فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ملک بھر میں ریلیاں، اقوام متحدہ کے دفتر تک مارچ، قرار داد پیش کی گئی، اسرائیلی پولیس کا پھر مسجد اقصٰی پر دھاوا، فائرنگ 

فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ملک بھر میں ریلیاں، اقوام متحدہ کے دفتر ...

  

 اسلام آباد،لاہور،کراچی  (رپورٹنگ ٹیم، مانیٹرنگ دٰیسک، نیوز ایجنسیاں)  جمعہ  کے روزملک بھر میں یوم یکجہتی فلسطین منایا گیا۔ شہر شہر ریلیاں نکالی گئیں۔ ریلیوں میں زندگی کے ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہوئے۔ شرکا نے دنیا سے فلسطین پر اسرائیل کا غاصبانہ قبضہ ختم کرانے کا مطالبہ کیا۔لاہور میں فلسطینی مسلمانوں سے یکجہتی کے لئے ریلی  سیاسی، مذہبی  جماعتوں، وکلاعء ڈاکٹرز اور تاجر تنظیمو ں ریلیاں نکالیں ضلعی انتظامیہ لاہور کی جانب سے ریلی کا آغاز لبرٹی چوک سے ہوا اور کلمہ چوک پر اختتام ہوا  جس میں کثیر تعداد میں شہری شریک ہوئے جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے ریلی سے خطاب میں جہاں اسرائیلی فورسز کے مظالم کی مذمت کی وہیں وزیراعظم کی کوششوں کو سراہا۔پنجاب اسمبلی میں بھی فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیا گیا۔ مسلم لیگ ن کے ارکان فلسطینی جھنڈے لے کر ایوان میں پہنچے اور اسرائیل کے خلاف نعرے بازی کی جبکہ حمزہ شہباز نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اسرائیلی مظالم کے خلاف متفقہ لائحہ عمل اپنانے پر زور دیا۔وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوھری نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ ہم سب فلسطین ہیں، سیز فائر ہونا کامیابی ہے، حقوق ملنے تک ہم آپ کے ساتھ ہیں، پاکستان کا ہر فرد وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ہے۔پریس کلب لاہور کے باہر آل پاکستان کلرکس ایسو سی ایشن کی جانب سے فلسطینی بھائیوں سے اظہار یکجہتی کے لئے ریلی نکالی گئی۔ جس کی قیادت صدر ایپکا نے کی۔ شرکا نے اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف نے ریلی نکالی۔ ریلی کے شرکائنے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر فلسطینیوں کے حق میں نعرے درج تھے۔سرگودھا اور شیخوپورہ میں نکالی گئی ریلیوں میں شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ شرکا نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر اسرائیل مخالف نعرے درج تھے۔فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کے خلاف بہاولپور میں بھی ریلی نکالی گئی جس میں کثیر تعداد میں شہری شریک ہوئے اور اسرائیلی مظالم کے خلاف نعرے بازی کی۔ وہاڑی اور نوشہرو فیروز میں بھی صیہونی فورسز کے مظالم کے خلاف بھر پور آواز اٹھائی گئی۔ ریلیوں کے شرکا نے دنیا پر اسرائیلی مظالم رکوانے پر زور دیا۔صوابی اور کرک میں بھی سرائیلی مظالم کے خلاف شہری سڑکوں پر نکل آئے اور شدید نعرے بازی کی۔ اس کے ساتھ ساتھ جہانیاں، لیاقت پور، ساہیوال، نواب شاہ، لاڑکانہ، کندیاں، احمد پور شرقیہ، روجھان، کشمور، ظاہر پیر، قصور، ڈیرہ بگٹی اور مریدکے میں بھی اسرائیلی مظالم کے خلاف ریلیاں نکالی گئیں۔سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی قیادت میں ارکان پارلیمان نے فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے واک کی اسرائیلی جارحیت کے خلاف حتجاجی واک میں اراکین پارلیمنٹ، سول سوسائٹی اور میڈیا کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر اسد قیصر اور اراکین پارلیمنٹ نے فلسطین پر اسرائیلی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ اسد قیصر نے کہاکہ اس وقت پارلیمنٹ پوری قوم کی آواز بن چکی ہے، حکومت کے ساتھ اس وقت پوری پارلیمنٹ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ میں شاہ محمود قریشی کے دورہ امریکہ سے قبل متفقہ قرارداد منظور کی ہے، قرادا کو اقوام متحدہ کے دفتر میں ان کے نمائندے کو پیش کر دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے وزیر خارجہ نے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں فلسطین کے معاملے پر دو ٹوک موقف اپنایا ہے،آزاد فلسطینی ریاست کے قیام تک پاکستان اپنی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر کے پر امن کے لیے اپنی سیاسی اور سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستانی عوام اور پارلیمنٹ کو فلسطینیوں کے درد کا شدت سے احساس ہے، اس وقت پوری مسلم اْمّہ اور او آئی سی کو متحد ہونا ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر اور فلسطین کے لئے اب کھڑا ہونا ہو گا، ہمیں بحیثیت قوم اکٹھاہونا ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ جنگ بندی کے اعلان کو ہم خوش آئند قرار دیتے ہیں، اسرائیل جو جنگی جرائم کر رہا ہے دنیا کو اس پر سنجیدہ فیصلے کرنے ہوں گے،قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی قیادت میں اراکین قومی اسمبلی اقوام متحدہ کے دفتر میں قومی اسمبلی کی منظور کردہ متفقہ قراردادجمع کرادی۔ کو سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف، جے یو آئی(ف) کے مولانا اسد اور دیگر پارلیمانی پارٹیوں کے قائدین اور مرکزی رہنما بھی شہباز شریف کے ہمراہ تھے۔شہباز شریف دیگر اراکین کے ہمراہ فلسطین پر قومی اسمبلی کی منظور کردہ متفقہ قرارداد اقوام متحدہ کے پاکستان میں نمائندے جولئین ہارنیس کے حوالے کی،قرارداد اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس اور جنرل اسمبلی کے صدر وولکن بوزکر کے نام دی گئی۔قرارداد میں فلسطین کے خلاف اسرائیل کے وحشیانہ حملے، قتل عام اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔شہباز شریف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہ وئے کہاکہ قومی اسمبلی نے فلسطین کے حوالے سے جو متفقہ قرارداد پیش کی تھی،فلسطینیوں پر مظالم ڈھائے گئے اور جو بمباری اسرائیل نے کی،فلسطینیوں کو بڑی تعداد میں شہید کردیا،مسجد الاقصی میں بربریت کی گئی، ایسے غمناک منآظر پہلے نہیں دیکھے تھے،قومی اسمبلی کی قرارداد اقوام متحدہ کے نمائندے جولیس ہرنس کو پیش کی،پارلیمنٹ نے عوام کی ترجمان کی۔ انہوں نے کہاکہ ساری اپوزیشن قیادت کے ساتھ مل کر قرارداد کی کاپی یو این آفس کو دی،نیتن یاہو کے مظالم کے حوالے سے بتایا،فلسطین اور کشمیر میں کئی دہائیوں سے خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بچوں بوڑھوں سے ظلم روا رکھا جارہا ہے،سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد پر زوردیا۔شہباز شریف نے کہاکہ مسائل حل نہ ہوئے تو دنیا میں کبھی امن نہیں آئے گا،متفقہ قراراد ہم نے ملکر پیش کی،اس کا تعلق پوری دنیا سے ہے۔دوسری طرف جنگ بندی کے اعلان کے بعد اسرائیل کی پولیس نے مسجد اقصیٰ پر دھاوا بول دیا اور کمپاؤنڈ میں توڑ پھوڑ کی، جنگ بندی  اور  فتح کا جشن منانے کیلئے  ہزاروں فلسطینیوں پر اسرائیلی پولیس نے اانسو گیس کی شیلنگ کی اور ربر کی گولیان استعمال کیں۔غیر ملکی میڈیا پورٹ کے مطابق غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جمعے کو جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تاہم مقبوضہ بیت المقدس میں کشیدگی برقرار رہی جہاں اسرائیل کی پولیس نے مسجد اقصیٰ کے کمپاؤنڈمیں توڑ پھوڑ کی اور نمازیوں پر آنسو گیس کے شیل فائر کیے۔ جنگ بندی معاہدے کے بعد غزہ اور مقبوضہ علاقوں میں ہزاروں فلسطینی سڑکوں پر نکلے اور خوشی کا اظہار کیا۔دوسری جانب اسرائیل کی پولیس  نے مقبوضہ بیت المقدس کے اولڈ سٹی میں مسجد اقصیٰ کے کمپاؤنڈ میں توڑ پھوڑ کی جہاں رمضان میں بھی شدید کشیدگی رہی تھی۔عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ نماز جمعہ کے بعد کئی فلسطینی مسجد کے احاطے میں بیٹھے ہوئے تھے اور حماس اور اسرائیلی حکومت کے درمیان معاہدے پر خوشی کا اظہار کر رہے تھے۔ فلسطینی معاہدے پر جشن منارہے تھے  اسی دوران اسرائیلی پولیس کا دستہ کمپاؤنڈ میں داخل ہوا اور ہجوم کو اپنے روایتی طریقے کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔اسرائیلی پولیس نے فلسطینیوں پر اسٹین گرینیڈز، دھواں چھوڑنے والے بم اور آنسو گیس کے شیل فائر کیے، جس سے بھگدڑ مچ گئی۔مسجد اقصیٰ کے کمپاؤنڈ میں موجود ہزاروں افراد کو منتشر کرنے کیلئے انہوں نے فائرنگ بھی کی۔رپورٹ کے مطابق غزہ  میں امدادی کاموں میں مصروف کارکنوں نے تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے ایک بچے سمیت مزید 9 لاشیں نکالیں۔القرارا اور خان یونس سٹی کے شمال مشرقی علاقے میں 8 افراد کو ان کے گھر کے ملبے سے نکالا گیا، غزہ سٹی کے جنوب میں طال الہوا میں تین سالہ بچی کی لاش ان کے آبائی گھر کے ملبے سے ملی۔