لاک ڈاؤن کے دوران بچوں نےقیمتی خزانہ ڈھونڈ لیا

لاک ڈاؤن کے دوران بچوں نےقیمتی خزانہ ڈھونڈ لیا
لاک ڈاؤن کے دوران بچوں نےقیمتی خزانہ ڈھونڈ لیا

  

پیرس(ڈیلی پاکستان آن لائن)لاک ڈاون سے یوں تو ہرشخص بے زار نظر آتا ہے تاہم یہی لاک ڈاون گھر میں پھنسے لوگوں کیلیے انتہائی خوشی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ 

ایسا ہی ایک دلچسپ واقعہ فرانس میں پیش آیا ہے جہاں لاک ڈاون ایک گھرانے کیلئے قیمتی خزانے کی نوید لے آیا۔ بی بی سی کے مطابق  شمال مغربی فرانس میں دو بچوں کے لیے یہ یقیناً بہت ہی زیادہ خوش قسمت ثابت ہوا۔ انھوں نے اپنے دادا دادی کے کمرے میں چھپا ہوا خزانہ ڈھونڈ لیا۔

اپنی ایک کھیلنے کی جگہ بنانے کے لیے انھوں نے اپنے باپ سے پوچھا کہ وہ کیا کچھ استعمال کر سکتے ہیں۔

ان کے باپ نے کہا کہ وہ اپنے دادا کے کمرے سے شیٹس لے سکتے ہیں جو اب استعمال نہیں ہوتا۔

نیلام گھر کے اہلکار فلیپی راؤلیک نے فرانسیسی ٹی وی چینل بی ایف ایم کو بتایا کہ جب وہ شیٹس نکال رہے تھے تو سپرنگس آف لیوینڈرکے بجائے، جو لوگ اکثر نیچے رکھتے تھے، دو بہت وزنی چیزیں نکل کر زمین پر گر گیئں۔‘

بچوں نے فوراً وہ اشیا واپس اسی جگہ رکھ دیں، لیکن چند گھنٹوں کے بعد انھوں نے اپنی دریافت کے متعلق اپنے والد کو بتایا۔ ان کے والد نے ان سے کہا کہ وہ چیز لے کر آئیں، لیکن پہلے انھیں بھی لگا کہ وہ شاید چھری رکھنے کے ہولڈر ہیں۔

بعد میں انھوں نے جب ایک نیلام گھر سے اس کا تخمینہ لگانے کا کہا تو انھیں معلوم ہوا کہ وہ سونے کی اینٹیں ہیں اور ہر اینٹ کا وزن ایک کلو گرام ہے۔ ہر اینٹ کی مالیت 45 ہزار پاؤنڈ بتائی جاتی ہے۔ اگر دونوں اینٹیں کی مالیت کااندازہ لگایا جائے تو وہ نوے ہزار پاونڈ یعنی ایک  کروڑ77لاکھ 67 ہزار198 پاکستانی روپے بنتی ہے۔

نیلام گھر کے ترجمان نے ہنستے ہوئے بتایا کہ بچوں نے اپنے والد سے کہا ’اب ہم سوئمنگ پول بنانے کے قابل ہو جائیں گے۔‘

مزید :

ڈیلی بائیٹس -بین الاقوامی -کورونا وائرس -