو پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت جلد از جلد تکمیل کے لئے مختلف سفارشات وزیر اعظم کو پیش کی گئیں۔ اجلاس میں انضمام شدہ علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ انضمام شدہ علاقوں کی ترقی موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے انہوں نے کہا کہ حکومت اس مقصد کے حصول کے لئے تمام مطلوبہ وسائل فراہم کرنے کے لئے پرعزم ہے۔

وزیر اعظم

مزید :

صفحہ اول -