ہمیں مثبت ذہن کے ساتھ حقائق پر اپنی توجہ مرکوز رکھنی چاہیے: یاسر پیرزادہ

ہمیں مثبت ذہن کے ساتھ حقائق پر اپنی توجہ مرکوز رکھنی چاہیے: یاسر پیرزادہ
ہمیں مثبت ذہن کے ساتھ حقائق پر اپنی توجہ مرکوز رکھنی چاہیے: یاسر پیرزادہ

  

ریاض (وقار نسیم وامق) سعودی عرب میں پاکستان تھنکرز فورم اور پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے آن لائن کانفرنس منعقد کی گئی جس کے شرکاء سے معروف کالم نویس یاسر پیرزادہ نے "سازشی نظریات اور ہم" کے عنوان پر اظہار خیال کیا.

سعودی دارالحکومت ریاض میں منعقد ہونے والی آن لائن کانفرنس میں معروف کالم نویس یاسر پیرزادہ نے کہا کہ محض پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں مختلف رونما ہونے والے واقعات پر نا صرف سازشوں کو ڈھونڈنے کی کوشش کی جاتی ہے بلکہ واقعات پر ایسا ابہام پیدا کر دیا جاتا ہے کہ جس سے حقیقت چھپ جاتی ہے اور لوگ سازشوں اور ابہام کے پیچھے ہی چل پڑتے ہیں. 

ایک سوال کے جواب میں یاسر پیرزادہ نے کہا کہ ہمارے تعلیمی ادارے محض عمارتیں ہیں جن میں تعلیم کی کتابیں تو پڑھائی جاتی ہیں مگر ذہنی کردار سازی نہیں کی جاتی، ہمارے نظام تعلیم میں بدقسمتی سے بہت سے سقم باقی ہیں جن کو دور کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ ہمارے طلباء کو جو تعلیم دی جا رہی ہے اس میں واقعات کو اصلی حالت میں بیان نہیں کیا جاتا جس کی وجہ سے طلباء جب حقیقت سے روشناس ہوتے ہیں تو اس سے بھی معاملات میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے اور ہر جانب ہمیں سازش ہونے کا خوف رہتا ہے تاہم ضروری ہے کہ ہم مثبت ذہن کے ساتھ حقائق پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں اور ابہام اور سازشوں کی جانب توجہ نا دیں. 

آن لائن سیشن سے تھنکرز فورم اور پیپلز پارٹی کے عہدیداروں محمد خالد رانا، احسن عباسی، فرح احسن، وسیم ساجد اور دیگر نے بھی اظہار خیال کیا اور کہا کہ پاکستان میں مثبت سوچ کے فروغ کے لئے ضروری ہے کہ ایسے تمام افراد سے استفاده حاصل کیا جائے جو بہتر طور پر ہماری رہنمائی کر سکتے ہیں. 

مزید :

عرب دنیا -تارکین پاکستان -