جہاز کی نیچے گرنے سے قبل حالت کیا تھی، عینی شاہدین نے کیا منظر دیکھا ؟ تفصیلات سامنے آ گئیں

جہاز کی نیچے گرنے سے قبل حالت کیا تھی، عینی شاہدین نے کیا منظر دیکھا ؟ ...
جہاز کی نیچے گرنے سے قبل حالت کیا تھی، عینی شاہدین نے کیا منظر دیکھا ؟ تفصیلات سامنے آ گئیں

  

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن )کراچی کی ماڈل کالونی میں پی آئی اے کا طیارہ گر کر تباہ ہو گیاہے جس میں بتایا جارہاہے کہ 98 افراد سوار تھے تاہم عینی شاہدین نے طیارہ کے گرنے سے قبل کی صورتحال بیان کر دی ہے ۔

نجی ٹی وی جیونیوز کے مطابق جب عینی شاہدین سے بات چیت کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ طیارے کے ایک انجن میں آ گ لگی ہوئی تھی اور دھواں نکل رہا تھا ، اتنی دیر میں ایک زور دار دھماکے کی آواز آئی ،جس کے بعد وہ اچانک ہی نیچے گر گیا ۔کراچی کی ماڈل کالونی میں گر کر تباہ ہونے والا بد قسمت طیارہ کیپٹن سجاد گل اور فرسٹ آفیسری عثمان اعظم اڑا رہے تھے جو کہ لینڈنگ سے عین چند لمحے قبل حاد ثے کا شکار ہو گیا ۔ ان کے علاوہ عملے میں فرید احمد چوہدری ، عبدالقیوم ، ملک عرفان ، مدیحہ ارم ، آسماءشہزادی شامل ہیں ۔ پی آئی اے کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیاہے کہ پی کے 8303 فلائٹ لاہور سے کراچی آ رہی تھی حادثے کا شکار ہو گئی ۔

پی آئی اے کا طیارہ لاہور سے کراچی آ رہا تھا جس میں 160 مسافروں کی گنجائش ہے تاہم کورونا وائرس کے پیش نظر اس میں سماجی فاصلے کے تحت صرف 91 مسافروں کو سوار کیا گیا تھا جبکہ ان کے علاوہ 7 عملے کے اراکین اور دو پائلٹ شامل تھے ۔

پی آئی اے کا طیارہ جب کراچی پہنچا اور لینڈنگ کی تیاری کرنے لگا تو پائلٹ نے کنٹرول ٹاور سے رابطہ کرتے ہوئے بتایا کہ جہاز کے لینڈنگ گیئر نہیں کھل رہے ہیں جس پر پائلٹ کو مزید ایک اور چکر لگانے کی ہدایت گی گئی تاہم جس وقت طیارہ ایک اور چکر لگانے کے بعد واپس لینڈنگ کرنے لگا تو این چند لمحے قبل یہ گھروں سے ٹکرا گیا اور گر کر تباہ ہو گیا ۔

جہاز کے گرنے کے باعث نیچے مکانوں کو شدید نقصان پہنچا ہے جہاں ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے ، جہاز کے ٹکرانے کے باعث نیچے کھڑی گاڑیوں میں بھی آگ بھڑک اٹھی ہے تاہم ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیاہے ۔

مزید :

قومی -