سندھ حکومت ارسا ممبران کو ہٹائے جانے کے خلاف بھرپور احتجاج کرتی ہے:ناصر حسین شاہ

سندھ حکومت ارسا ممبران کو ہٹائے جانے کے خلاف بھرپور احتجاج کرتی ہے:ناصر حسین ...

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)صوبائی وزیر اطلاعات، بلدیات، جنگلات وجنگلی حیات و مذہبی امور سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ سندھ حکومت ارسا ممبران کو خلاف قانون ہٹائے جانے کے خلاف بھر پور احتجاج کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اس سلسلہ میں وزیر اعظم کو خط لکھنے کا فیصلہ کر چکی ہے اور یہ خط آئندہ 48گھنٹے میں ارسال کردیا جائے گا۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت کو ایسے غیر آئینی قدم کی کسی بھی طرح اجازت نہیں دی جاسکتی۔ صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ارسا ممبران کو ہٹانے سے پہلے صوبوں سے مشاورت کرنا لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ارسا کا معاملہ چھیڑ کر آئین پر عمل نہ کرنے کا پیغام دیا گیا ہے۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ احتجاجی مراسلہ وزیر اعلی سندھ کی جانب سے لکھ جائے گا۔ وزیر اطلاعات سندھ نے کہا کہ ارسا میں ایک طویل عرصہ سے سندھ کے نمائندے موجود تھے اور انہیں کس قانون کے تحت ہٹایا گیا انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف ہمیشہ قانون کی حکمرانی کی بات کرتی تھی لیکن جب سے یہ اقتدار میں آ ئے ہیں ان کا ایک ایک قدم اس بات کی نفی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ سندھ کے لئے بڑا اہم ہے۔ وفاقی کابینہ نے اس معاملہ میں قانون کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت کا یہ فیصلہ مکمل طور پر قانون اور آئین کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ارسا ایکٹ 1992اس معاملے میں واضح طور پر کہتا ہے کہ اگر وفاقی حکومت کسی نمائندہ کو بدلنا چاہے تو صوبہ سے مشاورت لازمی ہے۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت کا یہ اقدام ارسا ایکٹ 1992 کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اسی وجہ سے سندھ حکومت نے اس معاملے میں وزیر اعظم کو احتجاجی مراسلہ لکھنے کا فیصلہ کیا ہے اوروفاق کو سندھ کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دہ جائے گی اور اگر اس معاملے میں عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹانا پڑا تو اس سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔

مزید :

صفحہ اول -