فضائل جمعتہ الوداع

فضائل جمعتہ الوداع

  

علامہ محمد الیاس عطار قادری

جمعہ کی ایک نیکی ستر کے برابر ہوتی ہے اسی لئے جمعہ کا حج”حج اکبر“ کہلاتا ہے اور اس کا ثواب ستر حج کا۔کنزالعمال کی دو حدیثیں ہیں ”الجمعۃ حج المساکین“ ”الجمعۃ حج الفقراء“۔ رمضان المبارک کے آخری جمعہ میں بعض لوگ باجماعت قضائے عمری پڑھتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ عمر بھر کی قضائیں اسی ایک نماز سے ادا ہو گئیں یہ باطل محض ہے، (المواھب الدنیا ج 7س10)

مفسر شہیر حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان علیہ رحمتہ الحنان فرماتے ہیں، جمعتہ الوداع کے ظہر و عصر کے درمیان بارہ رکعت نفل دو دو رکعت کی نیت سے پڑھے اور ہر رکعت میں سورت الفاتحہ کے بعد ایک بار آیت الکرسی اور تین بار ”سورت اخلاص“ اور ایک بار ”سورت الفلق“اور ”سورت الناس“ پڑھے۔اس کا فائدہ یہ ہے کہ جس قدر نمازیں اس نے قضا کر کے پڑھی ہوں گی۔ ان کے قضاء کرنے کا گناہ اِن شا اللہ عزوجل معاف ہو جائے گا یہ نہیں کہ قضا نمازیں اس سے معاف ہو جائیں گی وہ تو پڑھنے سے ہی ادا ہوں گی۔(اسلامی زندگی ص 105)

بخاری ومسلم کی حدیث پاک ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا’“ترجمہ: ہم دنیا میں پیچھے ہیں قیامت کے دن آگے ہوں گے،بجز اس کے کہ انہیں کتاب ہم سے پہلے دی گئی اور ہمیں ان کے بعد۔ پھر یہ یعنی جمعہ کا ان کا دن بھی تھا جو ان پر فرض کیا گیا تھا وہ اس میں اختلاف کر بیٹھے۔ ہمیں اللہ نے اس کی ہدایت دے دی۔اس میں لوگ ہمارے تابع ہیں یہودی کل ہیں عیسائی پرسوں۔ (صحیح بخاری،کتاب الجمعۃ،باب فرض الجمعۃ،جلد2،صفحہ2،دار طوق النجاۃ)

یعنی ہفتہ کا دن جمعہ ہمیں ملا اور دوسرا دن یعنی شنبہ یہودیوں کو اور تیسرا دن اتوار یہ عیسائیوں کو جیسے ہمارا دن ان کے دنوں سے پہلے ہے ایسے ہی ہم بھی ان پر مقدم اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہفتہ جمعہ سے شروع ہوتا ہے اور پنج شنبہ پر ختم۔(مرأۃ المناجیح)

مسلم شریف کی حدیث پاک حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ”‘ترجمہ:بہترین وہ دن جس میں سورج نکلے وہ جمعہ کا دن ہے اسی میں حضرت آدم پیدا ہوئے اسی دن جنت میں گئے اسی دن وہاں سے بھیجے گئے اور قیامت بھی جمعہ کے دن ہی ہوگی۔ (صحیح مسلم،کتاب الجمعۃ،باب فضل یوم الجمعۃ،جلد2،صفحہ 585،دار إحیاء التراث العربی، بیروت)

ابوداؤد،ترمذی وغیرہ کی دوسری روایت میں ہے کہ اسی میں ان کی توبہ قبول ہوئی اسی میں وفات پائی اسی میں قیامت قائم ہوگی۔

ترمذی شریف کی حدیث پاک حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمعہ کے متعلق فرمایا’ترجمہ: جمعہ سے بہتر کسی دن پر آفتاب طلوع نہیں ہوا۔اس میں ایک ایسی ساعت ہے جسے کوئی مومن اللہ سے دعا ئے خیر کرتے ہوئے نہیں پاتا مگر اللہ اسے قبول کرتا ہے اور کسی چیز سے پانہ نہیں مانگتا مگر اللہ اسے پناہ دیتا ہے۔ (جامع ترمذی،ابواب تفسیر القرآن،باب ومن سورۃ البروج، جلد5، صفحہ 436،مصطفی البابی الحلبی،مصر)

ترمذی شریف کی حدیث پاک ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ایک یہودی آیا اوروہ بولا اگر یہ آیت ہم پر اترتی تو ہم اسے عید بنالیتے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اس کے جواب میں فرمایا ”فَإِنَّہَا نَزَلَتْ فِی یَوْمِ عِیدَیْنِ فِی یَوْمِ جُمُعَۃٍ، وَیَوْمِ عَرَفَۃَ“ یہ آیت دو عیدوں کے دن میں اتری یعنی جمعہ اور عرفہ کے دن۔ (جامع ترمذی،ابواب تفسیر القرآن،باب ومن سورۃ المائدۃ،جلد5،صفحہ250،مصطفی البابی الحلبی،مصر)

