اردو کے استاد، ادیب، محقق طارق عزیز کا انتقال!

اردو کے استاد، ادیب، محقق طارق عزیز کا انتقال!

  

اردو کے مایہ ناز استاد، نقاد اور محقق طارق عزیز بھی دُنیا سے رخصت ہو گئے۔ان کی وفات حرکت ِ قلب بند ہونے سے ہوئی،ان کو عزیزوں، دوستوں اور شاگردوں کی بھاری تعداد کی موجودگی میں سپردِخاک کر دیا گیا،ان کی عمر67برس تھی، پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ بیٹی اور بیٹا چھوڑے ہیں۔طارق عزیز دونوں ٹانگوں سے معذور تھے، لیکن یہ معذوری ان کی ہمت، محنت اور کوشش کے آڑے نہ آ سکی۔انہوں نے نہ صرف خود اعلیٰ تعلیم حاصل کی، بلکہ آخری لمحے تک تدریس کا سلسلہ جاری رکھا، وہ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات میں استاد تھے،اِس سے قبل وہ مختلف کالجوں میں استاد کی حیثیت سے منسلک رہے۔ادیب و شاعر اور ڈرامہ نگار طارق عزیز ہر دلعزیز شخصیت تھے، وہ اپنی وہیل چیئر پر تقریبات میں شرکت کرتے،ہاتھوں ہاتھ لئے جاتے تھے،لبوں پر ہر وقت دوستانہ مسکراہٹ رہتی۔انہوں نے متعدد ڈرامے بھی تحریر کئے،جو مقبول ہوئے۔طارق عزیز مرحوم کا تعلق لاہور سے تھا اور وہ مادری زبان پنجابی سے بھی پیار کرتے تھے اور زیادہ تر گفتگو اِسی میں کرتے۔اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔

مزید :

رائے -اداریہ -