قائم گنج کا دُکھی پریم نگری

قائم گنج کا دُکھی پریم نگری
قائم گنج کا دُکھی پریم نگری

  

ریڈیو پاکستان کے شعبہ خبر (اُردو یونٹ) سے منسلک دُکھی پریم نگری بحیثیت نغمہ نگار و کہانی نویس کسی تعارف کے محتاج نہیں تھے۔ وہ بنیادی طور پر ایک فلمی صحافی تھے، جنہوں نے اپنے قلمی سفر کا آغاز بمبئی سے کیا۔اُن کا نام  محمد وہاج خان تھا اور وہ مشہور صحافی منہاج (محمد خان) برنا اور معروف سیاسی رہنما معراج محمد خان کے بڑے بھائی تھے۔ اُن کے والد حکیم مولوی تاج محمد خان،قائم گنج (یوپی) کے آفریدی النسل پٹھان تھے اور قیامِ پاکستان سے پانچ برس پہلے،1942ء سے کوئٹہ میں سکونت پذیر اور حکمت جاری رکھے ہوئے تھے۔  اُن کے بیٹے سراج محمد خان بھی کوئٹہ میں حکیم تھے۔ دُکھی پریم نگری نے ادبی و فلمی دْنیا میں قائم گنج کو روشناس کروایا اور اپنی پہچان بھی۔وہ کون ہیں؟ یہ اْن کے والد بھی نہیں جانتے تھے۔ ایک دن ڈاکیہ نے اُن کے والد کو ایک خط دیا جو اْنہوں نے یہ کہہ کر واپس کردیا کہ اس نام کاکوئی فرد یہاں نہیں رہتا۔

حکیم صاحب! آپ اسے جانتے نہیں، ڈاکیہ مسکرایا اور بولا: یہ آپ کا بیٹا وہاج محمد ہے جو دُکھی پریم نگری کے قلمی نام سے کہانیاں لکھتا ہے۔والد پریشان ہوگئے۔ اْنہوں نے وہاج کو بْلایا اور پوچھا۔ کیا تمہیں کوئی بیماری ہے؟ مَیں ایک معالج ہوں اور تمہارا علاج کرسکتا ہوں۔ تم چاہو تو تمہارا جیب خرچ بڑھایا جاسکتا ہے اور مجھے ذرا  یہ تو بتاؤ کہ یہ پریم نگر ہندوستان میں کہاں واقع ہے؟ ہم قائم گنج کے پٹھان ہیں اور ہمیں اس پر فخر ہے،یہ پریم نگر کیا ہے؟

سرور خان بتاتے ہیں کہ قد آور اور ملنسار، دْکھی پریم نگری کو بھی اپنے قائم خانی پٹھان ہونے پر فخر تھا۔ کبھی کوئی اْن  سے یہ پوچھتا کہ پریم نگر میں کوئی دْکھی کیوں کر ہوسکتا ہے؟ تو وہ ایک ٹھنڈی  آہ بھر کر جواب دیتے کہ پریم نگر، دُکھوں کی بستی ہے،جہاں دُکھ ہی دُکھ ہیں۔وہ بلاشبہ ایک محبت بھرے انسان تھے۔ اْن کی یہ  پیار بھری و سدا بہار غزل  (دُنیا کسی کے پیار میں جنت سے کم نہیں) اُن کی رومانوی شخصیت کی غماز ہے جس نے 1966ء میں گیت و سنگیت کی دنیا میں دھوم مچائی۔ ِدلوں میں ہلچل  پیدا کرنے والے دلرْبا گائیک تھے مہدی حسن۔

فلم ”جاگ اُٹھا انسان“ کے نغمے، ڈائیلاگ، اسکرین پلے اور ہدایات اْن ہی کی تھیں۔ موسیقار لعل محمد اقبال تھے، جن کا تعلق ریڈیو پاکستان سے تھا۔ لعل محمد، بانسری نواز اور بلند اقبال، سرود نواز تھے۔ بلند اقبال اُستاد بندو خان، (مشہورسارنگی نواز) کے صاحبزادے تھے……”انسان بدلتا ہے“، اُن کی پہلی فلم تھی اور  1961ء کی چار ہٹ فلموں میں شامل تھی۔دُکھی پریم نگری، 1973ء کی سپر ہٹ فلم، ”نادان“  کے نغمہ نگاروں میں، صہبا اختر اور تسلیم فاضلی کے ساتھ شامل تھے،جبکہ موسیقی لعل محمد اقبال کی تھی۔ یہ اداکار ندیم کی پہلی ڈائمنڈ جوبلی فلم تھی، جس کے بعد وہ سپر اسٹار بن  گئے۔ فلم ڈائریکٹر اقبال اختر تھے۔رونا لیلیٰ کو بھی اْن کے نغموں سے شہرت ملی۔ہمارے دوست، سرور خان سے اْن کی گاڑھی چھنتی تھی۔ وہ سرور کو کوئٹہ والا بادشاہ کہتے تھے۔ سرور بتاتے ہیں کہ بڑے مہمان نواز اور رکھ  رکھاؤ  والے روایتی پٹھان تھے۔وہ پاکستان آنے کے بعد روزنامہ ”انجام“ کراچی، ہفت روزہ ”شاہجہان“ کراچی، ہفت روزہ ”نگار“ کراچی اور ”مصور“ لاہور سے بھی وابستہ رہے۔

مزید :

رائے -کالم -