ترجمہ: بعض شافعیہ سے مروی ہے کہ سب سے افضل رات وہ جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیداہوئے، پھر اس کے بعدلیلۃ القدر ہے، پھر معراج کی رات افضل ہے، پھر عرفہ کی رات،پھر جمعہ کی رات، پھر پندرہویں شعبان کی رات اور پھر عید کی رات افضل ہے۔ (ردالمحتار، کتاب الحج، جلد2، صفحہ511، دارالفکر، بیروت)

سنن ابن ماجہ کی حدیث پاک حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا”الْجُمُعَۃُ إِلَی الْجُمُعَۃِ کَفَّارَۃُ مَا بَیْنَہُمَا مَا لَمْ تُغْشَ الْکَبَاءِرُ“۔ (سنن ابن ماجہ،کتاب اقامۃ الصلوٰۃ،باب فی فضل الجمعۃ، جلد1، صفحہ 345، دار إحیاء الکتب العربیۃ)

حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ”من صلی الجمعۃ کتبت لہ حجۃ متقبلۃ فإن صلی العصر کانت لہ عمرۃ فإن یمسی فی مکانہ لم یسأل اللہ شیئا إلا أعطاہ إیاہ“ ترجمہ: جو جمعہ پڑھے اس کے لئے ایک مقبول حج کا ثواب ہے اور جو عصر پڑھے اس کے لئے عمرے کا ثواب ہے، اس میں ایک گھڑی ہے کہ جس میں رب تعالیٰ سے سوال کیا جائے تو عطا کیا جاتا ہے۔ (کنز العمال،الاکمال،فی فضائلہا والترغیب فیہا)، جلد7، صفحہ 1233، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت)

ابوداؤد نسائی، ابن ماجہ، دارمی بہیقی کی حدیث پاک حضرت اوس ابن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ تمہارے بہترین دنوں میں سے جمعہ کا دن ہے، اس میں حضرت آدم علیہ پیدا ہوئے اور اسی میں وفات دیئے گئے اور اسی میں صور پھونکنا ہے اور اسی میں بے ہوشی ہے ”فَأَکْثِرُوا عَلَیَّ مِنَ الصَّلَاۃِ فِیہِ، فَإِنَّ صَلَاتَکُمْ مَعْرُوضَۃٌ عَلَیَّ“ لہٰذا اس دن میں مجھ پر درود زیادہ پڑھو کیونکہ تمہارے درود مجھ پر پیش ہوتے ہیں۔ لوگ بولے، یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درود آپ پر کیسے پیش ہوں گے، آپ تو رمیم ہوچکے ہوں گے۔ (یعنی گلی ہڈی) فرمایا ”إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ عَلَی الْأَرْضِ أَجْسَادَ الْأَنْبِیَاءِ“ ترجمہ: اللہ نے زمین پر انبیاء کے جسم حرام کردیئے۔ (سنن أبی داؤد، باب فضل یوم الجمعۃ ولیلۃ الجمعۃ، جلد1، صفحہ 275، المکتبۃ العصریۃ، بیروت)

حافظ قرآن، شہید، عالم، مؤذن کا جسم بھی سلامت ہیں۔ مفتی فاروق عطاری رحمۃ اللہ علیہ کا جسم بھی سلامت رہا‘ ان کے عقیدے پر رہیں۔

ترمذی شریف کی حدیث پاک حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ”مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَمُوتُ یَوْمَ الجُمُعَۃِ أَوْ لَیْلَۃَ الجُمُعَۃِ إِلَّا وَقَاہُ اللَّہُ فِتْنَۃَ القَبْرِ“ ایسا کوئی مسلمان نہیں کہ جو جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات فوت ہو مگر اسے اللہ عذاب قبر سے محفوظ رکھتا ہے۔ (جامع ترمذی، ابواب الجنائز، باب ماجاء فیمن مات یوم الجمعۃ، جلد3، صفحہ378، مصطفی البابی الحلبی، مصر)

ابن جریح نے عطا سے مرفوعاً روایت کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں جو مسلمان جمعہ کے دن یا رات میں وفات پائے وہ عذاب قبر اور فتنہ قبر سے محفوظ رہیگا۔ رب تعالیٰ سے اس طرح ملے گا کہ اس کے ذمہ کوئی حساب نہ ہوگا اور قیامت میں ایسے آئیگا کہ اس کے ساتھ گواہ ہوں گے اور اس کے چہرے پر نورانی مہر ہو گی۔ (مرقاۃ ولمعات واشعتہ)

کنزالعمال کی حدیث پاک حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ”إِنَّ لِلَّہِ کُلَّ یَوْمِ جُمُعَۃٍ سِتَّ مِاءَۃِ أَلْفِ عَتِیقٍ یَعْتِقُہُمْ مِنَ النَّارِ کُلُّہُمْ قَدِ اسْتَوْجَبَ النَّارَ“ ہرجمہ چھ لاکھ جہنمیوں کی رہائی جن پر جہنم واجب ہے۔ (کنزالعمال، الفصل الأول، فی فضائلہا والترغیب فیہا، جلد7، صفحہ 1216، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت)

مزید :

ایڈیشن 1 -