مسئلہ قدس، عالم اسلام کا مشترکہ مسئلہ

مسئلہ قدس، عالم اسلام کا مشترکہ مسئلہ

  

1۔ مسئلہ قدس - مسلمانوں کا قبلہ اول - اور فلسطین، صرف فلسطینیوں تک محدود نہیں، بالکل اسی طرح جیسے کعبہ ا ور جنت البقیع صرف سعودی عرب تک محدود نہیں اور ان کا تعلق تمام عالم اسلام سے ہے۔ لہٰذا، اس سرزمین کو ایک یہودی سرزمین میں بدلنے کا اقدام غلبے کی خواہش رکھنے والی سوچ کا حامل اور قوم پرستی بر مبنی ہے۔

2- ” ڈیل آف دی سنچری “ جو کہ امریکا کی طرف سے پیش کیا گیا ایک منصوبہ ہے جس کا جعلی نام ” امن برای خوشحالی “ ہے، تمام بین الاقوامی قوانین کے بر خلاف ہے۔ یہ ڈیل فلسطین کو صیہونیت کے ہاتھوں بیچنے کی طرح ہے۔ عرب لیگ، اسلامی کانفرنس کی تنظیم (او آئی سی)، افریقی اتحاد اور تمام فلسطینی تحریکیں اس کی مخالف ہیں۔

3- فلسطین کے مسئلہ کا حل صرف ” فلسطین میں ریفرینڈم کروانے کے منصوبے “ کی بنیاد پر ممکن ہے جو کہ آیت اللہ العظمی خامنہ ای کی طرف سے پیش کیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ گذشتہ سال اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں رجسٹرڈکروایا گیا اور نوٹس میں لایا گیا۔ اس کے مطابق مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں جن کی اصلیت فلسطینی ہے وہ اپنا نظام حکومت خود منتخب کریں گے۔

4- شہید قاسم سلیمانی جو کہ مزاحمت کے محاذ اور قدس شریف کے بڑے کمانڈر تھے وہ دہشت گرد امریکا، اسرائیل اور انکے علاقائی شریک کاروں کے ذریعے مرتبہ شہادت پر فائز ہوئے۔ امریکی صدر ٹرمپ ان کو اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتا تھا اور اس نے مزاحمت کی تحریک کو کمزور کرنے کی کوشش کی جس میں وہ ہرگز کامیاب نہیں ہوگا۔

5- غلبے کی خواہش کے حامل نظام نے مزاحمت کی مرکزیت والے ممالک کی حکمرانیوں جن میں شام، لبنان، عراق اور یمن شامل ہیں کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے لیکن ابھی تک اس کے ہاتھ ادنی سی کامیابی لگی ہے۔

6- عرب ممالک کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا جو کہ امریکا کے اتحادمیں شامل ہونے کی شکل میں ہے وہ ہو رہاہے۔ یہ ممالک سوچتے ہیں کہ امریکا اور اسی سبب سے اسرائیل ایسے شریک کار ہیں جو کہ ان کے لیے سیاسی اور معاشی استحکام اور امن و امان لاسکتے ہیں۔

7- قدس پر قابض رجیم نے صابرہ، شتیلہ، عین الحوہ، سحمر وغیرہ کے کیمپوں میں قتل و غارت کرکے تقریباً 130 منظم قتل عام کو جنگی جرائم کے طور پر انجام دیا ہے۔ یہ بین الاقوامی امن و سلامتی کی خلاف ورزی کرنیوالی رجیم ہے۔

8- اسرائیل ہمیشہ فلسطینی بچوں، خواتین اور قیدیوں کے حقوق سمیت انسانی حقوق کی کھلی اور سیسٹمیٹک خلاف ورزی کرنیوالا ملک ہے۔

9- یہ مجرم رجیم خدا کے وعدوں کی بنیاد پرشکست سے دوچار ہوگی۔ امت اسلامیہ کو چاہیے کہ ماضی کے مقابلے میں زیادہ متحد ہوں اور قدس جو کہ تمام ادیان سے تعلق رکھتا ہے کو اسرائیل کی قوم پرست رجیم کے چنگل سے آزاد کروائیں۔

10- اس سال روز قدس، سات لاکھ فلسطینیوں کو زبردستی انکے گھروں سے بے دخل کرنے اور لاچارگی کی یاد والے دن کے ساتھ بیک وقت آرہا ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -