فلسطین: جنگ بندی ہو گئی، امن کیسے قائم ہو گا؟

فلسطین: جنگ بندی ہو گئی، امن کیسے قائم ہو گا؟

  

اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی ہو گئی ہے،اسرائیلی کابینہ نے اس فیصلے کی منظوری دی، اسرائیل گیارہ روز تک غزہ پر وحشیانہ بمباری کرتا رہا، اِس دوران اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے کئی اجلاس بھی ہوئے،لیکن نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکے۔ البتہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے تجویز پیش کی کہ فلسطینیوں کے لئے عالمی محافظ فوج بھیجی جائے، اسرائیل کے غیر قانونی قبضے اور حملوں کے خلاف ٹھوس اقدامات کئے جائیں،غزہ میں فوری طور پر امداد بھجوائی جائے،اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی فوری جنگ بندی کی اپیل کی، ترکی کے وزیر خارجہ نے اسرائیل کو جنگی جرائم کا مرتکب قرار دیا اور فلسطینی وزیر خارجہ نے کہا کہ اسرائیل کا احتساب عالمی برادری پر قرض ہے۔

جنرل اسمبلی میں ہونے والی تقریروں کا تعلق تو مستقبل سے ہے اور جو جو تجویزیں اجلاس کے دوران سامنے آئی ہیں اُن پر عالمی ادارہ، بین الاقوامی قوتیں اور خود اسرائیل کس حد تک کان دھرتا ہے یہ تو آنے والے وقت ہی میں پتہ چلے گا۔البتہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ روکنے کے لئے مصر کا مثبت اور موثر کردار سامنے آیا ہے۔ اسرائیلی کابینہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مصر نے جنگ بندی کی تجویز دی تھی اور یہ معاہدہ اسرائیل اور حماس کی جانب سے ”مشترکہ اور غیر مشروط“ ہو گا۔اس سے قبل امریکہ نے بھی اسرائیل پر جنگ بندی کے لئے دباؤ ڈالا تھا۔ ”یروشلم پوسٹ“ کے مطابق ”جنگ بندی اِس ارادے سے کی گئی ہے کہ اس کے جواب میں بھی جنگ بندی ہی ہو گی“۔گیارہ روز کے دوران اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں 232 فلسطینی شہید،  اور  دو ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان یہ جنگ بندی کتنا عرصہ برقرار رہے گی اور دوبارہ ایسی صورتِ حال کب پیدا ہو جائے گی اس بارے میں تو کچھ کہنا اِس لئے مشکل ہے کہ اسرائیل نے غزہ کے علاقے میں فلسطینیوں کے گھروں پر قبضے اور ان کی جگہ یہودی بستیوں کا منصوبہ ترک نہیں کیا،ایسی صورتِ حال ماضی میں بھی اُس وقت پیدا ہوتی رہی ہے جب یہودی بستیوں کے منصوبے کا کام شروع کیا جاتا رہا۔ اقوام متحدہ اِن بستیوں کے قیام کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے اور یہ سلسلہ روکنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے،لیکن اسرائیل کسی کی پروا کئے بغیر غزہ میں توسیع پسندی بلا روک ٹوک جاری رکھے ہوئے ہے،خرابی کی یہ جڑ جب تک دور نہیں ہو گی اُس وقت تک یہ کیسے کہا جا سکتا ہے  کہ آئندہ ایسے حالات پیدا نہیں ہوں گے۔جنرل اسمبلی کے اجلاس میں جو تجاویز پیش کی گئی ہیں خاص طور پر فلسطینیوں کے تحفظ کے لئے جو فورس بھیجنے کی تجویز پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پیش کی ہے یہ بظاہر تو بڑی اچھی ہے،لیکن کیا اِس پر عمل درآمد کی بھی کوئی صورت بنے گی اور کون اس تجویز پر عمل کرائے گا؟

اسرائیل نے اپنا دفاع اس حد تک مضبوط کر لیا ہے کہ حماس کے راکٹ اس حصار کو توڑنے میں ناکام ہیں،غزہ سے جو راکٹ بھی اسرائیل کی جانب داغے جاتے ہیں اسرائیل انہیں فضا ہی میں تباہ کر دیتا ہے، شاید اِکا دُکا راکٹ ہی کہیں تھوڑے بہت نقصان کا باعث بنتا ہے اس کے جواب میں اسرائیلی بمباری بہت زیادہ ہولناک اور تباہ کن ہوتی ہے،جس کا فلسطین کے پاس کوئی توڑ نہیں،گیارہ روز کے دوران جانی نقصان کے ساتھ ساتھ غزہ کی وسیع پیمانے پر تباہی و بربادی بھی ہوئی ہے اور نہیں کہا جا سکتا کہ اِس ملبے پر فلسطین کی نئی عمارتیں تعمیر ہوں گی یا انہیں بھی یہودی بستیوں کا حصہ بنا لیا جائے گا۔ جنرل اسمبلی کے خطابات میں امدادی کارروائیوں کے سلسلے میں جو تجاویز پیش کی گئی ہیں وہ سب اسی صورت میں کامیاب ہو سکتی ہیں جب اسرائیل کسی فورس کو غزہ جانے کی اجازت دے۔اگر امدادی کارروائیوں کے لئے کسی کو غزہ میں جانے ہی نہیں دیا جائے گا تو پھر عملاً فلسطینیوں کی امداد کی کیا صورت ہو گی اس پر بھی غور کر لینا چاہئے۔کیا اسرائیل کسی عالمی فورس کو اپنے ہاں جانے دے گا اور اگر نہیں تو کیا کوئی عالمی ادارہ ایسا ہے،جو اسرائیل پر دباؤ ڈال کر اس پر عمل درآمد کرائے گا،وہ تو اقوام متحدہ کی قراردادیں نہیں مانتا اور من مانی کے راستے پر بگٹٹ دوڑا چلا جاتا ہے، کیا وہ کسی فورس کی اپنے ہاں تعیناتی پر رضا مند ہو جائے گا،اب اگر پاکستان نے یہ تجویز پیش کی ہے تو یہ بھی بتانا چاہئے کہ اس پر عمل درآمد کس طرح ہو گا۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان جو جنگ بندی طے ہوئی ہے یہ تو نظر آتا ہے کہ یہ کسی وقت بھی ختم ہو سکتی ہے تو مسئلے کا حل کیا ہے اور کس طرح فلسطین اوراسرائیل امن کے ساتھ رہ سکتے ہیں اس کا جواب یہ ہے کہ فلسطینیوں کے لئے اُن کی آزاد اور خود مختار ریاست قائم کی جائے اور دُنیا کی بڑی طاقتیں اِس بات کی ضمانت دیں کہ اسرائیل اس ریاست کی آزادی کا احترام کرے گا،لیکن اس کی روایت تو یہ ہے کہ اُس نے خود مختار فلسطین کے ہر منصوبے کو سبوتاژ کیا ہے، صدر ٹرمپ نے تو اپنے دورِ صدارت میں یہ آپشن ہی ختم کر دیا تھا اور اُن کا خیال تھا کہ فلسطینی ریاست کے بغیر بھی مشرقِ وسطیٰ میں امن قائم کیا جا سکتا ہے،حالانکہ بار بار ثابت ہو چکا کہ ایسا نہیں ہو سکتا،انہوں نے اپنی دانست میں جو ”صدی کا منصوبہ“ پیش کیا تھا اس میں فلسطینیوں کے لئے کچھ بھی نہیں تھا اِس کے باوجود وہ خوش فہمیوں کا شکار تھے، حالیہ گیارہ روزہ جنگ سے بھی ثابت ہو گیا کہ فلسطینیوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ تو توڑے جا سکتے ہیں،لیکن آزاد فلسطینی ریاست کے بغیر امن کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی،اِس لئے بہتر ہے کہ امن کی متلاشی قوتیں فلسطینی ریاست کے قیام کا قابل ِ عمل منصوبہ پیش کریں اور پھر کسی قسم کے امن کی خواہش کریں۔

مزید :

رائے -اداریہ -