فلسطینی عوام پر اسرائیلی جارحیت کا تدارک ، پاکستان نے کیا کردار ادا کیا ؟فواد چوہدری نے ہر چیز کھل کر بتا دی

فلسطینی عوام پر اسرائیلی جارحیت کا تدارک ، پاکستان نے کیا کردار ادا کیا ...
فلسطینی عوام پر اسرائیلی جارحیت کا تدارک ، پاکستان نے کیا کردار ادا کیا ؟فواد چوہدری نے ہر چیز کھل کر بتا دی

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان نے معصوم اور نہتے فلسطینی عوام پراسرائیلی جارحیت کےتدارک کےلئےاہم کردار ادا کیا جنہوں نے دو ہفتوں سےبہادری کےساتھ اسرائیلی قابض فوج کی بلا اشتعال بمباری اور گولہ باری کا مسلسل سامنا کیا، پاکستان نے اپنے داخلی اور بین الاقوامی امور میں کبھی کسی ملک سے ڈکٹیشن نہیں لی،بھارت کے ساتھ مذاکرات اور تجارت کےلئے تیار ہیں لیکن اسے 5 اگست 2019ء کی پوزیشن پر واپس آنا ہوگا۔

 غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں پاکستان نے موثر انداز میں ایک مضبوط موقف اختیار کیا، دوست ممالک کی حمایت حاصل کی اور فلسطینیوں کی حالت زار پر امہ کے حقیقی جذبات کا اظہار کیا، ان کوششوں کے مطلوبہ نتائج حماس اور اسرائیل کے درمیان سیز فائر کی صورت میں برآمد ہوئے جو فلسطین کے عوام کی مشکلات کو کم کرنے کے لئے پاکستان اور اس کے دوست ممالک کی ایک بڑی کامیابی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیلی افواج کی جارحیت پر پاکستان کا ردعمل واشگاف تھا جو فوری طور پر بین الاقوامی برادری تک پہنچا جس میں زور دیا گیا کہ وہ فلسطینیوں کی قتل و غارت روکنے کے لئے تعمیری کردار ادا کرے، وزیراعظم عمران خان نے مکہ مکرمہ(سعودی عرب)میں اسلامی تعاون کی تنظیم(او آئی سی) کے سیکریٹری جنرل سے ملاقات کی اور سعودی فرمانروا اور فلسطین و ترکی کے صدور کے ساتھ ٹیلیفونک رابطہ کیا،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی فلسطین کی صورتحال پر سعودی عرب، مصر، فلسطین، ترکی، افغانستان، چین، امریکہ اور سوڈان کے اپنے ہم منصبوں سے رابطہ کیا۔

فواد چوہدری نے کہا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے او آئی سی کے وزرائے خارجہ کے ہنگامی اجلاس میں شرکت کی اور فلسطین کا معاملہ پیش کیا جس میں اسرائیل کے وحشیانہ حملوں اور منظم جرائم کی مذمت کے لئے ایک سخت بیان جاری کیا گیا، پاکستان کی قومی اسمبلی نے اسرائیلی بربریت کے خلاف ایک متفقہ قرارداد منظور کی جس میں فلسطینی کاز اور اس کے عوام کی جدوجہد کی حمایت کا اظہار کیا گیا،معصوم فلسطینیوں پر اسرائیلی جارحیت اور بالخصوص رمضان المبارک کے دوران دنیا میں مسلمانوں کے مقدس مقام مسجد الاقصی کا محاصرہ انتہائی قابل مذمت ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ اسرائیلی قابض افواج کی جانب سے غزہ اور مغربی کنارہ میں بلااشتعال اور طاقت کے بے دریغ استعمال سے معصوم فلسطینی شہید ہوئے جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں، ایسے حملے انسانی اقدار، انسانی حقوق اور عالمی قوانین کے خلاف ہیں، ہم فلسطینی عوام کی نسل کشی اور قتل و غارت اور مظالم کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں جو اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قرارداد 2334 اور چوتھے جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 49 کی صریح خلاف ورزی ہے۔

وزیر اطلاعات نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے حوالے سے اقوام متحدہ میں پاکستان کی جانب سے پیش کی جانے والی متعلقہ قراردادوں بالخصوص اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 271 پر زور دیا جو 1969 میں مسجد الاقصی کو نذر آتش کرنے کے واقعہ کے بعد منظور کی گئی۔ انہوں نے فلسطین کاز کے لئے پاکستان کی مکمل حمایت کا اظہار کرتے ہوئے بہادر اور پرعزم فلسطینی عوام سے پاکستان کی لازوال سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے فلسطین کے تنازعہ کو اقوام متحدہ اور او آئی سی کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کرنے کے لئے مسلم امہ کی یکجہتی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان مقبوضہ فلسطینی علاقوں بشمول بیت المقدس سے اسرائیل کا مکمل انخلاء، فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت سمیت ناقابل تنسیخ حقوق کا احترام اور فلسطین واپسی کے حق اور 1967ء سے پہلے کی سرحدوں اور القدس الشریف کے دارالخلافہ کے ساتھ ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کا خواہاں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ فلسطین کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی کی بنیاد قائداعظم محمد علی جناح نے رکھی تھی اور اب وزیراعظم عمران خان اس پالیسی کے امین ہیں، پاکستان کے متعلقہ ادارے فلسطین کو کویڈ سے متعلقہ اور ایمرجنسی طبی امداد بھجوانے کے لئے فلسطینی سفارت خانہ کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ وزیر خارجہ کے ریمارکس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ کہنا کہ جن کی جیبیں بھاری ہوں، وہ میڈیا پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، اس کو کسی نسل کے خلاف قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ایک اور سوال کے جوا ب میں انہوں نے کہا کہ بعض بااثر اور متمول لابسٹس تنازعہ فلسطین اور کشمیر کو حل کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے اور ان تنازعات کے جلد تصفیہ کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں، پاکستان نے اپنے داخلی اور بین الاقوامی امور میں کبھی کسی ملک سے ڈکٹیشن نہیں لی کیونکہ پاکستان نے ہمیشہ اپنے قومی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے آزادانہ طور پر فیصلے کئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ امن چاہتا ہے اور اس کے ساتھ مذاکرات اور تجارت شروع کرنے کے لئے تیار ہے لیکن بھارت کو 5 اگست 2019 کی پوزیشن پر واپس آنا ہوگا کیونکہ ہم بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کو نظر انداز کرتے ہوئے آگے نہیں بڑھ سکتے۔

مزید :

قومی -