وزارتِ آئی ٹی کا امیزون بزنس سینٹر کو سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک قرار 

وزارتِ آئی ٹی کا امیزون بزنس سینٹر کو سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک قرار 

  

امیزون مال میں موجود امیزون بزنس سینٹر کو وزارتِ آئی ٹی کی جانب سے سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک قرار دے دیا گیا ہے۔عمارت گروپ آف کمپنیز پاکستان کے بڑے ریئل اسٹیٹ گروپس میں سے ایک ہے۔ اس گروپ کے سر اسلام آباد میں 10 ملین مربع فٹ کے احاطے پر 8 پراجیکٹس کی تعمیر کا سہرا جاتا ہے۔ امیزون مال جو کہ پاکستان کا پہلا فیکٹری آؤٹ لیٹ مال ہے، بھی عمارت گروپ آف کمپنیز کی شاہکار تعمیرات میں سے ایک ہے۔ عمارت گروپ ہمیشہ پاکستان میں ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے کوشاں رہا ہے اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں ٹیکنالوجی کی شمولیت کے لیے کیے گئے اقدامات میں بھی عمارت گروپ پیش پیش ہے۔اس ضمن میں عمارت گروپ نے امیزون مال کے 3 فلورز وزارتِ آئی ٹی کے حوالے کردیئے ہیں جو کہ یہاں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک کا قیام کرے گی۔ اس قدم کا مقصد ایسے ماہرین کی حوصلہ افزائی ہے جو کہ پاکستان کے ٹیکنالوجی سیکٹر میں کار فرما ہیں۔ پی ایس ای بی جو کہ وزارتِ آئی ٹی کے ماتحت ہے، یہاں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک میں معاونت فراہم کرے گا۔معاہدے کی تقریب بروز جمعرات وزارتِ آئی ٹی میں ہوئی جس پر چیئرمین عمارت گروپ آف کمپنیز  شفیق اکبر اور پی ایس ای بی کے منیجنگ ڈائریکٹر عثمان ناصر نے دستخط کیے۔ تقریب میں سیکریٹری آئی ٹی شعیب احمد صدیقی نے شرکت کی۔ علاوہ ازیں گروپ ڈائریکٹرز فرحان جاوید اور شرجیل احمر بھی تقریب میں شریک ہوئے۔ایم او یو پر دستخط کی تقریب کے موقع پر چیئرمین عمارت گروپ شفیق اکبر کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی سے پاکستان کا مستقبل جڑا ہوا ہے۔ اْن کا کہنا تھا کہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں بلاک چین اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس جیسی جدید ٹیکنالوجیز کا استعمال ہونا چاہیے تاکہ یہ سیکٹر اور الائیڈ انڈسٹریز اس سے مستفید ہوں۔ 

اْنہوں نے کہا کہ پی ایس ای بی سے اس شراکت سے ہم پاکستان میں بلاک چین، ڈیجیٹل میپنگ اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس جیسی ٹیکنالوجیز کو متعارف کروانے کے لیے کوشاں ہیں تاکہ اس سیکٹر کی مکمل تصویر تبدیل ہوسکے اور یہاں سے منفی رجحانات کا خاتمہ ہو۔تقریب میں اس اْمید کا اظہار کیا گیا کہ ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ اس شراکت داری سے نہ صرف ملکی ریئل اسٹیٹ سیکٹر کا فائدہ ہو بلکہ اس سے دیگر سیکٹرز بھی استفادہ کریں تاکہ ملکی جی ڈی پی گروتھ کے فروغ کا سامان ہوسکے

مزید :

کامرس -