دوسری جانب سیز فائر کے بعد فلسطین میں بے گھر ہونے والے خاندان واپس اپنے تباہ حال گھروں کو لوٹنا شروع ہوگئے، کئی عمارتوں کو چادروں کی دیوار سے رہنے کے قابل بنایا گیا تاہم یہاں کھانے پینے کی اشیاء کا فقدان ہے یورپی یونین نے فلسطینی علاقے غزہ اور اس کے ارد گرد 11 روز سے جاری تشدد کو ختم کرنے کیلئے اعلان کردہ جنگ بندی کا خیر مقدم کیا ہے اس حوالے سے یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزپ بوریل نے مصر، قطر، اقوام متحدہ، امریکا اور دیگر کئی ریاستوں کی جانب سے اس جنگ بندی کے لیے سہولت کاری کرنے پر ان کی تعریف بھی کی ہے۔انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کو گزشتہ 11 دنوں میں ہونے والے جانی نقصان پر انتہائی افسوس ہے۔غزہ کی صورتحال ایک طویل عرصے سے غیر مستحکم ہے۔ اس لیے یورپی یونین نے اس بات کو مسلسل دہرایا ہے کہ صرف ایک سیاسی حل ہی پائیدار امن لائے گا اور فلسطین اور اسرائیل کے باہمی تنازعے کا ایک بار ہی خاتمہ ہوگا۔پاکستان اور اقوام متحدہ نے حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ توقع ظاہر کی کہ اس سے مسئلہ فلسطین کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے میں مدد ملے گی۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوئترس کے ساتھ ملاقات کی اور انھیں نہتے فلسطینیوں پر طاقت کے بے رحمانہ استعمال اور معصوم فلسطینی شہریوں، عورتوں اور بچوں کی شہادتوں پر گہری تشویش سے آگاہ کیا۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کے خلاف طاقت کے منظم اور بے دریغ استعمال کے نتیجے میں 250 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد ہزاروں میں بتائی جا رہی ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ میرے اس دورے کا مقصد جنرل اسمبلی کے ہنگامی اجلاس میں شرکت کے ذریعے نہتے مظلوم فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کرنا  تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان فلسطینیوں کی حق خود ارادیت کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھنے کیلئے پر عزم ہے۔سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ نے "سیز فائر" کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ اس اعلان سے مسئلہ فلسطین کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے میں مدد ملے گی۔وزیر خارجہ نے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، کشمیری رہنماؤں کی غیر قانونی نظر بندیوں اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشیا میں مستقل قیام امن کیلئے مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں حل، ناگزیر ہے۔دریں اثنافلسطینی کے وزیر اعظم محمد اشتیہ نے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی جارحیت روکنے کے لیے مصر کے زیر قیادت بین الاقوامی کوششوں کی کامیابی کا خیر مقدم کیا ہے۔غزہ کی پٹی کے باسیوں کے لیے اسرائیلی بم باری کے 11روز کسی قیامت سے کم نہ تھے۔ اس دوران میں 20فلسطینی گھرانے مکمل طور پر ختم ہو گئے۔ علاوہ ازیں درجنوں بچے، عورتیں اور بوڑھے شہید ہوئے اور ہزاروں زخمی ہو گئے۔ غزہ کی پٹی میں تنصیبات، عمارتوں اور رہائشی ٹاوروں کو شدید نقصان پہنچا۔ درجنوں گھر اس طرح زمین بوس ہوئے کہ اس میں رہنے والے مکین ملبے تلے دب گئے۔فلسطینی وزیر اعظم نے ان تمام ممالک کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے فلسطینی صدر کی جانب سے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست پر مثبت جواب دیا۔ محمد اشتیہ نے کہا کہ "اجلاس بلانے کا مقصد ہمارے عوام کے خلاف جارحیت کو روکنا تھا۔ سلامتی کونسل کے جارحیت رکوانے کی قرار داد جاری کرنے میں ناکامی کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس منعقد کیا گیا"۔فلسطینی وزیر اعظم نے برادر اور دوست ممالک کے مندوبین کی تقاریر کو سراہا جنہوں نے غزہ کی پٹی میں شہریوں کے خلاف اسرائیل کی جانب سے مرتکب جنگی جرائم کو مسترد کر دیا۔ ان ممالک نے زور دیا کہ مسئلہ فلسطین کا سیاسی حل بین الاقوامی قانونی قرار دادوں کے مطابق تلاش کیا جائے۔بالخصوص برادر ملک مصر کی جانب سے اسرائیلی جارحیت رکوانے کے سلسلے میں کی جانے والی کوششیں قابل تحسین ہیں۔

مسجد اقصیٰ حملہ

مزید :

صفحہ اول -