پیپلز پارٹی نے چینی بحران انکوائری رپورٹ گمراہ کن قرار دیدی

  پیپلز پارٹی نے چینی بحران انکوائری رپورٹ گمراہ کن قرار دیدی

  

کراچی (آئی این پی)پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)نے حکومت کی جانب سے جاری کردہ چینی بحران انکوائری رپورٹ کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں کسی کو بچانے کی کوشش کی گئی ہے، آخری مرتبہ سندھ حکومت نے دسمبر 2017 میں شوگر ملز کو سبسڈی دی تھی، انکوائری کمیشن کو 2019 اور 2020 کے حوالے سے تحقیق کرنا تھی۔ جمعرات کو چینی بحران انکوائری رپورٹ آنے کے بعد نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سندھ حکومت کے ترجمان بیرسٹر مرتضی وہاب کا کہنا تھا کہ کمیشن کی جس رپورٹ کا شہزاد اکبر نے بتایا جھوٹ پر مبنی ہے۔انہوں نے کہا کہ آخری مرتبہ سندھ حکومت نے دسمبر 2017 میں شوگر ملز کو سبسڈی دی تھی۔مرتضی وہاب کا کہنا تھا کہ انکوائری کمیشن کو 2019 اور 2020 کے حوالے سے تحقیق کرنا تھی۔انہوں نے کہا کہ 2017 یا 18 سے متعلق تحقیقات تو ٹی او آرز میں نہیں تھی یہ شاید لوگوں کو بچانے کی کوشش ہے۔مرتضی وہاب کا کہنا تھا کہ اگر انکوائری کا مقصد سیاسی مخالفین کو پن پوائنٹ کرنا ہے تو ہمارا اعتراض ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کو وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری فوبیا ہوچکا ہے۔مرتضی وہاب نے کہا کہ جان بوجھ کر انکوائری کا دائرہ کار بڑھایا جارہا ہے تاکہ ذمہ داروں کی نشاندہی نہ ہو۔ان کا کہنا تھا کہ چینی کی ایکسپورٹ کرنے کی اجازت سندھ حکومت نے نہیں بلکہ وفاقی حکومت نے دی تھی۔انہوں نے کہا کہ جس شخص نے مال کمایا ہے، ہتھکڑی لگادیں لیکن بتائیں تو کس نے ایکسپورٹ کی اجازت دی اور کس نے سبسڈی دی؟۔مرتضی وہاب کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ تمام فیصلے ان کے کہنے پر کیے گئے جنہوں نے فائدہ اٹھایا ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

پیپلز پارٹی

مزید :

صفحہ اول -