ہم خیال، لیکن کس کے؟

 ہم خیال، لیکن کس کے؟
 ہم خیال، لیکن کس کے؟

  

بہت شور، ہنگامہ برپا تھا، ہم نے توقف کیا کہ اس سب کا اختتام بھی سمجھ میں آ رہا تھا، ہم نے اپنے زمانہ طالب علمی سے اب تک ایسے کئی معرکوں کا نظارہ کر رکھا ہے، اور پیپلزپارٹی کے اندر سے پیٹریاٹ بھی ہمارے دورِ رپورٹنگ ہی میں سامنے آئے، اور پلک جھپکتے ہی راؤ سکندر اقبال جیسے رہنما  مخدوم فیصل صالح حیات اور نوریز شکور جیسے جیالوں کو ساتھ لے کر سینئر وزیر اور دفاع کا محکمہ لے گئے۔ان حضرات کے بارے میں کسی کو یقین نہ آتا تھا کہ یہ سب آزمودہ تھے۔ جب راؤسکندر اقبال مخلوط حکومت میں شامل ہوئے تو محترمہ بے نظیر بھٹو دبئی میں تھیں، اور خود ساختہ جلاوطنی گذار رہی تھیں۔ان حضرات کی حکومت میں شمولیت پر بہت تنقید ہوئی اور جیالوں نے احتجاج کیا،ابتدا میں یہ حضرات نہ صرف کہتے رہے،بلکہ یہ تاثر پھیلایا گیا کہ یہ سب محترمہ بے نظیر بھٹو کی رضا مندی سے ان کو واپس لانے کے لئے ہوا،

ہمارے صحافی دوست بھی اسی غلط فہمی کا  شکار رہے،لیکن ہمیں یقین تھا کہ ایسا نہیں۔یہ صریحاً جماعت سے ”بغاوت“ ہے، اور ان کی واپسی کا کوئی امکان نہیں۔اس کی ایک وجہ ہمارے پاس راؤ سکندر اقبال کے راجپوتی انداز کی بھی تھی کہ ان کو پنجاب  کی صدارت سے غیر روایتی انداز سے ہٹایا گیا تھا۔ ہمیں یاد ہے کہ اس روز راؤ سکندر اقبال کے صاحبزادے کی دعوتِ ولیمہ تھی،وہ خوشی خوشی مہمانوں کا استقبال کر رہے تھے،ایسے میں ہم نے اس وقت پیپلزپارٹی لاہور کے صدر میاں مصباح الرحمن کو موبائل فون پر گفتگو کے دوران پریشان دیکھا وہ کچھ بحث کر رہے تھے،ہمیں تجسس ہوا، اور جب ان کی با ت ختم ہوئی تو اپنے تعلقات کی بنا پر ان سے پوچھا کہ کیا قصہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ محترمہ کا فون تھا،انہوں نے راؤ سکندر اقبال کو پارٹی کی صوبائی قیادت سے ہٹا دیا اور کہہ رہی تھیں کہ ان کو بتا دیا جائے۔بقول میاں مصباح الرحمن وہ محترمہ سے گذارش کر رہے  تھے کہ راؤ اپنے صاحبزادے کی دعوتِ ولیمہ میں مصروف اور خوش ہیں۔یہ موقع نہیں پھر کسی وقت بتا دیں گے،لیکن محترمہ کو شاید کوئی زیادہ غصہ تھا، وہ نہ مانیں اور اصرار کیا کہ ابھی بتایا جائے۔ چنانچہ میاں مصباح الرحمن نے مجبوراً راؤ سکندر اقبال کو الگ بُلا کر بتا دیا۔وہ ایک لمحہ کے لئے گم سم ہوئے، تاہم مہمانوں کے ہجوم کی وجہ سے مصروف ہو گئے۔ ہم نے ردعمل جاننا چاہا تو میاں مصباح الرحمن نے منع کر دیا، راؤ سکندر اقبال کے دِل میں یہ رنج رہا اور پھر انتخابات کے بعد وہ وقت آیا، جب جنرل پرویز مشرف کے رابطہ کرنے پر وہ پیٹریاٹ ہو گئے، اِس سلسلے میں کافی عرصہ غلط فہمی رہی کہ وہ محترمہ کے ساتھ ہی ہیں اور راؤ سکندر ایسا تاثر بھی دیتے رہے، اسی کے تحت پیپلزپارٹی والے ان حضرات سے تعلق بھی جاری رکھے ہوئے تھے۔

