اسرائیل دُنیا کی آواز کیوں نہیں سُنتا؟

اسرائیل دُنیا کی آواز کیوں نہیں سُنتا؟
اسرائیل دُنیا کی آواز کیوں نہیں سُنتا؟

  

 شاہ فیصل کی تجویز پر او آئی سی کا قیام 25 ستمبر 1969ء کو اس وقت عمل میں آیا تھاجب اسرائیلیوں نے مسجد اقصیٰ میں آگ لگائی تھی۔ او آئی سی کی پہلی کانفرنس میں 24 مسلم ممالک نے شرکت کی تھی۔ آج اس تنظیم میں 57 ممالک شامل ہے۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی اسرائیل پر کسی بھی قسم کا دباؤ ڈالنے سے قاصر ہے۔ اتوار کو ہوئے او آئی سی کے اجلاس میں صرف باتیں ہی کی گئیں کہ اگر اسرائیل نے دوبارہ ایسی کوئی حرکت  کی پھر دیکھنا ہم کیا کرتے ہیں۔ نہ کوئی منصوبہ بندی ہوئی نہ کسی حکمت عملی کو اپنایا گیا، صرف اپنے دکھ کا اظہار کیا گیا۔51 سال پہلے بھی مسجد اقصی کو نشانہ بنایا گیا اور اس سال بھی یہی ہوا۔ نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزر گیا مگر اسرائیلی جارحیت جاری ہے۔کئی دہائیوں سے فلسطینی و کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی جاری ہے مگر کوئی عالمی ادارہ مداخلت کرنے کی ہمت نہیں کر رہا۔ عرب لیگ نے بھی عالمی عدالت انصاف سے مداخلت کا مطالبہ کیا ہے لیکن کوئی شنوائی نہیں۔ نوے لاکھ کی آبادی پر مشتمل اسرائیل کسی کی سننے کو تیار نہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ تو امریکی سرپرستی ہے۔ 

فلسطینیوں کے پاس لڑائی کے وسائل نہیں اور نہ ہی کوئی تجربہ کار فوج ہے۔ بس جذبہ ایمانی سے اپنے وطن اور قبلہ اوّل کا دفاع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے راکٹ اسرائیلی ڈیفنس سسٹم کے آگے کیا  ہیں؟ شیخ جراح میں جاری مظاہرے پر اسرائیلی فوجیوں کا گھڑ سوار دستہ حملہ کرتا ہے اور سب کو مارنا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ دیکھ کر ایک فلسطینی لڑکی مریم عفیفی ایک بچے کو بچانے آگے بڑھتی ہے تو فوجی اس کا حجاب نوچ کر اسے زمین پر گرا دیتے ہیں اور اسے سب کے سامنے گھسیٹنے لگتے ہیں۔ جب فوجی اسے ہتھکڑی پہناتا ہے تو وہ مسلح فوجیوں کی بزدلی پر مسکراتی ہے۔ سلام ہے اس لڑکی کی بہادری کو۔ 

فلسطینی پوری طرح ڈٹے ہوئے ہیں۔ وہ گولیوں کا جواب پتھروں سے دیں گے لیکن شکست تسلیم نہیں کریں گے۔طاقتور فوج رکھنے والے ممالک بھی صرف بیانات دینے تک محدود ہیں۔اگر مسلمان متحد ہو جائیں تو اسرائیل کی ہمت نہ ہو کہ وہ فلسطین کے علاقے پر چڑھائی کر سکے۔ نظر تو یہی آ رہا ہے کہ مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کی وجہ اور معصوم فلسطینی مسلمانوں پر تشدد روکنے میں عرب ممالک بھی یکسو نہیں۔سفارتی تعلقات قائم کرنے والے ممالک اب بغیر ویزہ آمد و رفت کے معاہدے کر رہے ہیں،جو اسرائیل کی حوصلہ افزائی کا سبب ہیں۔ 

اگر ڈیڑھ ارب مسلمان اسرائیل پر حملہ کرنے کی ہمت نہیں رکھتے تو کم سے کم اس کا معاشی بائیکاٹ کر دیں۔ اگر سارے مسلم ممالک پختہ ارادے کے ساتھ اسرائیل کا معاشی بائیکاٹ کر دیں تو یہ اقدام کارگر ثابت ہو سکتا ہے۔ یورپی ممالک کے عوام نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف زیادہ متحرک کردار ادا کیا ہے۔  اٹلی  سے جو اسلحہ کی شپ منٹ اسرائیل کے لیے روانہ ہونی تھی، وہاں کے ورکرز نے اسے لوڈ کرنے سے انکار کر دیا۔ دنیا بھر میں ریلیاں نکالی گئیں اور ہر دن نکالی جا رہی ہیں۔جمعہ کے روز پاکستان میں بھی مظاہرے ہوئے،ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے مسلم بہن بھائیوں کو ان کی خود مختار ریاست ملے۔اگر اسرائیلی مظالم کے خلاف کوئی موثر لائحہ عمل اختیار نہیں کیا جاتا تو مسلم دنیا کو مزید صدمات کے لیے تیار رہنا ہو گا۔ کیونکہ صیہونی عزائم کسی ایک علاقے تک محدود نہیں۔ گریٹر اسرائیل کے منصوبے پر کام جاری ہے۔

مزید :

رائے -کالم -