میاں مصباح الرحمن کے صاحبزادے کی شادی ہوئی تو دعوتِ ولیمہ میں راؤ سکندر اقبال، فیصل صالح حیات اور نوریز شکور بھی مدعو تھے۔ ایک بڑے ہجوم میں ان کو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ راؤ سکندر اقبال میڈیا سے گفتگو بھی کرتے رہے۔ وہ یہی تاثر دے رہے تھے کہ پارٹی سے راستے جدا نہیں ہوئے۔ واپسی کے امکانات موجود ہیں، ہم نے موقع پا کر مخدوم فیصل حیات سے علیحدگی میں بات کی اور پوچھا تو انہوں نے صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے کہہ دیا ”کشتیاں جلا کر آئے ہیں، واپسی ممکن نہیں“ اب یہ کہنا بے کار ہے کہ یہ ہمارا سکوپ بھی تھا، بہرحال راؤ سکندر وفات پا چکے، نوریز شکور گوشہ گمنامی میں ہیں اور مخدوم فیصل صالح حیات پھر سے واپس آ چکے اور آج کل ان کا نام وسطی پنجاب پیپلزپارٹی کے صدر کی حیثیت سے بھی لیا جا رہا ہے، اگرچہ وہ خود شاہ جیونہ کے گدی نشین کی حیثیت سے اپنی مصروفیات رکھتے ہیں۔

یہ سب اِس لئے عرض کیا کہ سیاست کے اپنے رنگ ہوتے ہیں اور ہاتھی کے دانتوں کی طرح کھانے اور دکھانے والے الگ الگ ہوتے ہیں، تحریک انصاف کے بانی رکن،وزیراعظم عمران خان کے دوست، زمیندار اور صنعتکار جہانگیر ترین کے حوالے سے بھی بہت کچھ لکھا گیا اور اب لکھا اور کہا جا رہا ہے۔ ہم نے بوجوہ خاموشی اختیار کئے رکھی کہ ذرا گرد بیٹھ لے، کیونکہ ہمیں یقین تھا کہ جب پتلی تماشا ہو رہا ہو تو پھر تاریں ہلانے والے کا اختیار ہوتا ہے کہ کس نے کیا کرنا ہے، ہمارے ملک کی سیاست کا تو حال ہی نرالا ہے، ہم نے تو وہ دن بھی دیکھا، جب اسی پاکستان (جب مغربی پاکستان تھا) میں غدار کے لیبل والے ڈاکٹر خان رات بھر میں پاک صاف ہوئے، صبح  ہوئی تو وہ ایک نئی جماعت ری پبلکن پارٹی کے نام سے اسی شب ظہور پذیر ہونے والی جماعت کے سربراہ بن کر وزیراعلیٰ کا حلف اٹھا رہے تھے،اس لئے انتظار کیا اور اب بلی تو کیا بلیاں تھیلے سے باہر آ رہی ہیں۔ بیرسٹر علی ظفر اپنی تحقیق مکمل کر چکے، رپورٹ وزیراعظم کو دیں گے،قارئین کو بھلے یہ بھی عجیب لگے کہ معاملہ تفتیشی ایجنسیوں کے پاس، مقدمات عدالتوں میں تو یہ بیرسٹر علی ظفر کیسی تحقیق کر رہے تھے۔ حضور اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں،آخر کار یہ ہم خیال گروپ کیوں؟ہر ایک کا اپنا اپنا دُکھ ہے۔

وزیراعظم نے اپنا بیانیہ تک تبدیل نہیں کیا اور نہ صرف تحقیق والی رپورٹ ان کے پاس جانے والی ہے،بلکہ ہم خیال حضرات سے سرکاری رابطے بھی ہو گئے ہیں،پھر جہانگیر ترین نے اپنے دوست کا تو شکوہ ہی نہیں کیا،بوجھ پنجاب حکومت کی طرف منتقل کر دیا اور اب رابطوں کی خبریں شائع  ہو رہی ہیں۔کچھ ایسا ہی ہونا تھا کہ ابھی وہ ہدایت موصول نہیں ہوئی،جس کا لوگ ڈھائی سال سے انتظار کر رہے ہیں،اگر ایسا ہوتا تو قائد حزبِ اختلاف لاتعلقی کا اعلان  نہ کرتے اور ہم خیال وزیراعلیٰ سے بھی نہ ملتے، اور کیا اب بھی شبہ ہے کہ جہانگیر ترین کو ”انصاف“ نہیں ملے گا؟ یہاں تو ایسا ہی ہوتا ہے، اور پھر یہ بات بھی عجیب لگے گی کہ خود جہانگیرترین نے فرما دیا، ”کوئی فارورڈ بلاک نہیں،ہم تحریک انصاف میں ہیں اور رہیں گے“ تو قارئین! آپ بھی مان لیں اور صبر کریں کہ وہ وقت کب آتا ہے،جب انگلی سے تار ہلتی اور ”پُتلیاں“ اپنا رخ بدل لیتی ہیں اور پھر بارہ من کی دھوبن والا تماشہ دیکھا جاتا ہے۔ فی الحال تو بجٹ کا سوال ہے اور شیخ رشید پھر فرماتے ہیں کہ ایک صفحہ سلامت ہے۔ کوئی اِدھر اُدھر نہیں ہوا اور ہم خیال(جہانگیر ترین والے) بجٹ کے حق میں ووٹ دیں گے۔ہاں! محترم قارئین! اتنا ضرور ہو گا کہ ہم خیال حضرات کے تحفظات ضرور دور ہوں گے اور ان کے رکے کام ہو جائیں گے، اللہ اللہ خیر سلا۔

مزید :

رائے -کالم -